پہاڑوں سے میدانوں کو واپسی

    انیسواں دن

الوداع ناران ۔۔ پہاڑ ہیں کہ مانتے نہیں

    ناران کی صبح بہت روشن تھی اور آسمان بالکل صاف۔جو تھوڑا بہت سامان ہوٹل کے کمرے میں لے گئے تھے ،جلدی جلدی گاڑی میں رکھا۔ ہوٹل  کی پارکنگ سے نکلے  ،بازار میں ناشتہ کیا اور 9 بجے کے بعد ناران کو الوداع کہہ کر روانہ ہوگئے۔ ناران سے نکلنے کے  فوراً بعدسڑک کنارے  اکا دکا گلیشیئرز سے بعد مختصرسی سلام دعا ہوئی۔پرسوں بابوسر سے ناران  کے سفر کے دوران   ان سے خاصی طویل ملاقاتیں کرچکے تھے۔ایک گھنٹے سے قبل ہی کاغان کے قریب جا پہنچے کہ سڑک تو بہتر تھی ہی ،کوئی مشکل اور رکاوٹ بھی آج ہماری راہ میں حائل نہ تھی۔آخری بار کاغان کے قصبے سے 2004 میں  ناران جاتے ہوئے  گزرے  تھے، دس سال کے طویل عرصے بعد کاغان کو دیکھا تو بدلا بدلا لگا۔عمارتوں اور ہوٹلوں کی تعداد کچھ بڑھ گئی تھی، بازار بھی پہلے کی نسبت زیادہ بارونق تھا،پھر بھی کاغان ناران جتنی تیزی سے نہ پھیل پایا تھا۔




    کاغان کے انداز میں زیادہ تبدیلی نہ آنے کا بڑا سبب ناران  کی بھرپور کشش تھی  کہ وہ سیاحو ں کے قدم یہاں رکنے ہی نہیں دیتی،مسافر وینز ہو ں یا سیاحوں کی گاڑیاں ،تقریباً سب ہی کاغان کے قصبے  کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سیدھا ناران پہنچ کر ہی دم لیتی  ہیں۔میں بھی آج سے 31 سال قبل 1983 میں صرف   ایک بار ہی یہاں رکا تھا،جب اپنے دو دوستوں اورچھوٹے بھائی کے ساتھ 2   موٹر سائیکلوں پر ہم یہاں پہنچے تھے۔غالباً  مارچ کا آخر تھا یا اپریل کا آغاز، کاغان کے آگے ناران تک کا راستہ برف کے باعث بند تھا۔ناران تک پہنچنے کی راہ مسدود ہونے کے باعث ہم ایک رات یہاں  ہوٹل میں قیام  پر مجبور ہو گئے تھے۔دریائے کنہار کے دونوں طرف برف کی چادریں بچھی تھیں  ، ہم دریا کنارے ان سفید چادروں پر گھومتے پھرے تھے اور اگلے ہی روز یہاں سے واپس راولپنڈی روانہ ہوگئے تھے۔



    آج بھی ہم یہاں رکے بغیر مختصر سے بازار سے  ہوتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ 11 بجے کے بعد کیوائی پہنچے تو پہاڑوں سے اترتے شفاف پانی کے نالے میں بچھی چارپائیوں اور میز کرسیوں  کے حسین  نظارے نے  ہماری گاڑی کے بڑھتےقدم روک دئیے  ۔کیوائی سے گزریں اور نالے میں بہتےیخ پانی کے جھرنے اورگنگناتی آبشار سے نہ ملیں ،یہ ناممکن ہے۔ آدھا پون گھنٹہ کیوائی کے اس بارونق مقام پر رکے اور  چائے کا ایک ایک کپ پی کر یہاں سے روانہ ہوئے۔ 








اپنی تینوں بیٹیوں کے ساتھ 2004 کے سفر کے دوران ناران سے واپسی پر ہم شوگران اور سری پائے جانے کے لئے کیوائی پر اترگئے تھے ۔بالاکوٹ کی نسبتاً  نشیب میں واقع وادی سے بابوسر کی بلندیوں کا رخ کریں تواس  راہ پر پہلا بڑا جنکشن کیوائی کا ہی آتا ہے۔سخت گرمیوں کے موسم میں سیاح کیوائی کے اس نالے  میں بہتے یخ پانی  میں پائوں بھگو کر ہی   فرحت بخش وادی کاغان کی پہلی ٹھنڈک   کو چھو تے  اور سکون و راحت کو جسم وجاں میں اتارتے ہیں۔

کیوائی ۔۔۔ 2004 کی خوشگوار یاد ۔۔


آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ہی ہم بالاکوٹ کی حدود کے قریب جا پہنچے۔سڑک آہستہ آہستہ اب  نیچے اترتی تھی۔ دائیں طرف نشیب میں  دریائے کنہار کے دونوں اطراف بالاکوٹ کی آبادی    دکھائی دینے لگی تھی۔ہم مسلسل  موڑ در موڑ بلندیوں سے نشیب کی طرف بڑھتے تھے ،ادھر دوپہر  کا وقت ہونے کے ساتھ ساتھ سورج کی تمازت  میں بھی  اضافہ ہوتا  تھا۔ساڑھے بارہ بجے کے قریب ہم  بالاکوٹ کے عین درمیان واقع دریائے کنہار کا پل عبور کرکے شہرکےپر رونق بازار میں داخل ہوگئے۔
اپنے2004 کے سفرمیں شوگران اور سری پائے سے واپسی پر کیوائی سے ہوتے ہوئے بالاکوٹ پہنچنے کے بعد ہم  دوپہر کے کھانے کے لئے  کچھ دیر ایک ہوٹل میں رکے تھے۔ہوٹل کے عقب سے اس کے بالکل قریب ہی نشیب میں بہتا  دریائے   کنہار نظر آتا تھا۔   تب با لاکوٹ سے  نکل کرمظفر آباد جانے کے لئے  ہم نے گڑھی حبیب اللہ کا رخ   کیا تھا۔آج ہم بازار میں کہیں ٹہرے بنا ہی آگے بڑھتے چلے گئے۔2004 کا بالاکوٹ  آج کی بہ نسبت بہت مختلف تھا۔2005 کے تباہ کن زلزلے نے اس پورے شہر میں بے حد تباہی مچائی تھی۔بہت زیادہ جانی ومالی نقصان کے ساتھ ساتھ پورا شہر الٹ پلٹ کر رہ گیا تھا۔
سال 1988 میں ہم مری سے براستہ کوہالہ مظفر آباد پہنچےتھے۔بعد میں ہم نے مظفر آباد سے ناران کا رخ کیا تھا۔ مظفر آباد میں ہمارے مہربان  میزبانوں نے  اپنی گاڑی  کے ذریعے ہمیں بالاکوٹ پہنچوا دیا تھا۔ وہ  رات ہم نے  بالاکوٹ میں ہی گزاری تھی۔ اس زمانے میں بالاکوٹ سے نکل کر دریائے کنہار کا پل عبور کرنے کے فوراً بعد ایک تنگ سڑک  سامنے دکھائی دیتے بلند پہاڑ کی انتہائی سخت چڑھائی چڑھا کرتی تھی۔   1988 کے سفر کے دوران بالاکوٹ میں گزرنے والی وہ تاریک شب مجھے آج تک یاد ہے کہ جب میں اور ہمسفر ہوٹل کی بالکونی میں بیٹھے تھے۔اس زمانے میں بالاکوٹ اتنا پر رونق اور روشن نہیں ہوا کرتا تھا۔چاند کی بھی شروع یاآخرکی تاریخیں تھیں۔سیاہ آسمان اور قصبے کے سامنے موجود بلند پہاڑ باہم مدغم ہوکر ایک ہو گئے تھے۔ کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ پہاڑ کی چوٹی کہاں ختم ہوئی اور آسمان کہاں سے شروع ہوا۔کچھ ستارے آسمان کی بلندیوں میں جھلملاتے تھے۔لیکن اکادکا ستاروں کی جھلملاہٹ کچھ عجیب سی تھی ۔میں نے ہمسفر کو بتایا کہ وہ ستارے نہیں بلکہ پہاڑ پر موجود گھروں کی روشن بتیاں ہیں۔میں  چونکہ اس سے قبل بھی دو تین بار بالاکوٹ آچکا تھا اس لئے مجھے اس بات کا علم تھا،ہمسفر آسمان پر جھلملاتے ستاروں کی مانند  نظر آتی  ان بتیوں کو حیرت سے دیکھتی تھی۔کبھی کبھار پہاڑ پر چڑھتی سڑک پر کسی گاڑی کی لائیٹ بھی انتہائی بلندی پر گھومتی پھرتی دکھائی دے جاتی۔رات کے بعد صبح کی روشنی پھیلی تو پہاڑ کی بلندی پر واقع گھرننھے منے گھروندوں کی صورت نظر آنے لگے۔ 
اس  سے قبل میں 1983 میں اپنے دو دوستوں اور چھوٹے بھائی کے ہمراہ  موٹر سائیکلوں پر یہاں پہنچا تھا۔ کراچی سے ہم نے اپنی دو ہنڈا سیونٹیز  لاہور تک کے لئے ٹرین سےبک  کروائی تھیں اور پھر لاہور سے کاغان کے لئےہم موٹرسائیکلوں پر روانہ ہوئے تھے۔بالاکوٹ  پہنچے تویہاں سے آگے دکھائی دیتی کٹھن چڑھائی دیکھ کر ہم نے اپنے ایک ساتھی کو بذریعہ بس کاغان روانہ کیا تھا۔کاغان سے قبل مہانڈری کی بلند اور خطرناک چڑھائی پر سڑک   کی  حالت خراب ہونے کے باعث ہمیں بہت مشکل پیش آئی تھی۔ 
   بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سڑکیں اور شاہراہیں بہتر ہوتی چلی گئیں۔بالاکوٹ سے وادی کاغان کا رخ کرتی اس سڑک کی قسمت بھی جاگی۔ دریا پر نئے پختہ پل کی تعمیر کے ساتھ ساتھ  یکدم بلندی  اختیار کرنے والی اس سڑک   کوبھی   ذرا گھما پھرا کر پہاڑ پر چڑھایا گیا ،جس کے باعث اس کی  کٹھنائی  کافی  حد تک کم ہو گئی۔ سڑک بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ کشادہ بھی  ہوگئی۔ 






  بالاکوٹ کی حدود سے نکلے تو بلند وبالا پہاڑوں کے درمیان اونچی نیچی بل کھاتی راہ کا ساتھ چھوٹ گیا۔ گو کہ دریائے کنہار اب بھی سڑک کے ساتھ ساتھ بائیں جانب بہتا تھا لیکن  سڑک اور اس کے درمیان جا بجا آبادیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ شاندار سڑک پر ہم تیزرفتاری سے آگے بڑھتے تھے۔ وادی کاغان کی بلندیوں سے نیچے  تو اترے ہی تھے ، ادھردوپہر بھی اپنے شباب کو  پہنچ رہی تھی۔ایک جگہ سڑک  کے بالکل ساتھ ہی بائیں طرف کسی  ہوٹل کی چاردیواری دکھائی دی ۔ سوچا کہ کچھ دیر سستا نے کے ساتھ چائے بھی پی لی جائے۔ 
   میں گاڑی چاردیواری  کے کھلے گیٹ سے اندر لے گیا۔ نیچے اترے تو ہوٹل توموجود تھا لیکن بالکل ویران، اندر نہ کوئی  آدم نہ آدم زاد۔ ایک طرف برآمدے نما کھلی  جگہ پر میز کرسیاں  موجود، قریب ہی  واش بیسن لگا ہوا اورواش روم بھی کھلا ۔ سوچا کہ  ہمیں ہوٹل میں داخل ہوتا دیکھ کر ہوٹل کا کوئی نہ کوئی  رکھوالا جلد یا بدیر ادھر کا رخ کر ہی لے گا۔ ہم ہاتھ منہ دھو کر کچھ تازہ دم بھی ہولئے لیکن ہوٹل کا عالم ہو جیسا تھا ویسا ہی رہا۔ ادھر ادھر نظریں گھمائیں ، جھانکا تانکا بھی لیکن  بھری دوپہر میں عین سڑک کنارے واقع ہوٹل کے اس  سناٹے کا بھید نہ کھل سکا۔ زیادہ تجسس میں پڑنے کے بجائے ہم نے مزید وقت ضائع کئے بغیر یہاں سے رخصت ہونا ہی بہتر جانا۔
   ۔تقریباً ایک بجے بسیان موڑ پہنچے۔ مانسہرہ جانے کے لئے ہم یہاں سے دائیں طرف  کا رخ کرتی سڑک پر مڑ گئے  کیونکہ دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ جانے والی سیدھی راہ گڑھی حبیب اللہ کے قصبے کو جاتی تھی۔ 80 کی دہائی میں جب بھی میں مانسہرہ سے بالاکوٹ آیا تھا تو مانسہرہ سے نکل کر کچھ فاصلہ طے کر کے سڑک چیڑ اور دیودار کے لمبے لمبے درختوں کے گھنے جنگل سے مزین پہاڑی دروں میں چڑھتی اور گھومتی   پھرتی پہلے گڑھی حبیب اللہ کے قریب پہنچتی تھی  جہاں سے ایک راستہ مظفر آباد جانے کے لئے دریائے کنہار کو پار کر کے دائیں طرف مڑ جاتا تھا  جبکہ بالاکوٹ کے لئے دریا کے بائیں کنارے کے ساتھ ساتھ جاتی راہ پر سفر کرنا ہوتا تھا۔ 
   بسیان موڑ سے دائیں طرف کا رخ کرتا یہ راستہ غالباً 90 کی دہائی میں  تعمیر ہوا تھا۔ یہ راستہ بھی پہاڑی دروں میں چڑھتا اور گھومتا آگے بڑھتا تھا لیکن یہ درے زیادہ بلند اور دشوار نہ تھے۔ چیڑ اور دیودار کے درخت ان  سرسبز پہاڑوں پر بھی  تھے لیکن یہ کسی  گھنے جنگل کی طرح پھیلے ہوئے نہ تھے ۔ راستہ بہر حال  خوبصورت تھا ، ہم ایک بار پھر کچھ بلندیوں پر پہنچ کر ہرے بھرے درختوں کے ساتھ ساتھ گھومتے پھرتے آگے بڑھنا شروع ہوئے تو سورج کی تمازت میں بھی کچھ کمی سی محسوس ہونے لگی۔
    سڑک بہترین تھی ، ہم تیزرفتاری سے سفر کرتے ہوئے جابہ،عطر شیشہ  ، چٹہ بٹہ اور دیگر آبادیوں کے درمیان  سے  گزرتے ہوئےآگے بڑھتے  رہے۔ پونے دو بجے کے قریب ہم مانسہرہ  کی حدود کے قریب پہنچ گئے۔ سڑک ابھی بلندی سے ہی گزر رہی تھی کہ ہمیں نشیب میں  دور دور تک پھیلے مانسہرہ شہر کی آبادی دکھائی دینے لگی۔




   شمال کے پہاڑی  علاقوں سے جنوب کے میدانوں کی طرف واپسی کا سفر ہمیں  رفتہ رفتہ بلندیوں سے نشیب میں لے جارہا تھا۔  وادی کاغان کی بلندیوں سے اترے  تو کچھ نشیب میں جاکر بالاکوٹ پہنچے ۔ وہاں سے چلے تو اب نگاہوں کے سامنے مزید نشیب میں نظر آتا مانسہرہ  ہمارا منتظر تھا۔ سڑک آہستہ آہستہ نیچے اترنا شروع ہوئی۔ مانسہرہ کی مضافاتی بستیوں کا آغاز ہوا۔ اب تک کے سفر کے دوران بار بار سڑک کو اپنی ٹھنڈی چھائوں میں پناہ دیتےدرختوں اور سرسبز پہاڑوں کی قربت دوری میں بدلی تو دوپہر کی برستی دھوپ  دھڑلے سے ستانے لگی۔
    سفر کا منصوبہ بناتے وقت گوگل میپ پر غور و خوض کرکے   یہ پتہ چلا لیا تھا کہ شہر کے رش سے  بچ بچا کر مانسہرہ کی حدودکے باہر ہی باہر سے گھومتا بائی پاس ہمیں  ایبٹ آباد کا رخ کرتی شاہراہ قراقرم پر پہنچا سکتا ہے۔ اس بائی پاس پر سفر کا میرا یہ پہلا اتفاق تھا  ۔مانسہرہ کی حدود میں داخل ہوتے ہی ایک سی این جی  پمپ پر نظر پڑی ۔ گاڑی میں گیس بھروانے کے ساتھ ہی میں نے  اپنی تسلی کے لئےپمپ والے سے بائی پاس کی بابت  بھی  معلوم کیا۔ اطمینان ہوگیاکہ ہم  بالکل درست راہ پر گامزن تھے۔ میری نظریں پمپ کے قریب ہی کسی مکینک کو بھی ڈھونڈتی تھیں کہ  کسی طرح سائلنسر کے گلے کی خرابی کے باعث نکلنے والی ہلکی ہلکی بے سری آوازوں کا علاج کرا سکوں ۔ یہاں تو اریب قریب کوئی معالج نہ مل سکا،البتہ بائی پاس کے اختتام  کے پاس ایک کلینک نظر آگیا۔ اچھی بات یہ تھی کہ قریب ہی سڑک کنارے ایک چھوٹا سا درخت  موجود تھا۔ ہمسفر نےاس کی چھائوں تلے رکھی کرسی سنبھال لی۔
  بابوسر سے لولوسر تک کی راہ کی  گلیشیائی ندیوں کے پتھروں نےسائلنسر کے پائپ کو بھی ہلکی پھلکی زک پہنچائی تھی۔ ناران کے مکینک نے پائپ میں ہوجانے والے اکا دکا سوراخوں کو بند نہیں کیا تھا۔ آدھا گھنٹہ سائلنسر کی مرمت میں لگ گیا۔ ڈھائی بجے کےبعد  یہاں سے چلے۔ ہم  اب شاہراہ قراقرم پرایبٹ آباد کی سمت رواں دواں تھے۔ شاہراہ قراقرم پر چلنے والے مال بردار ٹرکوں اور ٹرالروں کے ساتھ  ساتھ مانسہرہ اور ایبٹ آباد  کے درمیان سفر کرتی گاڑیاں بھی اب ہماری ہمراہ تھیں۔ بڑھتے ہوئے رش کی بنا پرہماری رفتار کچھ کم ہوئی  تو گرمی نے بھی مزید زور دکھانا شروع کر دیا۔ 
   قلندرآباد  کے بازار کے درمیان سے گزرے تو سڑک کے دونوں اطراف چپلی کبابوں کی کڑھائیوں سے اٹھنے والی اشتہا انگیز خوشبو سیدھی ہمارے بھوکے پیٹ تک جا پہنچی۔ پیٹ کی التجا سننے کا فائدہ یہ ہوا کہ وقتی طور پرہی سہی ٹریفک کے رش سے جان تو بچی ہی، کھانے کے ساتھ ساتھ کچھ دیر ایک چھوٹے سے ہوٹل  کے پیڈسٹل فین  کے سامنے بیٹھ کر سستانے کا موقع  بھی مل گیا۔
   تین بجے کے بعد قلندرآباد کے بازار سے نکل کر ایک بار پھر انہی  مشکلات میں گھرے آگے کی طرف بڑھے۔ سڑک کے دونوں اطراف خاصے فاصلے پر دکھائی دیتے سرسبز پہاڑ ہمیں دیکھتے تھے لیکن اتنی دور سے ہماری کوئی مدد نہ کر سکتے تھے۔ میری نظر ان پر پڑی توان کی صدا  کانوں میں  پہنچی۔
"کیوں پریشان ہوتے ہو ،لوٹ آئو ہماری طرف''
میں نے انہیں سمجھایا۔ 
''ہماری بہت سی  مجبوریاں ہیں ،ہم زنجیروں سے بندھے ہیں ، ہمیں جنوب کی سمت لوٹنا ہی ہوگا۔ تمہاری محبت بھری پکار اپنی جگہ لیکن اب اس پکار پر لبیک کہنا اور تمہاری بات ماننا ہمارے اختیار میں نہیں''
 ہمسفر کو کچھ پتہ نہ تھا کہ میں کھڑکی سے باہر دور کسے تکتا ہوں ، کس کی پکار میرے کانوں تک پہنچتی ہے  اورمیں کسے اپنی مجبوری سے آگاہ کرنے کی کوشش میں لگا ہوں۔ادھر پہاڑ تھے کہ مانتے ہی نہ تھے۔
  ایبٹ آباد قریب آیا تو ایک چوک کے سگنل کے پاس میں گاڑی روک کر اترا۔قریب سے گزرتے راہگیر سے دریافت کیاکہ نتھیاگلی جانے والا راستہ کہاں سے مڑے گا۔ 
جواب ملا ۔۔۔ اگلے چوک سے ۔۔۔
ہم اپنے مرتب کردہ  پلان سے دو تین  دن قبل ہی واپسی  کا سفر طے کر رہے تھے۔ دل نےاچانک ہی  پہاڑوں کی پکار پر لبیک کہنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ دل کی بات کچھ اتنی بے جا بھی نہ تھی۔ اسلام آباد تو جانا ہی تھا تو کیوں نہ  براستہ حویلیاں ،ہزارہ اور حسن ابدال والے گرم راستے پرسفر کےبجائے نتھیاگلی اور مری والی ٹھنڈی راہ  اختیار کی جائے۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو ہمسفر نے اچھنبے سے پوچھا۔
'' کیا ہوا ؟''
''راستے کے بارے میں معلوم کر رہا تھا کہ کہیں کسی غلط راہ پر نہ نکل جائیں۔''
میں نے فوری طور پر اسے اس تبدیلی راہ کی نیت سے آگاہ کرنا مناسب نہ سمجھا کہ بابوسر سے لولوسر کے خطرناک ترین  سفر کے بعد میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ آگے کے سفر کے حوالے سے پھر کسی تشویش یا خدشے میں  مبتلا ہو۔
اگلا چوک  آیا اور میں خاموشی سے  بائیں طرف مڑ گیا۔
یہ راہ جلد ہی ہمیں ایبٹ آباد کی حدود سے باہر لیتی چلی گئی۔جوں جوں آگے بڑھتے گئے ، پہاڑ پھر سے قریب آتے گئے۔اپنی بات مان لینے پر وہ  مجھے محبت پاش نظروں سے دیکھتے تھے۔ بلندیوں کی طرف بڑھتی بل کھاتی راہ کا آغاز ہوا تو ہمسفر نے مجھے بار بار حیرت سے دیکھنا شروع کیا۔ میرے پاس اب اسے پہاڑوں کی طرف سے آنے والا تازہ ترین محبت نامہ  تھما دینے کے علاوہ کوئی اورچارہ نہ تھا ۔ خلاف توقع اس کا رد عمل بہتر ہی رہا، کچھ تشویش تھی بھی تو صرف گاڑی کی کیفیت کے حوالے سے تھی، جو میرے اطمینان دلانے کے بعد بآسانی رفع ہو گئی۔

   سرسبز پہاڑوں کے بیچ راہ اوپر چڑھتی تو تھی لیکن گرمی کی شدت تھی کہ کسی طور کم نہ ہوتی تھی۔ سہ پہر آہستہ آہستہ ڈھلنے لگی اور ہم بلند سے بلند تر ہوئے تو ہوا میں گرمی کا تاثر زائل ہونا شروع ہوا۔ساڑھے 4 بجے کے قریب ایک جگہ بائیں طرف کے بلندسرسبز پہاڑ کے ساتھ ہی ایک نالہ بہتا دکھائی دیا تو میں نے پہاڑ کی ٹھنڈی چھائوں میں گاڑی روک دی کہ کچھ پل یہاں رک کر ہم بھی سستالیں اورشدید گرمی میں مسلسل چڑھائی چڑھتی گاڑی کا انجن بھی کچھ ٹھنڈا ہوسکے۔ پہاڑ پر موجود درختوں میں ایک دو بندر بھی ادھر سے ادھر چھلانگیں لگاتے نظر آئے لیکن ہمیں گاڑی سے اترتا دیکھ کر گھنے درختوں میں غائب ہوگئے۔ سرسبز پہاڑ کی ٹھنڈی چھائوں، گرمی کی شدت میں کمی  اور بندروں کے ہلکے  پھلکے تماشے نے ماحول کو کم ازکم اتنا خوشگوار ضرور بنادیا کہ صرف آدھا گھنٹہ قبل  گرمی سے بوکھلائی  ہوئی ہم سفرکے چہرے پر مسکان بکھر گئی۔



    ہم نے کچھ اور بلندیاں طے کیں ،سہ پہر کچھ اور ڈھلی ،ادھرسورج نے بھی رفتہ رفتہ پہاڑوں پر سجے چیڑ اور دیودار کے لمبے لمبے درختوں کی چلمن میں اپنا مکھڑا چھپانا شروع کیا تو ہوا کی حدت دم توڑنے لگی۔ دس پندرہ منٹ بعد ہی ہم ایک اور خوبصورت موڑ پر جا پہنچے۔سڑک کنارے ایک ہوٹل اور اس سے متصل مسجد بنی تھی۔ ہوٹل کے قریب سڑک کے ساتھ ہی لگا سائن بورڈ بتاتا تھا کہ یہ مقام باڑہ گلی میں واقع ہے۔سڑک ہماری نظروں کے عین سامنے بائیں طرف مڑ رہی تھی ۔میں نے گاڑی دائیں جانب پہاڑ کی چھائوں میں بنی کھلی جگہ پر روک دی جہاں کچھ میز کرسیاں بھی رکھی تھیں۔گرمی تو ختم ہوہی چلی تھی ،نتھیاگلی کی راہ کے اس حسین موڑ پر چائے کا ایک ایک کپ پی کر دن بھر کے سفر کی سب تکان بھی رخصت ہو گئی۔




    یہاں سے نکل کر بمشکل 10 منٹ بعد ہی ہم کالاباغ کے پی اے ایف ائر بیس کے قریب سے گزرے ۔بند گیٹ کے اوپر سے اندر موجود سبزہ زار پر رکھے گئے ہوائی جہاز کاصرف اوپری حصہ ہمیں دکھائی دیا۔ سن 2000 میں بھی ہم اپنی بیٹیوں کے ہمراہ ناران سے واپسی پر اسی راہ سے ہوکر اسلام آباد پہنچے تھے، تب یہ گیٹ کھلا ہوا تھا ۔ہم نےاس جہاز کے بالکل قریب ہی چھوٹے سے سرسبزمیدان میں کچھ وقت گزارا تھا۔آج وہ سبزہ زار قید تھا،بلند آہنی گیٹ پر سے جہاز کی ذرا سی جھلک دیکھتے ہوئے ہم آگے بڑھ گئے۔



کالاباغ  نزد نتھیا گلی ۔۔ سن 2000 ۔۔ ہمسفر اور پیاری بیٹیاں


 جب ہم ساڑھے 5 بجے کے قریب نتھیا گلی کی حدود میں داخل ہوئے تو سہ پہر شام میں ڈھلتی تھی، پہاڑ وں کی چوٹیوں سے جوق در جوق ڈھلانوں کی طرف اترتے چیڑ اور دیودار کے درختوں سے دھوپ غائب ہوتی تھی اوردرختوں کے سبز رنگ رفتہ رفتہ گہرے ہوتے جاتے تھے ۔ سڑک گھومتی پھرتی آگے بڑھتی تھی، اس کے دونوں اطراف دکانوں اور ہوٹلوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
    آج سے قبل چار پانچ بار نتھیاگلی آنا ہوا تھا۔ آخری بارسن 2000 میں آئے تھے ، آج نہ جانے کیوں مجھے اس کے بازار کی صفائی ستھرائی میں خاصی کمی لگی، ایسا بھی محسوس ہوا کہ درمیان سے گزرتی سڑک کا حسن بھی کچھ ماند پڑ گیا ہو۔ نتھیاگلی کا مخصوص خوابناک ماحول ، شام ہوتے ہی فضا میں رچ بسنے والی ٹھنڈک کے ساتھ درختوں کو اپنی سفید چادر اوڑھاتی ہلکی ہلکی دھند آج ہمیں کہیں دکھائی نہ دی۔ایسا لگا کہ بدلتے موسموں کے سخت تیور دیکھ کر نتھیا گلی کچھ سہم سی گئی ہو۔

   ہم ایک کے بعد دوسرے ہوٹل کا رخ کرکے جائزہ لیتے رہے کہ مناسب ریٹ میں کمرہ مل جائے، لیکن آج ہفتے کا دن ہونے کی وجہ سے کرائے زمین سے بلند ہو کر آسمان کا رخ کرتے تھے۔ یہ تو غنیمت تھا کہ ہم سر شام ہی یہاں آ وارد ہوئے تھے۔ اتوار کی چھٹی یہاں گزارنے کے لئے ایبٹ آباد ،پنڈی اور اسلام آباد سےنتھیاگلی کا رخ کرنے والے تو شام ڈھلے یا رات کے اریب قریب ہی یہاں پہنچ پاتے ہونگے۔ ایک ہوٹل مالک نے اسی صورتحال کے پیش نظر ہمیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریٹ کے مزید بڑھتے جانے کے خدشے سے آگاہ کیا تو ہم نہ صرف اس کے شکر گزار ہوئے بلکہ جھٹ سے اس کے ہوٹل میں کمرہ بھی لے لیا۔ ہمارا کمرہ دوسری منزل پر تھا جس کی بالکونی سے سے نتھیاگلی کے پر رونق بازار کا نظارہ بہت دلکش تھا۔





تقریباً نصف صدی پہلے کا قصہ ، سال 1967 کہ جب ہم پنجاب کےضلع رحیم یار خان کے چھوٹے سے گائوں ماچھی گوٹھ میں مقیم تھے ۔ پرائمری تک ایک کمرے کے مختصر سے اسکول میں پڑھا، نہ صرف گائوں میں اسکول ایک ،بلکہ سب مضمون پڑھانےکیلئے استاد بھی ایک۔ چھٹی جماعت کے لئے گائوں سے 5 کلومیٹر کی دوری پر واقع صادق آباد شہر کے اسکول میں داخلہ لینا پڑا،صبح صبح ایک پسنجر ٹرین سکھر سے خانپور کیلئے جایا کرتی تھی۔اس کا ماہانہ پاس بنوا لیا گیا۔صادق آباد سے واپسی کوئٹہ پسنجر سے ہوا کرتی تھی،اکثر ایسا ہوتا، ادھر اسکول کی چھٹی کی گھنٹی بجتی ،ادھر ٹرین ریلوے اسٹیشن پر پہنچ جایا کرتی۔ غنیمت تھا کہ اسکول اسٹیشن سے چند فرلانگ کی دوری پر تھا۔ میرے ہمراہ ہمارے گائوں کے مزید ایک دو لڑکے بھی اسی اسکول میں پڑھتے تھے۔ چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی بھاری بستے اپنی اپنی پیٹھوں پر لادے چلچلاتی دھوپ میں ہم اسٹیشن کی طرف دوڑ لگاتے،پلیٹ فارم پر داخلے کا مین گیٹ کچھ دوری پر تھا ، وہاں کا رخ کرتے تو ٹرین کبھی نہ پکڑ پاتے، سو پلیٹ فارم کے ساتھ لگی اونچی ریلنگ کو پھلانگنے کا مشکل مرحلہ بھی کسی نہ کسی طور طے کر تے۔ ٹرین کا گارڈ اکثر ہمیں  ریلنگ  پر چڑھ کر کودتے دیکھتا تو انجن ڈرائیور کوسبز جھنڈی دکھاتے دکھاتے نیچے کر لیتا اورہمیں پسینے میں شرابور ہانپتا کانپتا دیکھ کر سرخ جھنڈی ہلانے لگتا، اس طرح ہم دوڑ کر ٹر ین میں چڑھ پاتے۔کبھی ایسا بھی ہوتا کہ  ریلنگ سے کودتے وقت ہم میں سے کسی کے بستے سے کتابیں اور کاپیاں نکل کر پلیٹ فارم پر بکھر جاتیں۔جو ٹرین میں چڑھ گیا سو چڑھ گیا۔ لہراتی ہوئی سرخ جھنڈی دوبارہ سبز میں بدل جاتی۔ ٹرین روانہ ہوجاتی ، پلیٹ فارم پر حسرت سے ٹرین کو روانہ ہوتے  دیکھنے والا بچہ کتابیں سمیٹ کر بستے میں رکھتا اور پھر ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ہی پیدل گائوں کے لئے روانہ ہوجاتا۔ میں سب سے کم عمر تھا اس لئے پلیٹ فارم کو پیچھےچھوڑ کر اسٹیشن کی حدود سے دور جاتی ٹرین کو حسرت سے تکنے والا وہ بچہ عموماً میں ہی ہوا کرتا تھا۔ 
اس وقت ہماری انگریزی کی کتاب میں ایک سبق نتھیاگلی کے حوالے سے ہوا کرتا تھا۔ علی اور نسیمہ نام کے دو بہن بھائی گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے گھروالوں کے ساتھ نتھیاگلی کی سیر کوگئے تھے۔سبق والے صفحے پر نتھیاگلی کی ایک دو تصویریں بھی بنی تھیں۔ رحیم یار خان کے ریگستانی علاقے کی قیامت خیز گرمیوں کے دوران میں جب بھی وہ سبق پڑھتا اور تصویریں دیکھتا ، نتھیاگلی کےہرے بھرے بلندپہاڑوں پر بکھرے چیڑ کے لمبے لمبے سرسبز درختوں سے پھوٹتی ٹھنڈک میرے دل و دماغ میں سرایت کر جاتی۔تصور ہی تصور میں خود کو علی سمجھ کر نتھیاگلی پہنچ جایا کرتا،اس وقت نتھیاگلی کے بارے میں سوچنا بھی مجھے ایک خواب کی مانند لگتا تھا۔
بچپن کا خواب تھا ، اس لئے دماغ میں چپک کر رہ گیا تھا۔1984 میں جولائی کی آخری تاریخوں میں شادی ہوئی اور اگست کے پہلے ہی ہفتے میں ہم سفر کے ساتھ سب سے پہلے سیدھا نتھیا گلی کا رخ کیا۔بچپن میں نتھیا گلی کا جو تصور ذہن نے تراشا تھا ، اسے ویسا ہی خوبصورت پایا۔وہی رگ و پے میں اترتی ٹھنڈک ، سر شام سرسبز پہاڑوں پر پھیلے درختوں پر چپکے چپکے اترتی سفید دھند۔ مین روڈ سے کچھ مزید بلندی پر ہرے بھرے گھاس کے میدانوں کے بیچ گھومتی پھرتی حسین راہگزر، کہیں نشیب کی طرف اترتے دیدہ زیب کاٹیجز،ایک طرف دکھائی دیتی چرچ کی خوبصورت عمارت ، پھر اس خنک اور خوابناک ماحول میں انتہائی یادگار اور ناقابل فراموش گھڑسواری کا پر لطف تجربہ۔

پھر سن 2000 کا نتھیاگلی ، جب ہم اپنی تینوں بیٹیوں کے ہمراہ یہاں پہنچے ، تب بھی ہم نتھیاگلی کی حسین راہگزر پر گھومتے پھرتے تھے۔ وہی خنک موسم اور اپنے سحر میں جکڑتے خوبصورت اور مسحور کن نظارے۔








    ہوٹل کے کمرے میں نہا دھو کر تازہ دم ہوئے  تونتھیاگلی کی  پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لئے عصر  اور مغرب کے درمیان کا  انتہائی  مختصر سا    وقت  ہمارے پاس بچا تھا۔کیونکہ اگلے روز صبح سویرے  ہی  ہمیں آگے کے سفر پر روانہ ہوجانا تھا۔ سورج بلند پہاڑوں کے پیچھے غائب ہواتو ہر سو بکھرے سبزہ زاروں اور درختوں میں چھپی ہوئی خنکی نے نتھیاگلی کو لپیٹ میں لینا شروع کردیا۔ بالاکوٹ پہنچنے کے بعد سے مانسہرہ اور ایبٹ آباد سے گزرنے کے دوران تک ہم بار بار اپنے پسینے خشک کرتے تھے ،  یہاں نتھیاگلی  پہنچنے کے  بعدہوٹل سے   نکل کر باہر جانے کا ارادہ کیا تو بیگ سے گرم ٹوپیاں نکالنی پڑیں۔
    نیچے اترے تو مین روڈ کے ساتھ ساتھ بنی پارکنگ میں سیاحوں کی گاڑیوں کی لمبی  لائن لگ چکی تھی۔ کچھ لوگوں کو تو پارکنگ  کے لئے جگہ  تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا  بھی درپیش تھا۔14 سال کے طویل عرصے کے دوران نتھیاگلی کے مین  بازار کے درمیان سے گزرنے والی تنگ سڑک کے دونوں اطراف ہوٹلوں کی بھرمار ہو گئی تھی۔دکانوں کی تعدادمیں بھی خاصا اضافہ ہو گیا تھا۔بازار کے درمیان میں گاڑیوں کی پارکنگ کی غرض سے سڑک کے ساتھ ہی نیچے  اترتی ڈھلانوں سے متصل ایک چوتھائی کلومیٹر کے قریب جگہ چھوڑ دی گئی تھی ۔ اس کھلی جگہ  کی موجودگی کے باعث بازار سے نشیب کی طرف پھیلی پہاڑوں کی ڈھلانوں اور سرسبز درختوں کا سلسلہ    دکھائی دیتا تھا ۔اس طرح  بازار میں چہل قدمی کے دوران کم از کم اتنا یقین  ضرورہوجاتا تھا کہ ہم میدانی علاقے کے قصبے کے بجائے کسی ہل اسٹیشن کے بازار میں موجود ہیں۔ہوٹل اور دکانوں  کی تعداد میں ہونے والے اضافے کے باعث ہمیں   بازار میں صفائی کا وہ معیار دکھائی نہ دیا  جو اپنے  گزشتہ سفروں کے دوران نظر آیا تھا۔سڑک کے اطراف تعمیرات بڑھ جانے کی وجہ سے ہم اوپرموجود سبزہ زار ،چرچ اور کاٹیجز کو جانے والے راستے  تک بھی راہگیروں سے پوچھتے پچھاتے ہی پہنچ پائے۔
     بازار کے رش سے نکل  کرایک پارک کے اندر سے ہوتے ہوئے اچھی خاصی سیڑھیاں چڑھ کر ہم  نتھیاگلی کی مخصوص کھلی  اور آزاد مہکتی فضا میں پہنچے تو شام کے 7  بج چکے تھے۔ مغرب میں بمشکل نصف گھنٹہ باقی تھا۔شام کے سائے تیزی سے گہرے ہوتے جاتے تھے۔غنیمت تھا کہ نتھیاگلی کے اس دلکش  مقام کی خوبصورتی ابھی تک نہیں گہنائی تھی۔ چرچ کی عمارت کا حسن بھی اسی طرح   قائم و دائم ،البتہ  اس نے اپنا چولا بدل لیا تھا۔لمبے لمبے درختوں کے قریب گھومتے پھرتے خوبصور ت گھوڑے بھی اسی آن و شان سے  موجود، حسین راہگزر کے ساتھ ساتھ بنے ہوئے دیدہ زیب کاٹیجز بھی اسی  طرح درختوں تلے سجے ہوئے۔








    ناران سے روانہ ہونے کے بعد کیوائی کے ٹھنڈے جھرنوں میں گزارے گئے حسین لمحوں کے بعد نتھیاگلی کے  بلند سبزہ زار میں تیزی سے بڑھتی خنکی اور چاروں طرف بکھرے نظاروں  کا حسن بلاشبہ بہت سحر انگیز تھا۔ہم مغرب تک  یہاں گھوم پھر کراپنی پرانی یادوں کو تازہ  کرتے رہے۔ یہیں موجود ایک ہوٹل کی پہلی منزل پر بنے خوبصورت سے  ٹیرس میں مغرب کی نماز ادا کی ۔شام کی ڈوبتی روشنی تاریکی میں بدلنا شروع ہوئی تو  یہاں سے واپسی کا قصد کیا۔ابھی پارک کی سیڑھیوں سے نیچے  نہیں اترے تھے کہ نشیب میں دکھائی دیتے بازار میں ایک چھوٹے سے خوبصورت چائنیز ہوٹل کی عمارت دکھائی دی۔ فیصلہ ہوگیا کہ رات کا کھانا یہیں کھائیں گے۔



  نیچے پہنچے تو سیاحوں کی بڑھتی تعداد کے باعث بازار کی  رونق عروج  پر تھی۔ کچھ دیر کے لئے   اپنےہوٹل کے کمرے  کا رخ کیا اورمختصر سے آرام  کے بعد دوبارہ بازار  میں آگئے۔ ایسا لگا کہ ہم مری کی مال روڈ یا ناران کے بازار  میں گھومتے پھرتے ہوں۔ ہلکی ہلکی خنکی میں کون آئسکریم کھانے کو دل نہ چاہے یہ تو ممکن ہی نہیں۔اطراف کے پہاڑ وں میں تاریکی بڑھی تو سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا،خنکی کا کچھ احساس آئسکریم نے بھی جگایا،میرے پاس صرف مفلر تھا، کوئی جیکٹ اور سوئیٹر نہیں پہنا تھا ،سردی زیادہ محسوس ہوئی تو سوچا کہ دوبارہ ہوٹل  کا رخ کیا جائے  لیکن اچانک  نظرگرم کپڑوں کی   ایک دکان کے باہر لٹکتی جیکٹ  پر جا پڑی ،چنانچہ وہی جیکٹ  خرید  لی گئی۔



    کچھ دیر تک  مزید بازار میں ٹہلتے پھرنے کے بعد چائنیز ریسٹورنٹ کے گرم اور پرسکون ہال میں جا بیٹھے۔ریسٹورنٹ بھی خوبصورت تھا اور کھانا بھی پر ذائقہ۔ساڑھے 9 بجے کے بعد ریسٹورنٹ سے نکل کر ہوٹل کی راہ لی۔رات بڑھنے کے ساتھ ساتھ بازار کی رونق  بھی دو چند ہوتی تھی۔ ہفتے کی شب  تھی ، اتوار کی چھٹی یہاں بتانے کیلئے قریبی شہروں  کی رہائشی   فیملیز ایک تسلسل سے نتھیاگلی  میں وارد ہو رہی تھیں۔بازار کی جگمگاتی دکانوں میں گاہکوں کی تعداد بڑھتی جاتی تھی ۔ہمارے کمرے کی بالکنی سے ہوٹل کے عین سامنے دکھائی دیتا ریسٹورنٹ ڈنر میں مگن سیاحوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ سونے سے پہلے کافی  دیر تک ہم  بالکنی میں کھڑے نتھیاگلی کے بازار کی بھرپور رونق  او ر لمحہ بہ لمحہ بڑھتی خنکی سےلطف اندوز ہوتے رہے ۔