گلگت کی چہل پہل ۔۔ بابوسر کا ایڈونچر ۔۔ پہلے عشق ناران کے سنگ

تازہ ترین ۔۔ 18 واں دن  ۔۔  ناران ۔۔ ایک دن اپنی پہلی محبت کے نام ۔۔۔ رات ناران کے ہوٹل میں ۔۔۔

  سولہواں دن 
گلمت کے سکوت سے گلگت کی چہل پہل تک

    ہوٹل والوں کو رات سونے سے قبل ہی کہہ دیاتھا کہ ہم صبح سویرے عطاآباد جھیل کی طرف روانہ ہوجائیں گے تاکہ کنارے پر زیادہ رش ہونے سے پہلے پہلے ہی  گاڑی  کو کسی کشتی پر سوار کروا سکیں۔7بجے سے قبل ہی ہمارے لئے ناشتہ تیار کردیا گیا۔گلمت میں  وہی خاموشی  جیسی کہ کل شام دریا کنارے ٹھنڈی ٹھنڈی ریت پر چہل قدمی کرتے وقت تھی۔

    نیلگوں آسمان بالکل صاف اور صبح انتہائی روشن۔برف پوش چوٹیوں پر دھوپ چمکتی تھی۔جھیل کنارے اتنی صبح بھی خاصی رونق  تھی۔گاڑی سمیت کشتی میں سوار ہونے میں ہمیں آدھا گھنٹہ لگ گیا۔دھوپ بلند پہاڑوں کے طویل سایوں کو گھٹاتی ،تیزی سے نیچے اترتی ،گلمت اور ششکٹ  کی وادیوں اور جھیل پر پھیلتی جاتی تھی۔کشتی چونکہ اب دریا کے بہائو کے ساتھ چلتی تھی اس لئے فاصلے جلدسمٹتے تھے۔





    شاہراہ قراقرم کو جھیل پار کرانے کیلئے بائیں طرف نظر آتے بلند پہاڑوں کے درمیان سرنگوں کی تعمیر کا کام زور شور سے جاری تھا۔اتنی دشوار گزار بلندیوں اور پہاڑوں کی خطرناک ڈھلوانوں پر بھاری مشینری پہنچا کر راستہ بنانا بلاشبہ بہت ہمت اور حوصلے کی بات تھی۔ہم کشتی کے سفر کے دوران دور  چٹانوں کی بلندیوں پر نظر آتےپرعزم محنت کشوں کو داد دیتے تھے۔ایک گھنٹے بعد تقریباً سوا 9بجے ہم دوسرے کنارے کے قریب پہنچ گئے۔ ٹرکوں کی طویل لائن لگی تھی،سامان سے لدی کشتیاں بھی کثیر تعداد میں موجود تھیں، مزدور سامان ٹرکوں میں منتقل کر رہے تھے۔ہماری کشتی کودس پندرہ منٹ تک کنارے سے کچھ فاصلے پر رک کر انتظارکرنا پڑا۔ ٹرکوں کے رش کے درمیان سے ہم بمشکل  اپنی گاڑی کشتی سے اتار پائے۔بلندی کی طرف بل کھاتے کچے راستے کی کٹھن چڑھائی طے کرکے  شاہراہ قراقرم  پر پہنچے تو گھڑی 10 بجا چکی تھی۔








    سڑک تو بہترین تھی ہی ، زیادہ ترسفر بھی اب بلندیوں سے اتار کی جانب تھا۔تیزی  سےفاصلے طےکرتے ہوئے ہم  دوپہر کوساڑھے 12بجے کے قریب گلگت کے قریب دنیور چوک تک پہنچ گئے۔یہاں سے شاہراہ قراقرم کو چھوڑ کر گلگت شہر کی طرف جانے والی سڑک پر مڑے ،کچھ ہی فاصلہ طے کرکے پہلے دریائے ہنزہ پر موجود ایک پل کوپار کیا، پھر نلتر اور نومل سے گلگت کی طرف آنے والی سڑک پر چلتے ہوئے ایک چوک سے بائیں طرف مڑ ے اور دریائے گلگت کا پل عبور کرکے شہرکے بارونق  بازار میں داخل ہوگئے۔ کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ بائیں طرف شہر کی معروف این ایل آئی مارکیٹ نظر آئی ،جہاں پڑوسی ملک چین سے درآمد شدہ انواع واقسام کے سامان سے سجی دکانیں موجود تھیں۔ ہم بھی اس مارکیٹ سے کچھ خریداری کرنا چاہتے تھے، اس لئے مارکیٹ کے قریب ہی ایک مناسب ہوٹل میں پڑائو ڈال دیا۔کچھ دیر ہوٹل میں سستانے اور تازہ دم ہونے کے بعد ہم نے بازار کا رخ کیا۔ دوپہر کا کھانا بازار میں ہی ایک ہوٹل میں کھایا۔ایک ڈیڑھ گھنٹے تک مارکیٹ کی دکانوں میں گھوم پھر کر اپنی مختصر سی گاڑی کی گنجائش کے مطابق ہلکی پھلکی خریداری کی۔گلگت کی یہ سہ پہر خاصی گرم تھی۔واپس اپنے ہوٹل میں جاکر عصر تک آرام کیا اور پھر شہر میں آوارہ گردی کیلئے نکل گئے۔ 
    خنجراب کے برف زاروں اور میدانوں میں یاکوں سے بھی ملاقات کرچکے تھے ،مارموٹوں سے بھی سلام دعا ہوچکی تھی، برفانی چیتوں سےتو دوری ہی بھلی تھی، مارخور وں کو کہیں نہیں دیکھ پائے تھے سو وہ گلگت کے بازار میں ہی واقع ایک ہوٹل کے لائونج میں ہمارے منتظر تھے۔ پوست کی حد تک تو یقیناً وہ حقیقی تھےلیکن گوشت کے بجائے بے چاروں میں بھس بھرا تھا۔ بہرحال تھے وہ مکمل مارخور ،لمبے لمبے سینگوں ،بڑی بڑی آنکھوں اور چھوٹی چھوٹی دموں والے عظیم الجثہ مارخور۔




    ہم بازارکی چہل پہل میں گم تھے  کہ اچانک خیال آیا کہ گاڑی کا آئل  بھی بدلوانا ضروری ہے۔ ہمسفر کو ہوٹل میں چھوڑ کر بازار میں واپس آیا تو مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ہی اندھیرا پھیلتا تھا۔ دکانیں تیزی سے بند ہوتی جاتی تھیں۔ ایک دکان سے آئل خریدا تو پتہ چلا کہ بازار میں صرف چند ہی ورکشاپ  موجو دہیں جو کہ مغرب کے بعد بند ہوجاتی ہیں، بمشکل ایک مکینک ہاتھ لگا جو ورکشاپ بند کر کے نکلنے کی تیاری کررہا تھا۔ جس گلی میں اس کی ورکشاپ تھی وہاں مکمل اندھیرا تھا۔ اپنے موبائل کی ٹارچ کی روشنی میں اس نے آئل فلٹر کھولنے کی بہت کوشش کی لیکن آدھے پون گھنٹے کی تگ و دو کے بعد بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ مجبوراًصرف آئل تبدیل کرانے پر ہی اکتفا کیا۔ارادہ تھا کہ رات کا کھانا پھر بازار میں ہی کسی ہوٹل میں کھائیں گے لیکن سہ پہر سے عصر تک این ایل آئی مارکیٹ میں گھومتے پھرنے،عصر کے بعد شہر میں آوارہ گردی اور آخر میں تقریباً ایک گھنٹے تک گاڑی کا آئل تبدیل کروانے کی تگ ودو کے بعد ہوٹل  کے کمرے میں پہنچ کر مجھےپھر بازار کا رخ کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ چنانچہ کھانا اپنے ہوٹل کے ہی ڈائننگ ہال میں کھایا، کھانے کے بعد جلد بستر کی راہ لی کہ  حسب معمول پھرصبح سویرے گلگت سے روانگی کا  ارادہ تھا۔



سترہواں دن
بابوسر سے لولوسر جھیل ۔۔ کٹھن ترین ایڈونچر

     صبح 7 بجے گلگت کے ہوٹل سے روانہ ہوئے۔ناشتہ شہر کی حدود سے نکلنے سے قبل ہی ایک چھوٹے سے ہوٹل میں کیا ۔ جگلوٹ سے کچھ پہلے پونے نو بجے کے قریب شمالی علاقوں کے تین عظیم پہاڑی سلسلوں ہندوکش،قراقرم اور ہمالیہ کے سنگم پر تعمیرکردہ  چھوٹی سی یادگار پر کچھ دیر کیلئے رکے۔اپنے گزشتہ سفروں کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کی وجہ سے صرف بس کی کھڑکی سے ہی اس یادگار کو دیکھ پائے تھے۔اس مقام پر ٹہر کر کچھ پل گزارنے کو دل بہت مچلتا تھا لیکن لمحہ بھر کیلئےنظر کے سامنے آنے اور پھر دور ہوتی اس یادگار کے ساتھ ساتھ ہمارا سر بھی اس کےنگاہوں سے اوجھل ہونے تک بس کی کھڑکی سے ممکنہ حد تک پیچھے گھومتا تھا  ،پھر ہم صبر کا میٹھا گھونٹ بھر کرتیزی سے فلم کے سین کی طرح بدلتےقدرت کے بکھرے نظاروں میں کھو جاتے تھے۔اس سفر کے دوران استور سے اسکردو جاتے وقت ہم یہ یادگار نہ دیکھ پائے تھے،میرا دھیان غالباً سڑک پر رہا،اتفاق سے ہمسفر کی نظر بھی نہ پڑ سکی۔ آج اسکردو کی طرف مڑنے والی سڑک کے سہ راہے کو پیچھے چھوڑ کر جگلوٹ کی طرف کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ اچانک ہم دونوں کی نظریں ایک ساتھ شاہراہ کے بائیں طرف کچھ بلندی پربنی یادگار کی چاردیواری پرلکھی تحریر"تین عظیم پہاڑی سلسلوں کا سنگم "پر پڑی۔اپنے سابقہ سفروں کے دوران دل میں رہ جانے والی حسرتوں کےازالے کیلئے گاڑی روک کر اترے اوراللہ کا شکر ادا کیا کہ جس نے ہمیں ازالے  کا یہ موقع فراہم کیا۔اس مقام سے اسکردو  کی سمت سے آتے دریائے سندھ اور گلگت سے ہمارے ساتھ ساتھ آتےدریائے گلگت کے ملاپ کا خوبصورت منظر بھی  کچھ ہی فاصلے پر نشیب میں دکھائی دیتا ہے۔







     جگلوٹ کے قصبے سے گزرتے ہوئے شاہراہ کے کنارے پلیٹوں میں خوبانیاں لئے کھڑے بچوں سے کچھ خوبانیاں  خریدیں۔گو کہ ابھی صبح کا وقت ہی تھا لیکن شاہراہ قراقرم پر چمکتی دھوپ کی تپش بڑھنا شروع ہو گئی تھی۔خنجراب کے برفزاروں اور گلمت میں دریا کنارے کی ٹھنڈی ریت  کی خنکی ہماری رگ وپے میں دوڑتی تھی ،اس لئے آج   کی اس صبح سنگلاخ پہاڑوں پر بن بادلوں کے صاف نیلے آسمان سے اترتی سورج کی  کرنیں ہمیں چبھتی محسوس  ہوتی تھیں۔ بلتستان میں داخل ہوئے تھے تو زیادہ تر پھل کچے تھے، واپسی کے سفر میں بڑھتی ہوئی گرمی نے خوبانیوں میں مٹھاس بھرنا شروع کر دی تھی۔ساڑھے 9 بجے کے قریب دور دکھائی دیتے نانگا پربت کی سفید چمکتی برفوں کے حسین منظر نے چند لمحوں کیلئے ہمیں رکنے پر مجبور کر دیا۔


۔۔۔صبح ساڑھے 9 بجے سے قبل دھوپ کی تیزی سے بڑھتی تپش ۔۔ پولیس اہلکار سڑک کنارے لگے بورڈ کی چھائوں میں بیٹھا نظر آیا ۔۔۔


    رائے کوٹ کے مقام پر دریا کا پل عبور کرنے کے ساتھ ہی شاہراہ کی حالت ابتر ہوتی چلی گئی۔بالکل ایسا لگا جیسے شاہراہ نے اپنا قیمتی ریشمی لبادہ اتار کر اچانک ہی پھٹا پراناپیوند لگا جوڑا پہن لیا ہو۔دھوپ کی بڑھتی تپش،تتاپانی کے علاقے سے گزرتے ہوئے گندھک کے گرم چشموں کی قربت اور ٹوٹی پھوٹی شاہراہ پر سست روی سے سفر پر مجبور ہوجانے کے باعث گرمی نے ہمیں باقاعدہ ستانا شروع کر دیا۔راستے میں ایک جگہ چند بچے تازہ انجیر لئے کھڑے تھے ،ان سے چند انجیر بھی خرید لئے۔11 بجے کے قریب سڑک کنارے ایک چھوٹی سی آبادی کے پاس رکے۔لکڑی کے تختوں سے بنی دو تین چھوٹی سی دکانوں کے ساتھ ہی  ہمیں ایک بڑا سا درخت اور کنواں نظر آیا۔کچھ دیر درخت کی چھائوں میں سستائے، ایک دکاندار نے کنویں کے پانی سے ہمارے انجیر اور خوبانیاں دھونے کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی بھی کر دیں۔چلاس یہاں سے زیادہ دور نہ تھا۔جلد ہی ہم اس پٹرول پمپ تک پہنچ گئےجہاں سے چلاس سے استور جاتے وقت پٹرول ڈلوایا تھا۔پٹرول پمپ والا ہمیں پہچان گیا۔اس نے  خبر دی کہ بابوسر سے ناران جانے والا راستہ کھل گیا ہے۔ چلاس کے قریب پہنچ کر ناران جانے کیلئے بابوسر کا راستہ کھلے ہونے کی خبر سے بڑی خوشخبری میرے لئے اور کیا ہوسکتی تھی۔ جس راہ سے گزرنابرسہا برس سے میرے لئے صرف ایک خواب تھا اس کی تعبیر پانے کا وقت آپہنچا تھا۔ہمسفر راستے کی صورتحال کے حوالے سے کچھ متذبذب تھی۔ساڑھے 11 بجے ہم بابوسر جانے والے راستے کے زیروپوائنٹ پر پہنچ گئے۔ایک وین اور پک اپ ابھی ابھی اس راستے سے یہاں پہنچی تھیں۔ زیروپوائنٹ پر اترنے والے ایک دو مسافروں سے راستے کے متعلق معلوم کیا تو ان کے جواب مجھے بھی تشویش میں مبتلا کرتے تھے۔ایک شخص نے تو آگے برف اور بہت زیادہ گلیشئرز کی موجودگی کی وجہ سے ہمیں یہ راہ اختیار کرنے سے منع کر دیا۔ایک اور مسافر ہمت بندھاتا تھا کہ آپ روانہ ہوجائیں انشااللہ آپ کی گاڑی نکل ہی جائیگی۔
۔۔ زیرو پوائنٹ کا سہ راہا ۔۔ 
۔۔ سامنے دکھائی دیتی وین بابوسر ٹاپ جانے والی راہ  پر ۔۔۔

۔۔ چلاس کی طرف جاتی شاہراہ قراقرم ۔۔۔
 ۔۔ گلگت اور رائے کوٹ کی طرف جاتی شاہراہ ۔۔۔
   دل کی دھڑکنیں تھیں کہ صرف بابوسر کی طرف سے جانے والی راہ کی پکار سنتی تھیں ۔صرف چند لمحوں کیلئے زیرو پوائنٹ کے اس  سہ راہے کے درمیان کھڑے ہو کر میں نےایک نظرچلاس کی طرف جاتی شاہراہ قراقرم کو دیکھا  ،پھر بابوسر کی طرف جاتی راہ کو تکا۔بابوسر کی طرف سے آنے والی پکار ذہن میں سر اٹھاتے خدشات پر غالب آئی ۔چلاس کے قریب زیروپوائنٹ پر دوپہر ہوا چاہتی تھی۔ سنگلاخ چٹانیں تیز دھوپ میں تپتی تھیں، میں نے اپنے ماتھے پر بہتے پسینے کو خشک کیا اور گاڑی کی طرف قدم بڑھا دئیے۔ عقل ابھی محو تماشاہی تھی کہ بابوسر کا عشق مجھے اپنی طرف بڑھتی راہ پر کھینچ لے گیا۔شاہراہ قراقرم کی بہ نسبت یہ راہ زیادہ بہتر بھی تھی اور کشادہ بھی۔بابوسر تک نصف سے زائد فاصلہ بآسانی طے ہو گیا کہ سڑک بہترین تھی ،چڑھائیاں اور موڑ بھی زیادہ کٹھن نہ تھے۔
    پون بجے کے قریب ہم سڑک سے متصل ایک چھوٹی سی آبادی کے درمیان سے گزرے۔ آبادی سے نکلنے کے فوراً بعد ہمیں اس راہ کی پہلی مشکل چڑھائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جوں جوں آگے بڑھتے گئے یہ چڑھائیاں مشکل سے مشکل تر ہوتی گئیں ۔ اچھی بات یہ تھی کہ سڑک پختہ اور کشادہ تھی۔بابوسر کے بلند درے کی برف پوش چوٹیاں سامنے دکھائی دینا شروع ہوئیں۔ دوپہر کا ایک بجنے والاتھا۔سڑک بلند  ہوتی تھی اور برف پوش چوٹیاں نیچے سرکتی تھیں۔ 




    کچھ فاصلہ طے کیا تو تازہ بچھی ہوئی پختہ سڑک پرسے تارکول غائب ہو گیا۔ سڑک کے اس حصے پرتعمیر کا کام جاری تھا۔پختہ سڑک کے بجائے ہم اب روڑی اور مٹی سے بنی ہموار کشادہ راہ پر بلندی کا  سفر طے کرتے تھے۔ دوسرے گیئر کے ساتھ ساتھ اب باربار پہلے گیئر کی مدد بھی لینا پڑتی تھی۔ایک تسلسل کےساتھ پرپیچ چڑھائیوں  اور سڑک پربچھی  روڑی اور مٹی کے باعث ہماری رفتار انتہائی کم ہو چکی تھی۔گاڑی بمشکل دوسرے اور پہلے گیئرمیں بلندی کی طرف کھسک پارہی تھی۔جو سامان ہمارے پاس پہلے سے تھا اس میں گلگت سے کی گئی خریداری کا بوجھ بھی شامل ہو چکا تھا۔بالآخر ایک موڑ مڑتے ہی سامنےآنے والی انتہائی مشکل چڑھائی پر گاڑی نے پہلے گیئرمیں بھی مزید آگے کھسکنے سے انکار کردیا۔
    اس مقام پر روڑی اورمٹی ابھی تازہ تازہ بچھائی گئی تھی۔ سڑک کو ہموار کرنے کیلئے دو ٹریکٹروں کے ساتھ چند مزدور بھی کچھ فاصلے پر موجود تھے۔میں گاڑی سے اتر کر ان کے پاس گیا۔وہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے اہلکار تھے اور فی الوقت  ان کادوپہرکے کھانے کا وقفہ تھا۔سڑک کنارے ایک چادر بچھا کر وہ کھانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں سے بابوسر ٹاپ کا فاصلہ بہت زیادہ نہیں لیکن آگے چڑھائی بہت زیادہ  ہے۔ان کا ایک افسر ابھی بابوسر ٹاپ کی طرف گیا ہواہےجو کچھ ہی دیر میں واپس آجائیگا۔افسر نے اجازت دی تووہ ہماری گاڑی کو ٹریکٹر سے باندھ کراوپر تک چھوڑ سکتے ہیں۔کھانا لگ گیا تو انہوں نے ہمیں اپنے ساتھ شریک ہونے کی پیشکش کی۔ گاڑی کے آگے نہ بڑھ سکنے کی پریشانی نے ہماری بھوک پیاس اڑا دی تھی۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا ،وہ کھانے میں مصروف ہوئے تو میں نے ایک بار پھر گاڑی اسٹارٹ کر کے آگے بڑھانے کی کوشش کی ۔پہیے کچھ زور لگاتے لیکن صرف مٹی اور روڑی میں ہلکا سا گھوم کر رہ جاتے ،ایک انچ بھی آگے نہ کھسک پاتے۔دس پندرہ منٹ بعد ایف ڈبلیو او کے اہلکار کھانے سے فارغ ہوگئے۔ ان کےافسر کی جیپ ابھی تک ٹاپ سے واپس نہیں آئی تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ  آپ ہماری گاڑی کو باندھ کراوپر لے چلیں ، جیپ راستے میں ملی تو میں خود آپ کے افسرسے بات کر لوں گا۔وہ رضامند ہوگئے۔ایک بڑی سی رسی ہمارے پاس تھی اورایک ان کے پاس ، دو اہلکاروں نے ایک ٹریکٹر سے گاڑی کو مضبوطی سے باندھ دیا۔آگے روانہ ہوئے تو اندازہ ہوا کہ بابوسر ٹاپ کے قریب چڑھائیاں کس قدرسخت تھیں۔ دورنظر آتی برفیں پہلے تو نزدیک تر آتی گئیں، پھر اتنی قریب ہوئیں کہ گلیشیرکا روپ دھار کر سڑک  کے دونوں  اطراف مستقل وارد ہو گئیں۔


۔۔اپنے خوابوں کی راہگزر پر  ۔۔۔ بابوسر ٹاپ نزدیک تر ہوتا ہوا ۔۔










    دونوں اطراف  بکھرےچھوٹے چھوٹے گلیشیرہر بلند ہوتے موڑ کے ساتھ اتنے بڑےہوتے گئے کہ سڑک برف کی بلند دیواروں کے درمیان سے گزرتی آگے بڑھتی۔جوں جوں بابوسر ٹاپ قریب  ہوتا تھا موسم اپنے تیور بدلتا تھا، آسمان  بادلوں سے ڈھکتا جاتا تھا۔ایک موڑ مڑے تو سامنے سے فوجی جیپ آتی دکھائی دی۔ ٹریکٹر سڑک کے کنارے رک گیا۔میں  بھی گاڑی سے اتر گیا۔جیپ ٹریکٹر کے پاس پہنچ کر رکی تو میں نے تیزی سے اس کی طرف قدم بڑھائے کہ اہلکاروں کی جواب طلبی سے پہلے ہی ان کے افسر سے بات کر سکوں ۔
"کوئی مسئلہ نہیں، ہمارا کام ہی کسی مشکل کے وقت لوگوں کے کام آنا ہے"
فوجی افسرنے مسکرا کر انتہائی خوش اخلاقی سے مجھے تسلی دی۔جیپ نیچے اترتی چلی گئی،ہم ٹریکٹر سے بندھے مزید بلندیوں کی طرف بڑھتے گئے۔









    سوا 2بجے کے قریب ہم بابوسر ٹاپ پہنچ گئے جہاں چند جیپوں کے ساتھ ساتھ اکادکا کاریں بھی موجود تھیں۔ٹاپ کے اختتام پر سامنے دکھائی دیتے اتار کے قریب ٹریکٹر رکا تو ہم تھوڑی دیر کیلئے نیچے اترے۔
ہم سے کچھ فاصلے پر چند سیاح ادھر ادھر گھومتے پھرتے تھے۔سورج بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ دو ڈھائی گھنٹے قبل چلاس کے قریب زیرو پوائنٹ پر ہم سخت گرمی میں اپنا پسینہ خشک کرنے کی فکر کرتے تھے یہاںشدید سردی میں ٹھٹھرتے تھے۔بابوسر ٹاپ پر دکھائی دیتی چند گاڑیوں اوران کے مسافروں کو دیکھ کر اپنے حواس بحال کرنے اور اطمینان کی کچھ سانسیں لینا شروع ہی کی تھیں کہ ہماری نظر اپنے عقب  سے اٹھتے اور ادھر کا رخ  کرتے برف کے طوفان پر پڑی ،جو تیزی سے پورے بابوسر ٹاپ کو اپنی لپیٹ میں لیتا تھا۔ایف ڈبلیو او کے دونوں اہلکار ابھی جلدی جلدی کار سے بندھی رسی کی گرہیں کھول ہی رہے تھےکہ آسمان سے برف کی سفید پتیوں کا نزول شروع ہوگیا۔برف کی یہی خوبصورت پتیاں جب خنجراب سے واپسی پر شاہراہ قراقرم پر برس رہی تھیں تو ہم اس حسین منظر کا بھرپور لطف اٹھارہےتھے۔آج بابوسر ٹاپ کی اس  یخ سہ پہر میں آسمان سے اترتی برف  ہماری رگوں میں خوف اور فکر سے جمتےخون کو  مزید منجمد کرتی تھی۔ اپنے اعصاب کوبمشکل مضبوط کرکے میں نے گاڑی کے پاس کھڑے کھڑے ہی ایک دو تصویریں کیمرے میں محفوظ کیں۔برفانی ہوا کے جھونکوں میں تیزی اوربرف باری میں شدت آئی تو ہمسفر نے فوراً گاڑی میں بیٹھ کر دروازہ بند کر لیا۔ایف ڈبلیو او کے اہلکارابھی تک  اپنےسردی سے ٹھٹھرتے ہاتھوں سے رسی کی گرہ کھولنے میں مصروف   تھے،میں بابوسر ٹاپ پر تیزی سے بدلتے موسم میں کھڑا سوچتا تھا کہ ابھی تویہاں  سے ناران تک کا فاصلہ  ٹھیک ٹھاک ہے، ایسا توممکن  نہیں کہ پہاڑوں کے ساتھ ساتھ چلتی اس طویل راہ پر صرف اتار ہی اتار ہوں۔ اگر راستے میں کسی چڑھائی پر گاڑی نے چڑھنے سے انکار کردیاتو کیا ہوگا،اگرہمارے عقب سے آتااورآسمان پر چھاتابرف کایہ طوفان شدت اختیار کرگیا یا ہمارے نیچے اترنے کے ساتھ ساتھ  یہ تیز بارش میں بدل گیاتو پھر ۔۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ناران تک کے سفر کے دوران گلیشیروں  اور  سڑک کی کیا صورت حال ہو۔۔۔برف کے طوفان کے ساتھ ساتھ دماغ میں مختلف قسم کےخدشات کی آندھیاں بھی اٹھتی تھیں۔ چہرے پرپھولوں کی طرح گرتی نرم وملائم برف کی خوبصورت پتیاں اس وقت مجھے  اپنے دماغ پر ہتھوڑوں اور پتھروں کی طرح برستی محسوس ہوتی تھیں۔ایف ڈبلیو او کے اہلکار وں نے رسی کھول کر میرے حوالے کی، میرے چہرے پر پھیلی تشویش دیکھ کر انہوں نے مجھے تسلی دی۔
"آگے سب اترائی ہے، فکر کی کوئی بات نہیں ، ہمارے بندے ادھربھی موجود ہونگے ،کوئی مسئلہ ہوتووہ آپ کی مدد کر دینگے"
میں نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کچھ رقم تحفتاًانہیں دینے کی کوشش کی لیکن انہوں نے مجھ سےصرف دعائوں کا مطالبہ کیا۔وہ ہم سے رخصت ہو کر واپسی کیلئے مڑتے تھے اورمیرادل ان دونوں جوانوں کے پر خلوص اور بے لوث جذبوں کو سلام پیش کرتا تھا۔بابوسر ٹاپ پر برف کی پتیاں برستی تھیں  اورہماری گاڑی بلندی سے نشیب کی طرف جاتی سڑک پر اترتی تھی۔






     ایک لمبے اتار کے بعدبائیں طرف  پہلا موڑ مڑے تو سڑک کنارے ایک جیپ کھڑ ی دکھائی دی،میں نےگاڑی روک کر جیپ کے ساتھ ہی کھڑے شخص  سےراستے کے بارے میں دریافت کیا۔
"راستہ بہت خراب ہے،جگہ جگہ گلیشئرز اور پانی ہے،بہتر ہے آپ واپس چلاس چلے جائیں"
میرے حوصلے پست  ہوا ہی چاہتے تھے کہ اس شخص کے ساتھ کھڑاجیپ ڈرائیور گویا ہوا۔
"اللہ کا نام لے کر چلتے جائیں جی،پہنچ ہی جائیں گے آپ ناران تک"
بابوسر ٹاپ سے اس موڑ تک ہم خاصا نشیب میں اتر چکے تھے،یہاں تک پہنچتے پہنچتے برف باری بالکل تھم چکی تھی۔چلاس سے بابوسر تک آنے والی سڑک کی نسبت یہ سڑک خاصی تنگ اور نیم پختہ تھی۔واپسی کیلئے طویل چڑھائی چڑھنےاور دوبارہ برف کے طوفان کا رخ کرنےکو دل نہیں مانتا تھا، کسی طور دل کومنا بھی لیں تو یہ  خدشہ تھا کہ گاڑی دوبارہ کٹھن چڑھائی دیکھ کرکہیں دوبارہ نہ بدک جائے،چنانچہ جیپ ڈرائیور کی بات مان لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔اللہ کا نام لے کر آگے روانہ ہوئے، اتار کےساتھ ساتھ ہلکی پھلکی چڑھائیاں بھی آئیں لیکن دھیمی رفتار ہونے کے باوجود گاڑی بآسانی ان چڑھائیوں سے نمٹنے میں کامیاب ہوگئی۔
   پست ہوتے حوصلے کو کچھ جلا ملی، لیکن ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھاکہ سڑک کے دونوں اطراف برف کےچھوٹے چھوٹے گلیشئرز کا سلسلہ شروع ہوگیا۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ چھوٹے گلیشئرز ہمارے دائیں اور بائیں طرف دیواروں کی مانند بلند ہوتے گئے،مزید آگے بڑھے تو برف کی ان دیواروں کے بیچ سڑک کے بجائے چمکتی ندی دکھائی دی۔گلیشئرز اور ان کے درمیان لیٹی ندی کی طوالت اتنی زیادہ  تھی کہ دوسرا سرا نظر نہ آتا تھا۔جہاں تک ندی کی گہرائی کا سوال تھا وہ  تواس میں اترنے کے بعد ہی پتہ چل سکتا تھا۔اللہ پر بھروسہ کر کے کلچ ،ایکسیلیٹراور گیئر ز کو اپنی ممکنہ حد تک مہارت سے استعمال کرتے ہوئے تقریباً نصف کلومیٹر طویل ان گلیشئرز اورسڑک پر بہتی ندی کو پار کر کےدوسری طرف خشکی پر پہنچ پائے۔آگے کچھ ہی دوری پر پھر وہی منظر ہمارے سامنے تھا۔چند لمحوں کیلئے گاڑی روکی کہ اپنی اور گاڑی کے اعصاب میں قوتوں کو نئے سرے سے مجتمع کرسکیں ۔ کوئی اچھا شعر کہا ہوتو داد دینے والے کے منہ سے نکلنے والی مکرر مکرر کی صدا سن کر دل خوشی سے کھل اٹھتا ہے، لیکن یہاں ایک کٹھن مرحلے سے نکلتے تھے کہ سناٹے میں پھر ہمارے سامنے کھڑی گلیشئرز کی دیواریں  اور ان کے بیچ سڑک کی جگہ چمکتی ندی مکررمکرر کہتی تھیں،لگتا تھا چاروں طرف سے داد وتحسین کی یہ صدائیں بلند ہوتی ہوں ،ادھر دل کی دھڑکنیں تھیں کہ تھمی جاتی تھیں۔سڑک کے مختصر سےخشک حصے پر گاڑی  نیوٹرل کی،ایکسیلیٹر پر دبائو بڑھا کر اندازہ کیا کہ گاڑی کے دل کی دھڑکنیں کیا کہتی ہیں، سائلنسر سے کیا صدا بلند ہوتی ہے۔خود بھی کچھ لمبی اور گہری گہری سانسیں لیں۔ہمسفر کی طرف دیکھنے سے ممکنہ حد تک اجتناب کیا کہ  ایک اچٹتی  سی نظر پڑنے سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ چہرے پر گھبراہٹ اور تنائو کے ساتھ ساتھ  آنکھوں میں ناراضگی بھی خاصی بڑھ گئی ہے۔بات کرنے کی کوشش کرتا تو امکان تھا کہ کسی ہلکے پھلکے جواب کے بجائے شکوے کا یہ  بھاری بھرکم پتھر پردہ سماعت پہ نہ آن گرے کہ خود تو ڈوبےہو صنم ہم کو بھی لے ڈوبے ہو ۔جسمانی کیفیت کم وبیش ہم دونوں کی ایک سی تھی  کہ کاٹو تو لہو نہیں کہ برف کی ان دیواروں نے  لہو کو رگوں میں دوڑتے پھرنےکے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا۔ دوسری گلیشیائی ندی میں اترے ،ٹائروں کے ادھر ادھر مٹکنے ،گاڑی کے نیچے ٹکرانے والے پتھروں کی ڈگڈگاہٹ  اور  کبھی کبھار بونٹ کے سامنے اچھلتے پانی سے اندازہ ہوتا تھا کہ ندی کی گہرائی کتنی ہے اور برف کی دیواروں کے درمیان پائی جانے والی سڑک نامی شے کا حال کیسا ہے۔سب سے زیادہ خوف اس بات کا تھا کہ نصف کلومیٹر کے لگ بھگ طویل ڈیپ فریزر میں سے گزرتے ہوئے اس ندی کے عین درمیان گاڑی بند ہو گئی تو کیا ہوگا؟ نہ سامنے سے کوئی آتا تھا نہ عقب میں دور دور تک کوئی دکھائی دیتا تھا۔ہم ایک گلیشئر سے نکلتے تو درمیان کے دس پندرہ میٹر کے مختصر سے خشکی کے جزیرے پر رکتے کہ خود کواور گاڑی کوچند لمحوں کیلئےسکون   مل سکے، ہماری گاڑی پھر برف ،پانی ،کیچڑ اور پتھروں سے لڑتے بھڑتے اگلا گلیشئر پار کرتی،خشکی پر پہنچتے تو منجمد کردینے والی سردی میں شیشوں کو معمولی سا نیچے کرتے کہ درزوں سے آنے والی تازہ برفانی ہوا سے اپنی سانسیں بحال کرلیں۔ 
    ایک جگہ خشکی پر ٹہرے توسڑک کے دائیں طرف بلند پہاڑ سے گرتی منجمد آبشار کا منظر بہت دلکش تھا، میں نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی شیشہ کچھ زیادہ نیچے کر کے تصویر کھینچ لی ، ہمسفر نے مجھے ایسےغصے سے دیکھا کہ گویا میں نے آبشار کے بجائے کسی دوشیزہ کاعکس کیمرے میں قید کیا ہو۔ کوشش کی کہ ہمسفر کسی طرح ایک نظر آبشارکو دیکھ ہی لے لیکن میری کوشش رائیگاں گئی۔مجھے زیادہ صدمہ نہ ہوا کہ صورتحال ہی ایسی تھی کہ ادھر جان پر بنی تھی ادھرمیں آبشار کی ادائوں پر مر مٹ رہا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں دل ہی دل میں بابوسر والی راہ کے عشق سے التجا کرتا تھا کہ اے عشق ہمیں برباد نہ کر۔
    اسی طرح کے ایک طویل گلیشئر کو پار کرنے کے دوران اچانک سامنے سے ایک جیپ آتی دکھائی دی،اللہ نے خاص کرم کیا کہ جب  ہماری گاڑی اور جیپ کا آمنا سامنا ہوا تو سڑک اس مقام پر اتنی کشادہ تھی کہ ہم جیپ کے برابر سے گزرپانے میں کامیاب رہے، بائیں طرف کا بیک مرر برف کی دیوار سے ٹکرایا تو سہی لیکن ٹوٹا نہیں۔شاید عشق پر میری التجا کا کچھ اثر ہوگیا تھا۔ہم اسی طرح سڑک پر آنے والے خشکی کے چھوٹے چھوٹے جزیروں اور گلیشیائی ندیوں سے گزر کر آگے بڑھتے رہے۔
     ایک جزیرے پر پہنچ کر رکے تو  بائیں طرف گلیشئروں کے درمیان سے آگے بڑھتی سڑک اور اس کے ساتھ ہی دور سڑک کے بائیں طرف سڑک کے بالکل ساتھ نشیب میں لیٹی لولوسر جھیل کی پہلی جھلک نظر آئی۔یہاں سے لولوسر جھیل تک ڈرائیونگ  میں مزید احتیاط برتنا لازم تھا کہ کہیں کسی گلیشئر کی برف سے پھسل کر گاڑی سمیت جھیل میں غوطہ زن نہ ہوجائیں۔

     بائیں طرف موجود بلند پہاڑ  اور دائیں طرف نشیب میں لولوسر جھیل کے گہرے پانیوں کے ساتھ ساتھ سڑک پر براجمان طویل گلیشئرز کے درمیان سے گزرکربالآخر  ہم نےایک اور مشکل مرحلہ کامیابی سےعبور کر ہی لیا۔جوں ہی پانی سے نکل کر خشکی پر پہنچے اورہماری کشتی دوبارہ گاڑی میں تبدیل ہوئی تو لولوسر جھیل کا سبز پانی ہمارے بائیں طرف سڑک کے ساتھ ہی نشیب میں جھلملاتا تھا۔سڑک کنارے آٹھ دس جیپیں موجود تھیں۔خواتین اور چھوٹے چھوٹے بچوں سمیت اچھی خاصی تعداد  میں سیاح لولوسر جھیل اور چاروں اطراف بکھرے دلکش مناظر سے محظوظ ہورہےتھے۔گلیشئروں کے  بیچ سے نکل کر اپنے قریب ہوتی ہماری مہران کو دیکھ کر جیپ ڈرائیوروں سمیت سڑک کنارے کھڑے سب سیاحوں کی آنکھیں حیرت سے پھٹی جاتی تھیں۔میں گاڑی سےاترا تو کچھ لوگ تیزی سے میرے قریب آئے اور کچھ گاڑی کے گرد گھوم پھرکر اس کا جائزہ لینے لگے۔




آپ بابوسر سے آرہے ہیں ؟
قریب آنے والے ایک دو سیاحوں  نےسوال کرنے میں دیر نہ لگائی۔میں نے انہیں بتایا کہ گلگت سے چلے تھے ،بابوسر درمیان میں آگیا۔وہ بے یقینی سے کبھی مجھے ،کبھی گاڑی  اور گاڑی میں بیٹھی ہم سفر کو دیکھتے تھے۔ایک صاحب بولے۔
" بابوسر ٹاپ تک تو کوئی جیپ والا بھی جانے کو تیار نہیں آپ کس طرح مہران پر وہاں سے آگئے؟"
قریب ہی ان صاحب کا جیپ ڈرائیور بھی موجود تھا،شاید وہ بابوسر ٹاپ تک جانے کی خواہش رکھتے تھے اس لئےانہوں نے ڈرائیور سےبابوسر تک نہ لے جانے کا گلا کیا۔جیپ ڈرائیور کچھ جھک کر ہماری گاڑی کانیچے سے بغور جائزہ لے رہا تھا۔ان صاحب کے شکوے کا جواب دینے کے بجائے وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔
"آپ فوراًگاڑی کا انجن بند کردیں۔نیچے سے مسلسل آئل ٹپک رہا ہے، کہیں انجن سیز نہ ہوجائے"
میں سمجھ گیا کہ گلیشئروں کے درمیان سے گزرنے کے دوران گاڑی کے نیچے پتھر صرف  ڈھول  نہیں بجاتے تھے ،تخریب کاری بھی کرتے تھے۔جیپ ڈرائیور کی بات میں اپنے مسافر کے شکوے کا جواب بھی پنہاں تھا چنانچہ وہ بھی خاموشی سے جھک کر ہماری گاڑی کے نیچے جھانکنے لگا۔ 
   ارادہ تھا کہ ہمسفر کو منا کرگاڑی سے اترنے کا کہوں  اورکچھ دیرسڑک کنارے بنی پتھروں کی منڈیر پر بیٹھ کر لولوسر جھیل میں تیرتی برفوں کے حسین منظر میں کھو جائوں لیکن  گاڑی کاانجن بند کرتے وقت  تک میرایہ خواب بکھر چکا تھا۔سوا4 بج رہے تھے،سہ پہر شام میں بدلتی تھی ،دو تین جیپیں اپنے مسافروں کو لے کر ناران کی طرف  لوٹ  چکی تھیں، باقی ماندہ روانگی کی تیاری میں تھیں ۔ جھیل کنارے  کی چہل پہل اور رونق  کودیکھ کر ہمسفر کے ستے ہوئے چہرے پر تازگی کی جو ہلکی سی رمق آئی تھی وہ انجن سے ٹپکتے آئل کی اندوہناک  خبر سے یکسر غائب ہو گئی۔
    لولوسر جھیل کی دلکشی سے محظوظ ہونے سے زیادہ اہم اس وقت  گاڑی کو کسی جیپ کے ساتھ باندھ کرکسی بھی صورت ناران تک پہنچناتھا چنانچہ میں جھیل کنارے  بنی پتھروں کی منڈیر کا رخ کرنےکے بجائے جیپ ڈرائیوروں کی طرف  بڑھ گیا۔ ایک ڈرائیور سے معاملہ طے پاگیا تو کچھ اطمینان ہوا کہ اب انشااللہ ناران تک تو بخیرو خوبی پہنچ ہی جائینگے۔ ہمسفر کو اس خوشخبری سے آگاہ کرکے کوشش کی کہ کسی طوراسے گاڑی سے اتار پائوں،شایدلولوسر جھیل کا طلسماتی حسن   اس کے لبوں پر مسکراہٹ اور موڈ کچھ بہتر کرنے میں کامیاب ہوجائے، مگر یہ ہو نہ سکا۔
    میں اکیلا ہی پتھروں کی منڈیر تک گیا، جھیل کے پرسکون پانی میں برف کےگلیشئرز تیرتے تھے۔صرف چند لمحے جھیل کی قربت میں گزار کرمیں نے لولوسر سے اتنی مختصر سی سلام دعا پر معذرت کی، ہمسفر کے ساتھ آئندہ پھر کسی سفر کے دوران تفصیلی ملاقات اور اس کی محبت بھری سنگت میں وقت گزارنے کا وعدہ کیا اورگاڑی کی طرف پلٹ آیا۔ 
    آج کے اس ایڈونچر سمیت 2014 کے اس سفر کے دوران ہمیں  اب تک 3 ایڈونچرز کا سامنا کرناپڑاتھا۔پہلا بشام سے چلاس کی طرف روانہ ہونے کے بعد پتن سے چند کلومیٹر قبل انتہائی تباہ حال شاہراہ قراقرم پر برستی  طوفانی بارش  کہ سڑک پر برساتی پانی کی ندی بہتی تھی ،دائیں طرف سیکڑوں فٹ نیچے  بہنے والادریائے سندھ دھواں دار بارش کے باعث دکھائی نہیں دیتا تھا،میں بائیں طرف کے بلند پہاڑوں کو دیکھ کرممکنہ لینڈ سلائیڈنگ سے ڈرتا ،چیونٹی کی چال میں ڈرائیوکرتاتھا کہ کہیں بھی سڑک کنارے کوئی گھر ،کوئی آبادی کا نام و نشان نظر آئے تو گاڑی سڑک کنارے کھڑی کرکےبارش کے تھمنے تک  کوئی جائے پناہ  مل سکے۔وہ انتظار اتنا طویل نہ تھا، دس پندرہ منٹ بعد ہی ہم سڑک کنارے موجود ایک مسجد کے پاس رک گئے تھے۔دوسرا ایڈونچر کہ جب شاہراہ قراقرم سے استور کیلئے مڑے ، اس سڑک پر ہمارا یہ پہلا سفر تھا۔ مسلسل بل کھاتی اور اوپر کو چڑھتی اجنبی راہ،سڑک خاصی تنگ اور نیم پختہ،پہاڑی درے بلند ہونے کے ساتھ ساتھ تنگ سے تنگ تر ہوتے جاتے تھے۔آسمان بادلوں سے ڈھکتا جاتا تھااورہم پھر کسی آبادی تک پہنچنے کی فکر میں پریشان کٹھن چڑھائیاں چڑھتے چلے جاتے تھےکہ اچانک ہماری نظر دور کچھ بلندی پر واقع سیکورٹی چیک پوسٹ کے بیریئر پر پڑی ۔یہ انتظار کچھ طویل تھااس لئے ہماری گھبراہٹ بھی کچھ زیادہ تھی۔آج بابوسر ٹاپ سے لولوسر جھیل تک پہنچنے کا ایڈونچر سب سے زیادہ خطرناک اور طویل ترین تھا ۔ان تینوں ایڈونچرز میں ایک مماثلت تھی کہ ان تینوں مواقع پر ہم سہ پہر اور شام کے درمیان سفر کرتے تھے۔سہ پہر کے بعد ان پہاڑی علاقوں کا موسم تیزی سے بدلتا تھا۔پتن کے قریب عصر کے وقت موسلا دھار بارش، استور جاتے وقت شہر میں داخل ہوتے ہی تیز بارش کاسلسلہ شروع ہوا، بابوسر ٹاپ پر سہ پہر کے وقت برف کے طوفان نے آ گھیرا۔پھر دوپہر کے بعد دن بھر کی دھوپ کی تمازت سےبرف کے پگھلنے کا عمل تیز ہوجانے کے باعث  گلیشئروں کے درمیان سے گزرتی سڑک پر بڑھتا ہوا پانی اور کیچڑ۔جیپ میں استور سے ترشنگ جاتے وقت ہم ترشنگ کے قریب ایک بہت ہی بڑے گلیشئر کے اوپر سے ہوکر گزرے تھے۔آج مجھےاس جیپ ڈرائیور کی بات یاد آگئی کہ دوپہر سے پہلے پہلے ترشنگ سےواپسی کی راہ لینا ضروری ہے کہ دوپہر کے فوراًبعد گلیشئر کی سخت سطح دھوپ کی شدت سے نرم ہوکر اتنی خطرناک ہوجاتی ہے کہ جیپ کے ٹائر اس میں دھنس جانےکا خدشہ ہوتا ہے۔
    میں اور ہم سفر گاڑی میں بیٹھے تھے، جیپ ڈرائیور جیپ ریورس کر کے ہماری گاڑی کے قریب لایا،گاڑی کو رسی سے باندھا گیا،جھیل کنارے سے گھوم پھر کر واپس آتی ایک فیملی جیپ میں سوار ہوئی۔
    جھیل اور اس کے اطراف پھیلے نظارے بہت دلکش تھے  لیکن ہمارے دماغ میں اس وقت صرف فکر و تشویش کی آندھیاں اٹھتی تھیں اس لئے نظر گاڑی کے ساتھ باندھی جانے والی رسی سے اوپر اٹھتی ہی نہ تھی۔راستہ بدستور دشوار گزار تھا۔اس بار بہت زیادہ طویل گلیشئروں کا سامنا تو نہ تھا البتہ جگہ جگہ پہاڑوں سے اترکر سڑک پار کرتے ندی نالوں اور کہیں کہیں بل کھاتی چڑھائیوں اور اتار کا سلسلہ جاری تھا۔رسی زیادہ مضبوط نہ تھی ، ڈرائیور بھی نسبتاًتیز اور غیر محتاط ڈرائیونگ کررہا تھا،اس لئے رسی بار بارٹوٹ جاتی تھی۔جتنی تیزی وہ ڈرائیونگ میں دکھاتا تھا ،رسی ٹوٹنے کے بعد دوبارہ جیپ ریورس کر کے گاڑی تک لانے اور اسے باندھنے میں لگنے والے وقت کے باعث وہ حساب کتاب نہ صرف برابر ہو جاتا تھا بلکہ مزید باعث تاخیر بنتا تھا۔میں اسے ہر بار احتیاط سے اور مناسب رفتار سے ڈرائیونگ کا مشورہ دیتا لیکن غالباً اس کے ساتھ آنے والےاسے تیز چلنے کیلئے مجبور کرتے تھے۔سہ پہر کے شام میں ڈھلنے کے ساتھ ساتھ سردی بڑھتی تھی۔کب جلکھڈ آیا ،کب بٹہ کنڈی گزرا،کچھ پتہ نہ چلا،ہمارا دھیان صرف اس طرف تھا کہ رسی ٹوٹنے کے بعد دوبارہ باندھی جائے توہم کتنا فاصلہ بغیر رسی کے ٹوٹے سفر کرپاتے ہیں۔ ایک جگہ سڑک کے بائیں طرف دکھائی دیتی خوبصورت آبشار سے اترکر سڑک سے گزرتے پانی کو پار کرتے ہوئے رسی ٹوٹی ۔جیپ میں موجود فیملی نےآبشار کے حسن سے لطف اندوز ہونے کیلئے جیپ سے  اترکر آبشار کا رخ کیا۔باربار ٹوٹنے کی وجہ سے رسی مختصر سے مختصر ہوتی جارہی تھی۔ ہماری گاڑی سڑک پر بہتے پانی  میں کھڑی تھی۔ میں جیپ ڈرائیور کی مدد کیلئےنیچے اترا تو یخ پانی میں اترتے ہی پائوں جمتے ہوئے محسوس ہوئے۔
     جیپ ڈرائیور کو سمجھایا کہ رسی اب اتنی مختصر ہو گئی ہے کہ تمہاری تیز رفتاری اور پھر اچانک رفتار آہستہ کرنے کی وجہ سے مجھے لازماً بار بار بریک استعمال کرنا ہوگی اوراب ہم رسی ٹوٹنے کے مزید متحمل نہیں ہوسکتے۔جیپ کے مسافرآبشار کے پاس گھوم پھر رہے تھے ڈرائیور کے پاس وافر وقت تھااس لئے اس بار اس نےزیادہ مضبوطی سے رسی باندھی۔یہاں سے چلے تورسی کی لمبائی کم ہوجانے کے باعث مجھے گاڑی کو جیپ سے ٹکرانے سے بچانے کیلئے اسٹیرنگ اور بریک کا استعمال بہت زیادہ احتیاط سے کرنا پڑ رہا تھا۔ناران سے چند کلومیٹر قبل ایف ڈبلیو او کے اہلکار ایک بڑے گلیشئر کے باعث بند ہوجانے والی سڑک کو کھولنے میں مصروف تھے۔ہم سے پہلے روانہ ہونے والی جیپیں بھی یہاں سڑک کے کھلنے کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ہم بھی اس لائن کا حصہ بن گئے، ہمارے بعد آنے والےبھی ہمارے عقب میں رکنا شروع ہوگئے، سورج خاموشی سے پہاڑوں کے پیچھے غروب ہوا، وادی کاغان میں پھیلے شام کے سائے رات کی تاریکی میں بدلتے گئے۔ جیپوں کی ہیڈ لائٹس آن ہونا شروع ہوگئیں۔ہمیں یہاں  تقریباًایک گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔ سڑک کھلنے کے بعد پہلے ناران کی طرف سے آنے والی گاڑیوں کو نکلنے کا موقع دیا گیا کہ رات کی تاریکی میں انہیں مشکل راہوں کی طرف سفر کرنا تھا۔ پھر ہماری باری آئی۔ جیپ ڈرائیور نے روانہ ہونے سے قبل ایک بار پھر رسی کا اچھی طرح جائزہ لیا،اللہ کا بڑا کرم کہ اس طویل گلیشئر سے گزرنے کے دوران رسی نہ ٹوٹی۔ناران کی حدود میں داخل ہوئے تورات کے ساڑھے 8 بج چکے تھے ۔ جیپ ڈرائیور نے ہمیں جھیل سیف الملوک سے آنے والے نالے کا پل عبور کرکے بائیں طرف سے جانے والے بائی پاس پر موجود موٹر میکنکس کی دکانوں کے پاس پہنچا دیا۔ رات ہوجانے کے باوجود ایک دو دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔اپنی نوجوانی کے دنوں میں ایک دو بار ناران آیا تھا ، تب مغرب کے فوراًبعدہی  بازار میں موجود اکادکا دکانیں بند ہوجا یا کرتی تھیں۔
   ورکشاپ پر ایک اور صاحب بھی  اپنی گاڑی کا کوئی کام کرانے کیلئے پہلے سےموجود تھے ۔میں نے مکینک کو اپنی بپتا سنائی کہ صبح سویرے گلگت سے نکلنے کے بعد ہم کس طرح یہاں تک پہنچ پائے ہیں اور ابھی ہمیں رہائش کیلئے کوئی ہوٹل بھی تلاش کرناہے  تو وہ صاحب بھی ہماری گفتگو میں شامل ہوگئے۔معلوم ہوا کہ وہ بھی کسی دوسرے شہر سے آکر اپنے کسی جاننے والے کے ہوٹل میں مقیم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اسی ہوٹل میں ہمیں بھی کمرہ مل جائیگا۔اس اطمینان بخش خبر سنانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہمیں اپنے ہمراہ اپنی گاڑی میں ہوٹل تک لے جانے کی مخلصانہ پیش کش بھی کر دی۔ہماری گاڑی کی مرمت کا کام تو اگلے دن صبح ہی ممکن تھا۔گاڑی سے ضروری سامان اور کپڑے وغیرہ نکال کر چابی مکینک کےحوالے کی اور ان کی گاڑی میں ہوٹل روانہ ہو گئے جو ناران کے مین بازار کی طرف مکینک کی دکان سے بمشکل نصف کلومیٹر کی دوری پر تھا۔ہوٹل زیادہ بہتر نہ تھا لیکن ہم اس وقت جس کیفیت سے دوچار تھے  اس میں سر چھپانے اور آرام کرنے کا یہ ٹھکانہ بہت بہترین دکھائی دیتا تھا اور پھر  سب سے بڑھ کر اللہ کا کرم یہ کہ ہم کسی ہوٹل کی تلاش اور پھر اپنے سامان سمیت ہوٹل تک پہنچنے کی زحمت سے  بھی بچ گئے تھے۔
   گھڑی رات کے 9کو کراس کر چکی تھی۔گلگت میں صبح کا ناشتہ کر نے کے بعد سے بابوسر ٹاپ  تک ہم نے صرف چند خوبانیوں ،ایک آدھ انجیر اور پانی پر ہی گزارا کیا تھا۔بابوسر سے لولوسر تک تو صرف جان بچانے کی فکر لاحق تھی ،کھانے پینے کا ہوش ہی نہ تھا،لولوسر سے ناران کے دوران جیپ اور ہماری گاڑی کے درمیان بندھی رسی  اورہمیں خیریت سے ناران تک پہنچانے والی امید کی ڈور کےبار بار ٹوٹنے نے بھوک اڑا کر رکھ دی تھی۔میں تو پھر بھی کبھی کبھار ہمارے پاس موجود ڈرائی فروٹ میں سے کچھ نہ کچھ چگ لیتا تھا،ہم سفر  ایک طویل سکتے کی سی کیفیت میں مبتلا ہونے کے باعث میرے بار بار اصرار کے باوجود کچھ نہ چگتی تھی۔کمرے میں پہنچ کر کچھ تازہ دم ہوئے تو نہ صرف جان میں جان آئی ،دوپہرکے بعد سے اب تک مکمل خاموش اور خوابیدہ بھوک بھی انگڑائی لے کر بیدارہوگئی۔ہم سفر کو مکمل ہوش وحواس میں آنے کاموقع فراہم کرنے کی غرض سے میں نے اسے کمرے میں ہی بستر پرآرام کرتاچھوڑ کر بازارکا رخ کیا۔
     رات کے ساڑھے9 بجے بھی ناران کے بازار میں خاصی چہل پہل تھی۔آج سے دس سال قبل ہم2004 میں بچیوں کے ساتھ ناران آئے تھے ،تب بھی اس بازار کی رونقیں مغرب کے بعد تک بحال رہتی تھیں،لیکن آج10 سال مزید آگے سرک جانے کے باعث بازار کی رونقیں  عشا کاوقت گزرجانے بعد بھی قائم تھیں۔ایک چھوٹے سے نسبتاً قدیم ہوٹل کے سامنے بڑی سی کڑھائی سے اٹھنے والی چپلی کبابوں کی خوشبو نے میرے قدم روک لئے۔یہ ہوٹل سیف الملوک جھیل کی سمت سے آنے والے شفاف پانی کے نالے کے پل سے نشیب کا رخ کرتی ناران کے بازار  کی سڑک کنارے واقع تھا۔میں کباب تیار کرنے کا آرڈر دے کر بلندی سے نیچے اترتی سڑک کو دیکھتا تھا۔ سیدھی اور طویل سڑک کے ساتھ ساتھ  دونوں اطراف تاحد نظر  بازارکی رونقیں بھی اترتی چلی جاتی تھیں۔ چھوٹی بڑی روشن دکانوں اور اسٹورز کے درمیان دور تک بڑے بڑے جدید کثیرالمنزلہ ہوٹلوں کی روشنیاں جگمگاتی تھیں۔
   ناران اپنے پیارے ملک کے شمالی علاقوں میں میراپہلا عشق تھا۔  چپلی کباب تیار کرنے کیلئے چولہے پرمخصوص  انداز سے رکھی کڑھائی سے دھواں آہستہ آہستہ اوپر اٹھتا تھا ،میرے ذہن میں اپنے پہلے عشق سے وابستہ یادوں کی فلم چلتی تھی۔2004 سے  نکل کر میں مزید 16 سال پیچھے 1988 میں جا پہنچا۔بازار تب بھی یہی تھا۔لیکن اس وقت کے سادہ اور چھوٹے سے سمٹے سمٹائے بازارمیں بمشکل  چارپانچ ہوٹل اور آٹھ دس چھوٹی چھوٹی سی دکانیں ہو اکرتی تھیں۔ نالے کے پل سے نیچے کی طرف اترتے بازار کی کل لمبائی چوتھائی کلومیٹر سے بھی کم رہی ہوگی۔تب ہم اپنی 3سالہ بڑی بیٹی کے ہمراہ اسی سڑک پر چہل قدمی کرتے تھے، سڑک اسی طرح نالے کے پل کی طرف بلند ہوتی جاتی تھی، ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتا تھا، اس لئے بڑی بے فکری اور سکون سے سڑک کے درمیان مٹر گشت کرتے تھے،میری انگلی پکڑ کر ساتھ ساتھ چلتی ہماری پیاری بیٹی کنول بلند ہوتی سڑک پر چڑھتے چڑھتے تھکن محسوس کرتی تو میری انگلی چھوڑ کر تیزی سے چلتی ہوئی مجھ سے تین چار قدم آگے بڑھ جاتی اور پھر پلٹ کر میری طرف رخ کرکے اپنی دونوں باہیں پھیلا دیتی کہ بس بہت ہوچکا، اب برائے مہربانی مجھے گود میں اٹھا لیں۔
    1988 سے نکل کر سوچ مزید پیچھے کی طرف پھسلی ، شادی سے قبل 1983 میں اپنے چھوٹے بھائی اور دو دوستوں کے ہمراہ موٹرسائیکلوں پر لاہور سے وادی کاغان تک کا سفر، مارچ یا اپریل کامہینہ تھا ،ہم کاغان تک تو پہنچ گئے لیکن اس کے آگے سڑک پر برف ہی برف ، اتنی برف کہ پیدل بھی ناران تک پہنچنا ناممکن ، سو وہیں سے واپسی پر مجبور ہوئے۔
     دماغ میں وقت کا پہیہ مسلسل الٹا گھوم رہا تھا، 1978کے ناران کا یہی بازار ،بازار کیا ، صرف دو کچے سے ہوٹل اوران سے متصل تین چار چھپر نما دکانیں، تب میں کالج کی چھٹیوں کے دوران کراچی سے بھاگا اور ناران کی محبت میں گرفتار تنہا ہی یہاں آن پہنچا ۔ہوٹل کے کمرے میں بان کی چارپائی پر لحاف اوڑھے گہری نیند سوتا تھا کہ نصف شب کے قریب اچانک  سینے  میں اترتی ٹھنڈک سے آنکھ کھلی ، کمرے میں گھپ اندھیرا ،بادلوں کی گڑگڑاہٹ  تو سنائی دی ہی، کہیں بالکل قریب ہی کسی پرنالے  سے پانی کے گرنے کی آواز بھی آئی ،بےاختیار ہاتھ سینے کے اوپر لحاف  تک گیا۔ پرنالہ ہوٹل کی چھت سے  سیدھا میرے سینے کے اوپر لحاف پر گرتا تھا،بارش کےیخ  پانی کی یہی  ٹھنڈک لحاف کو بھگوتی اور میرے سینے    میں اترتی تھی۔میں نے خود کو سکیڑا ،چارپائی کی بالکل پائینتی کی طرف سرکا،بمشکل خود کو سمیٹا ،ایک  گٹھری کی صورت  لیٹ کرلحاف کا خشک حصہ ٹھٹھرتے جسم پر لپیٹا اور صبح تک سوتی جاگتی کیفیت میں رات گزاری۔ ہوٹل میں میرے ساتھ ہی ایک معمر انگریز جوڑا بھی مقیم تھا۔ صبح ناشتے کے بعد ہم تینوں جھیل سیف الملوک کیلئے پیدل روانہ ہوئے۔بنا کسی گائیڈ کی مدد کے پگڈنڈیوں پر آگے بڑھتے، راہ کی سخت چڑھائیاں چڑھتے ،تھک جاتے تو کسی بڑے سے پتھر سے کمر ٹکالیتے یا کہیں گھاس پر بیٹھ کر سانسیں بحال کرتے ،ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد جھیل کنارے پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔یہ وہ دور تھا کہ جب ماحولیاتی آلودگی، گلوبل وارمنگ اور دہشتگردی کے جن بوتلوں سے باہر نہیں آئے تھے۔ تب جیپوں اور گاڑیوں کی طویل قطاریں ناران کی پرفضا وادی میں دھویں نہیں اگلتی تھیں، سیاحوں کا جم غفیر جھیل کنارے جوسز کے ڈبے اور شاپنگ بیگز کے ڈھیر نہیں پھینکتا تھا، موسموں کا چال چلن اور انداز انتہائی معصومانہ تھا۔صاف شفاف جھیل  سیف الملوک  اور ناران میں ٹھٹھرا دینے والی سرد ہوائیں راج کرتی تھیں۔ خوبصورت اور سرسبزوادی کی مہکتی خاموشی اور حسین سناٹوں میں ایک انگریز جوڑا پاکستانی نوجوان کے ساتھ بے فکری سے جھیل سیف الملوک کی طرف جاتی راہ پر پیدل چڑھتا چلا جاتا تھا۔
    1978 کی ناقابل فراموش یادوں سے نکلا تو 1976 کے ناران میں جا پہنچا۔ کالج کی آزاد اور بے فکری کی زندگی، جیب میں برائے نام رقم ، ناران کے عشق میں گرفتار کسی نہ کسی طرح کاغان تک پہنچ گیا، پیسے قریب الختم کہ واپس کراچی تک پہنچنے تک کا کرایہ ہی بمشکل جیب میں موجود، ایک شاپنگ بیگ میں کپڑوں کا ایک جوڑا، ایک خالی تھرماس اورکھانے کے لئے بھنے ہوئے چنے اور گڑ کی چند ڈلیاں۔ کاغان سے پیدل ہی ناران کیلئے روانہ ہوا۔ ایک جگہ راستے میں سڑک نے نیچے اتر کر دریائےکنہار سے قربت اختیار کی تو شاپنگ بیگ میں موجود کپڑوں کا جوڑا دھو کر پتھروں پر پھیلا دیا۔ کپڑے سوکھنے تک دریا کنارے آرام کیا۔ ناران پہنچا تو اسی بازار کے بائیں طرف کچھ نشیب میں دریا کنارے  دکھائی دیتے ایک اسکول کی عمارت  تک جاپہنچا۔عمارت کے احاطے کے اندر چھوٹے سے کھلے میدان میں بچے بیٹھے تھے۔اسکول میں سہ ماہی یا ششماہی امتحان ہو رہے تھے،بچوں سے امتحان لینے میں مصروف اکلوتے استاد سے ملاقات ہوئی تو ایک بہت اچھی خبر ملی  کہ اسکول کی عمارت میں ہاسٹل بھی ہے جہاں میں رات گزار سکتا ہوں، میتھ کے استاد غالباً کہیں چھٹی پر گئے ہوئے تھے ، طے یہ پایا کہ میں اگلے روز صبح بچوں کیلئے میتھ کے کچھ سوال منتخب کر کے اسی میدان میں ان کاامتحان لوں، میں نے شام کو ہی میتھ کی کتاب سے کچھ سوالوں کا انتخاب کرلیا ، مغرب سے قبل اسکول سے نکل کر سڑک کا ایک چکر لگا آیا۔ دن بھر کی تکان اور وادی میں تیزی سے پھیلتی تاریکی اور شدید سردی کے باعث ہاسٹل میں اپنے کمرے کا رخ کیا۔ رات کا کھانا بچوں کے ہمراہ کھا یا، بچوں نے اپنے کمرے کا رخ کیا ،میں کچھ دیر بعد سونے کے ارادے سے لیٹا ہی تھاکہایک بچہ اپنے ہاتھ میں  دھیمی روشنی میں جلتی لالٹین  تھامے کمرے کے دروازے پر آکھڑا ہوا۔
"استاداں جی!حساب کے کچھ سوال سمجھنے تھے،اگر جاگ رہے ہوں توحاضر ہوجائوں؟"
    ایک ہاتھ میں لالٹین ،دوسرے میں حساب کی کتاب اور سلیٹ،ناران کی سرد رات ،شوق علم اورشہر سے آئے ہوئے استاد سے کچھ سیکھ  پانےکے جذبے سے بھرپور معصومانہ سوال نے میری سب تکان رفو چکر کردی اور میں فوراً اٹھ بیٹھا۔ اندر آنے کی اجازت ملنے پراس نے کمرے میں داخل ہو کر لالٹین کی دھیمی لو کو تیز کیااور میری چارپائی کے پاس ہی فرش پر آ بیٹھا۔
   تقریباً ایک گھنٹے تک وہ ایک کے بعد ایک سوال مجھ سے سمجھتا رہا۔کمرے سے واپس جاتے وقت وہ  یہ کہہ کرمیرا تھرماس اپنے ساتھ لے گیا کہ صبح میرے اٹھنے سے قبل ہی گرماگرم چائے بنا کر میری چارپائی کے قریب رکھی چھوٹی سی میز پر رکھ دے گا۔ 1976 کے اس سفر کے دوران میں نے دو یادگارراتیں ناران کے اسکول کے ہاسٹل میں گزاری تھیں۔دور دراز کی چھوٹی چھوٹی آبادیوں سے میلوں کی مسافت طے کرکے آنے والے متعدد معصوم طالب علم ہفتہ بھر اسکول کے ہاسٹل میں گزارتے اور جب اگلے روز چھٹی کا دن ہوتا تو پڑھائی کے بعد اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوجاتے۔
   1976 سے دو سال قبل 1974 میں میں پہلی بار ناران  کی حسین  وادی کو دیکھ کر اس کی محبت میں گرفتار ہوا تھا۔میٹرک کے امتحانات سے فارغ ہونے کے بعد شمالی علاقوں کی طرف  وہ میری زندگی کا پہلا سفر تھا۔وادی کاغان کی خوبصورتی کے چرچے سن رکھے تھے ۔ تب بھی  میں کراچی سے یک وتنہا نکلا تھا اور سیدھا وادی کاغان کا رخ کیا تھا۔اس وقت ناران کے اس بازار میں صرف ایک ہی چھوٹا سا ہوٹل تھا جس میں رہائش کیلئے صرف ایک دوکمرے ہی موجودتھے۔جس کمرے میں میں ٹہرا تھا اس میں میرے ساتھ ہی ایک نوجوان جرمن سیاح بھی موجود تھا۔چھوٹے سے کمرے میں ہم دونوں کی چارپائیوں کی بیچ بہت تھوڑی سی جگہ تھی۔مغرب کے فوراً بعد ناران کی سڑک پر مکمل تاریکی،گہرا سناٹا اور اتنی شدید سردی کہ رات کا کھانا کھا کرہوٹل کے کچن سے اپنے کمرے میں پہنچنے تک بدن ٹھٹھرتا اور دانت بجتے تھے۔میں اندھیرے کمرے میں بچھی اپنی چارپائی پر لحاف میں  جادبکا تھا۔نوجوانی میں گہری نیند فوراً اپنی آغوش میں لے لیتی تھی۔ابھی صبح کی روشنی دروازے کی درزوں سے اندر آنا شروع  بھی نہیں ہوئی تھی کہ کمرے میں ہونے والی کھٹ پٹ کی ہلکی ہلکی آوازوں سے  میری آنکھ کھل گئی۔میں نے لحاف کو انتہائی احتیاط سے ذراسا نیچے سرکا یا  کہ لحاف صرف دونوں آنکھوں پر سے ہٹا ،ناک قطعاً  باہر نہ نکلنے پائی ۔ ہم دونوں کی چارپائیوں  کی درمیانی جگہ پر ایک سایہ  سا حرکت کرتا  دکھائی دیا۔میں نے گھبرا کر بے ساختہ پورے چہرے سے لحاف نیچے کر دیا، دونوں آنکھوں کو اچھی طرح ملا ۔اس اثنا میں دروازے کی درزوں سے کمرے میں درآتی صبح کی روشنی بھی کچھ بڑھی۔جو منظر میری نگاہوں کے سامنے تھا اس نے نہ صرف میری نیند اڑا دی بلکہ میری آنکھیں بھی حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔جرمن نوجوان فرش پر چادر بچھائے  اورصرف نیکر پہنے مختلف قسم کی ورزشوں میں مصروف تھا۔سردی اس قدر شدید تھی کہ میری ناک سن ہوا چاہتی تھی۔میں نے جلدی سے اسے دوبارہ لحاف کے اندر کیا ۔صبح کی روشنی کچھ اور بڑھی تو اس نے چادر طے کر کے چارپائی پر رکھی ،بیگ سے تولیہ نکال کر کندھے پر ڈالااور کمرے سے باہر چلا گیا۔مجھے پھر نیند آگئی۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد پھر آنکھ کھلی تو باہر نکلا۔کمرے کے ساتھ ہی باہر رکھے تخت پر وہ نوجوان بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔میں نے کچن سے ایک جگ میں نیم گرم پانی لے کر ہاتھ منہ دھویا اور اس کے پاس ہی تخت پر آ بیٹھا۔ پتہ چلا کہ موصوف ناشتہ کرنے سے قبل ہی اتنی صبح صبح ورزش سے فارغ ہو کر دریائے کنہار کنارے نہا بھی  آئے تھے۔ تب ناران اتنا مختصرتھاکہ سڑک کنارے موجود ہمارے ہوٹل کے عقب میں کچھ ہی دور بہتادریائےکنہار صاف دکھائی دیتاتھا۔
     آج میں چپلی کباب اور تنور کی گرماگرم روٹیاں شاپنگ بیگ میں لئے اپنے ہوٹل کی طرف روانہ ہوا تو بازار سے کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ  دریا  کہاں بہتا ہے،بلند سرسبز پہاڑوں کے درمیان واقع پیالہ نما حسین ناران کی وادی کے چاروں اطرااف  کے پہاڑ دکھائی نہ دیتے تھے۔میری نگاہوں اور وادی کے قدرتی حسن کے درمیان  بازار میں موجود بے شمار دکانیں اور ہوٹلوں کی پہاڑ جیسی عمارتیں حائل تھیں۔


اٹھارواں دن 

ناران ۔۔۔ایک دن اپنی پہلی محبت کے نام 

     آج کا دن اپنی پہلی محبت ناران کے نام تھا ۔ آسمان بالکل صاف اور صبح انتہائی روشن اور چمکدار تھی۔ کل قصبے میں داخل ہوئے تھے تو رات ہو چکی تھی، صرف طویل بازار کی پر رونق دکانوں اورکثیرالمنزلہ ہوٹلوں کی چکا چوند ہی دیکھ پائے تھے ، آج  کمرے  سے  نکل کر ٹیرس میں آئے تو حسین وادی کے اطراف سفید نگینوں کی مانند دکھائی دیتے گلیشئروں سے مزین بلند سرسبز پہاڑوں نے ہمیں صبح بخیر کہا۔ ہوٹل بازار سے کچھ دوری پر تھا اس لئے خاصا پرسکون تھا۔ 






   ناشتے کے بعد ہمسفر کو ہوٹل میں ہی چھوڑ کرمیں گاڑی کی خیر خبر لینے ورکشاپ تک گیا۔پتہ چلا کہ سہ پہر سے پہلے گاڑی کا فٹ ہونا ممکن نہیں ، واپس ہوٹل آیا ، ہمسفر کو ساتھ لیا  اور بازار کی چہل پہل سے نکل کر جھیل سیف الملوک سے آتے نالے کے پل کے بائیں طرف  نالے کے ساتھ ساتھ دریائے کنہار کی طرف جاتی راہ کا رخ کیا۔ شفاف پانی کا یہ نالہ  پتھروں کے درمیان سے اچھلتا کودتا گھومتا پھرتا آہستہ آہستہ نیچے اتر کر جہاں دریا سے ملتا ہے ناران میں یہ خوبصورت مقام مجھے بہت پسند ہے، دریا کے دوسری جانب پہاڑ کی ڈھلان پر واقع وادی ناران کی ایک قدیم بستی ہمیں دکھائی دے رہی تھی۔ ہم دونوں کے علاوہ اس مقام پر اور کوئی نہ تھا۔









    گزشتہ روز کے خطرناک اورایڈونچر سے بھرپور سفر کے باعث ہمارے دل و دماغ پر چھائی دہشت  تو رات بھر کی بھرپور نیند نے تقریبا ًختم  کر دی تھی ،    بچی کھچی پرمژدگی  کو  جھیل سیف الملوک  سے آتے نالے کا شفاف پانی تیزی سے بہا لے گیا۔ نالےاور دریائے کنہار کےحسین سنگم  نےہماری رگ و پے میں نئی ترنگ بھردی۔ 1988 میں اپنی بڑی بیٹی کے ہمراہ ہم اسی سنگم پر آ بیٹھے تھے، 26 سال پرانی یادوں کے خوشگوار جھونکے  ہماری سوچوں پر چھائے اضمحلال کو اڑا لے گئے۔ فضا میں چھائی خنکی ،پانی کی ٹھنڈک ،دھوپ کی ہلکی ہلکی تپش،اونچے نیچے پتھروں سے ٹکراکر گزرتے نالے کی جلترنگ  اور دریائے کنہار کی گنگناہٹ  نے مل کر ایسا سماں باندھا کہ گزشتہ روز کے سفر کے  دوران وہ مسکان جو ہمسفر کے لبوں سے کہیں کھو گئی تھی، دوبارہ لوٹ آئی۔اس چاہت بھری عنایت پر میں دل ہی دل میں اپنی پہلی محبت وادی ناران کا شکرگزار ہوتا تھا۔ دوپہر کا زیادہ وقت ہم نے  بازار کے ہنگاموں سے دور اس حسین مقام پر ہی گزارا۔


    یہاں سے اٹھے تو پی ٹی ڈی سی موٹل کے وسیع و عریض احاطے میں جا پہنچے۔موٹل کےاحاطےکی مغربی سمت  ساتھ بہتے دریائے کنہار کا پاٹ بہت چوڑا ہوجاتا ہے۔یہاں سے دریا تھوڑا سا جنوب کی طرف مڑ کر ناران کے قصبے کے عقب میں موجود پہاڑ کا رخ کرلیتا ہے۔  جہاں اس وقت ہم موجود تھے ،اس مقام پردونوں اطراف کے پہاڑوں کے درمیان قدرت کی طرف سے عطاکردہ کھلی وادی سے گزرتے وقت دریا سکون کے گہرے سانس لے کر اتنی خاموشی سے بہتا ہے کہ گویا لولوسر جھیل سے یہاں تک کے  طویل سفر کےبعد وادی ناران کےاس خوبصورت موڑ پرکچھ دیر تک سستانے کیلئے ٹہر گیاہو۔ 2004 کے سفر کے دوران اسی پرسکون مقام پر ہم نےاپنی تینوں بیٹیوں کے ہمراہ    دریا کے عین کنارے  موجود بلند درختوں  کے ساتھ بیٹھ کرکچھ وقت گزارا تھا۔ 10 سال بعد آج پھر ہم انہی درختوں کی چھائوں تلے بیٹھے اپنی یادیں تازہ کرتے تھے۔  بھوک کچھ جاگی توسہ پہر کے وقت یہاں سے نکل کر بازار کا رخ کیا۔









    ہم لنچ کیلئے بازار میں کسی ہوٹل کی تلاش میں تھے۔
"جب برسوں پہلے آئےتھے
کس رنگ میں مجھ کوپایا  تھا
کیا یاد کرو گے، دیکھو تو
اس روپ میں سج کرآیاہوں"
پہلی محبت کی آواز اور لہجے کو کون بھول سکتا ہے۔یہ اسی کی آوازتھی جواچانک میری سماعت سےٹکرائی اور کانوں میں رس گھول گئی۔ پہلی چاہت کے لبوں سے ادا کئے جانے والے  الفاظ  اورآواز تو سیدھی دل کی تختی پر اترکر انمٹ روشنائی سے امرہوجانے والے نقوش تراش دیتی ہے۔ میرےقدم صرف رکے نہیں ،سڑک پر جم گئے۔ وہ میرے بالکل سامنے موجود تھا۔میں نےناقابل یقین مسرت اور استعجاب سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"تم یہاں بازار میں ؟"
"پہلے یہ بتائو سیف الملوک  سے  اترتے  نالے  اور  دریائےکنہار  کے سنگم پر  کس سے  ملنے گئے  تھے ؟   پھر  پی ٹی ڈی سی  موٹل کے احاطے کی  آخری حد تک کیوں گئے تھے ؟  "
 اس نے ایک ساتھ دو سوال کر ڈالے۔
"یہاں آیا  ہوں تو ظاہر ہے کہ تم سے ہی ملنا تھا ،  تم وہاں اسی روپ میں تھے کہ جب تم  سے  پہلی  بار مل کر میں تمہارے عشق میں گرفتار ہوا تھا ،  وہی نالے کے بیچ خوبصورت  پتھر،  وہی پانی ، دریا کی وہی روانی ، دریا پار وہی سرسبز پہاڑ  اور درخت، وہی تنہائی ،  وہی  خلوت  ،وہی سکون ۔ پھر موٹل کے احاطے کے آخر میں وہی تمہاری دل  موہ لینے والی  ادائیں ،کچی  زمین پر گھنے درختوں کی ٹھنڈی چھائوں ، ساتھ ہی نشیب میں کنہار کا  سکون  سے  بہتا پانی ،  فضا میں وہی مہک ،چہار طرف بکھرے وہی رنگ ،وہی سکوت۔"
اپنےدل کی آواز  میں نے اس سےکہہ ڈالی۔ 
وہ پھر گویا ہوا۔
"کل رات اسی بازار میں تم افسردہ کھڑےتھے ،  مجھے سوچتے تھے اور تلاش کرتے  تھے ۔  آج صبح سے میرے ساتھ ہو  تو  سوچا بازارمیں بھی تمہیں اپنی ایک جھلک  دکھا دوں ، گزشتہ شب کا تمہارا کچھ  دکھ اورکرب ہی کم کردوں۔"
وہ مسکرادیا اور میرے لبوں پر بھی مسکراہٹ بکھیر گیا۔ 
یہ 2014 تھا ، برسہا برس پہلے کا ناران اپنے قدیم رنگ و روپ میں صرف اپنی ایک جھلک دکھلانے تیزی سے جدت اختیارکرتے اس بازار میں اچانک میرے سامنے  آکھڑا ہوا تھا۔  کیمرہ  میرے ہاتھ میں ہی تھا۔میں نے جھٹ سے اپنی پہلی محبت کی  ایک یادگار تصویر محفوظ  کر لی۔
سڑک کے ایک کنارے کھڑی بیڈ فورڈ کی بس،دوسری طرف پرانی  وضع قطع کی چند  دکانیں  ،دکانوں کے ساتھ ہی قصبے کے قدیم ترین شالیمارہوٹل کی عمارت۔
ہمسفر مجھے حیرت سے دیکھتی تھی۔
"کیا ہو گیا آپ کو ، بیچ بازار میں کیوں رک گئے؟ یہاں ایسی کیا بات ہے جس کی تصویر لے رہے ہیں؟"
"یادوں کا اک جھونکا تھا ، ملنے آیا تھا برسوں بعد۔ پہلی محبت کوبھلا کون بھلا سکتا ہے ؟ "
بازار نہ ہوتا تو یقیناً میرے جواب پر وہ میری ایک زوردار چٹکی ضرورلے لیتی ۔
ہم  برسوں پرانے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں  چپلی کباب کھانے جا بیٹھے کہ میں دوسری کے  ساتھ ساتھ اپنی پہلی محبت کی معیت میں بھی مزید کچھ پل گزارنا چاہتا تھا۔


    
     کھانے کے بعدہمسفر کو ایک بار پھر ہوٹل کے کمرے میں  چھوڑ کر میں ورکشاپ جا پہنچا۔ناران میں جس بائی پاس روڈ پر یہ ورکشاپ واقع تھی، 2004  میں اس  روڈ کا کوئی وجود نہ تھا۔ناران سے بابوسر جانے والی  اکلوتی سڑک  پر جھیل سیف الملوک کی جانب سے آتے نالے پر ایک ہی پل ہوا کرتا تھا۔اب اس نالے پر پرانے پل کے ساتھ ہی بائی پاس روڈ پر مڑنے کیلئے نیا پل تعمیر ہو گیا تھا۔مکینکس کی زیادہ تر دکانیں اس نئے پل سے کچھ ہی فاصلے پر موجود تھیں۔گاڑی کی مرمت کا کام قریب الختم  تھا لیکن اس کے بعد  آئل تبدیل کرنےاور سروس کا مرحلہ باقی تھا۔مکینک نے بتایا کہ وہ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد خود ہی گاڑی ہوٹل تک پہنچا دے گا۔صبح سے سہ پہر تک ناران کی سیر اور دو بار ہوٹل  سے ورکشاپ تک چکر لگا کر کچھ تکان  ہوچلی تھی ، چنانچہ  میں نے کچھ وقت مکینک کے  پاس  گزارنے  کے بعد آرام کرنے کی غرض سے ہوٹل کی راہ لی۔
    سہ پہر شام میں ڈھل  گئی ۔ گاڑی ہمارے پاس واپس پہنچی توتقریباً 5 بج چکے تھے۔ گاڑی فٹ تو ہو گئی تھی لیکن سائلنسر کی آواز  کچھ زیادہ محسوس ہوتی تھی ،بہرحال اتنی تکلیف دہ  اور زوردار نہ تھی کہ  ناقابل برداشت ہو۔ناران کی مغربی سمت کی سیر کر چکے تھے  ، پہلے   جھیل سیف الملوک جانے والی راہ کی طرف مڑے  ۔10 سال قبل ناران سے جھیل کی طرف جاتی اس سڑک پر کوئی ہوٹل  نہ تھا، آج بلندی کا رخ کرتی اس تنگ سڑک پر دور تک جدید ہوٹلوں کا ایک سلسلہ دکھائی دیتا تھا۔چنانچہ اس راہ پرتھوڑا سا ہی فاصلہ طے کر نے کے بعد ہم واپس پلٹے اور  بائی پاس روڈ سے ہوتے ہوئے ناران کی مشرقی حدود میں جا پہنچے۔
     ایک چوک پر پہنچ کر بائی پاس روڈختم ہوکر ناران سے کاغان کا رخ کرتی سڑک سے جاملی۔اس  راہ پر کچھ آگے بڑھے تو سڑک کے بائیں طرف   بڑی تعداد میں ٹینٹ  اور کنٹینر ہوٹل جبکہ بائیں طرف سڑک اور دریا کے بیچ جیپوں کا جم غفیردکھائی دیا۔شمالی علاقوں میں سیزن کی ابتدا کے ساتھ ہی  ناران میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔جیپ ڈرائیور دریا کنارے اپنی اپنی جیپوں کی صفائی اور انہیں چمکانے دمکانے میں مصروف تھے۔کچھ فاصلہ مزید طے کیا تو بائیں طرف کے پہاڑوں سے  ایک وسیع  سفیدچادر کی مانندبڑا سا گلیشئر وادی ناران میں  سڑک کے عین کنارے تک اترتا چلا آتا تھا۔شام ہونے کے ساتھ ہی سورج تو پہاڑوں کے عقب میں جا چھپا تھا لیکن  اس کی کرنیں مشرقی سمت کے پہاڑکی بلندی پر موجود ہرے بھرے درختوں پر روشنی   بکھیرتی تھیں۔ چند سیاح اس عظیم گلیشئر پر گھومتے پھرتے جبکہ کچھ بچے برف میں پھسلن بنا کر ذرا بلندی سے نشیب کی طرف پھسلتے اور خوش ہوتے تھے۔ ہم گزشتہ روز کے سفر کے دوران ایسے لاتعداد گلیشئروں کے درمیان   گھوم پھر  اور اپنی گاڑی کو کشتی بناکر ان کے بیچ بہتی ندیوں میں تیر بھی آئے تھے ، اس لئے جلد ہی اس جگہ سے واپس مڑ گئے۔







    بازار کی طرف جاتی سڑک کے بائیں طرف دریا کچھ قریب آیا تو میں نے گاڑی روک دی ۔ دریا کے کنارے اکا دکا ہوٹل بنے تھے  ۔ وادی میں  شام کے سائے  گہرے ہورہے تھے، سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد یہاں دریا کے خوبصورت نظارے سے محظوظ ہو رہی تھی۔ شام کے بھیگنے کے ساتھ ساتھ ٹھنڈک  بھی بڑھتی جارہی  تھی۔ دریا کنارے موجود ہوٹل کے باہر میز کرسیاں سجی تھیں ، کڑھائیوں میں گرماگرم پکوڑے اور سموسے تلے جارہے تھے۔قریب ہی دریا پار کرانے کی سیر کی غرض سے  فولادی رسوں پر جھولتی لوہے کی ٹرالی دریا کے اس کنارے سے دوسرے کنارے پر چکر لگا رہی تھی۔ ہم بھی اس ٹرالی کے ذریعے کچھ دیر کیلئے کنہار پار گئے۔دریا کی دوسری سمت سے سامنے دکھائی دیتے ناران کے قصبے کا نظارہ بہت دلکش تھا۔واپسی میں دریا کنارے ایک ہوٹل کے باہر رکھی کرسیوں پر بیٹھ کر گرما گرم چائے پی۔دھوپ کی سنہری کرنیں مشرقی سمت کے پہاڑکی چوٹیوں سے بھی رخصت ہوتی  تھیں جب ہم وادی ناران میں کنہار کنارے سےاپنے ہوٹل کے لئے  روانہ ہوتے تھے۔










    مغرب کے بعد ہم نے کچھ دیرتک  کمرے  میں آرام کیا ۔رات کے کھانے کے لئے پھر بازار کا رخ کیا تو وادی کے اطراف کے پہاڑ تاریکی میں غائب ہو چکے تھے۔دریا قصبے کے بازار سے پرے دور کہیں خاموشی سے بہتا تھا۔ایک ہوٹل میں ڈنر کے بعد ہم ناران کے کم از کم ایک  ڈیڑھ کلومیٹرطویل بازار کی روشنیوں میں چہل قدمی کرتے تھے اور کون آئسکریم کھاتے تھے۔دن بھر خاصا چلے پھرے تھے ۔ کل صبح ناران سے نکلنا بھی تھا ، اس لئے ہم نے جلد ہی ہوٹل کی راہ لی۔