کٹھن آغاز ۔۔ عظیم تربیلا ۔۔ خوبصورت آبشار

بسم اللہ الرحمان الرحیم

السلام علیکم
23 دن طویل سفر  ۔۔۔ اپنی ہم سفر کے ساتھ  ۔۔۔ مہران میں ۔۔سال  2014
27 مئی ۔۔ کراچی سے صادق آباد 
28 مئی  ۔۔ صادق آباد سے کلر کہار
29 مئی  ۔۔ کلر کہار سے تربیلا ڈیم۔۔ سجی کوٹ آبشار ۔۔ حویلیاں ۔۔ مانسہرہ
30 مئی  ۔۔ مانسہرہ سے براہ شاہراہ قراقرم ... پتن
31 مئی  ۔۔ پتن سے استور
یکم جون  ۔۔ استور۔۔۔۔ راما
2 جون  ۔۔ استور۔۔۔۔ ترشنگ ۔۔۔ گلگت
3 جون  ۔۔ گلگت سے اسکردو
4 جون  ۔۔ اسکردو ۔۔۔ سدپارہ
5 جون  ۔۔ اسکردو ۔۔۔ شنگریلا ۔۔ ژوق نالہ ۔۔۔ اپر کچورا جھیل
6 جون  ۔۔ اسکردو۔۔ منٹھوکھا آبشار
7 جون  ۔۔ اسکردو سے مینا پن ۔۔ ہنزہ کریم آباد
8 جون  ۔۔ ہنزہ کریم آباد التت اور بلتت فورٹ ۔۔دومیل دریائے ہوپر و ہنزہ
9 جون  ۔۔ ہنزہ کریم آباد سے عطا آباد جھیل۔۔۔بورت جھیل۔۔ پسو گلیشیر ۔۔
10 جون  ۔۔ ۔سوست سے درہ خنجراب۔۔پاک چین سرحد۔۔۔ گلمت
11 جون  ۔۔ گلمت سے عطا آباد جھیل۔۔ گلگت
12 جون  ۔۔گلگت سے براہ درہ بابو سر ۔۔۔۔ ناران
13 جون  ۔۔ ناران
14 جون  ۔۔ ناران سے مانسہرہ ۔۔ایبٹ آباد۔۔۔ نتھیا گلی
15 جون  ۔۔ نتھیا گلی ۔۔۔ ایوبیہ ۔۔ بھوربن ۔۔اسلام آباد ۔۔ راولپنڈی
16 جون  ۔۔ راولپنڈی سے لاہور
17 جون  ۔۔ لاہور سے بہاولپور
18 جون  ۔۔ بہاولپور سے کراچی

سلام ایف ڈبلیو او کے ان دونوں اہلکاروں کو


چلاس سے درہ بابوسر کے راستے ناران جاتے وقت جب بابوسر ٹاپ صرف تین یا چار کلومیٹر  دور رہ گیا تو ایک چڑھائی پر سڑک کی تعمیر کیلئے پتھر اور روڑی بچھی ہونے کے سبب میریمہران نے فرسٹ گیئر میں بھی مزید بلندی پر چڑھنے سے انکار کر دیا۔  میں سوچتا تھا کہ ٹوٹی کہاں کمند ۔۔۔
ان دونوں اہلکاروں نے سڑک کی تعمیر کیلئے استعمال ہونے والے اس ٹریکٹر سے باندھ کر مہرانکو بابوسر ٹاپ تک پہنچا دیا۔ بابوسر ٹاپ کراس کرنا میرا ایک خواب تھا جو ان دونوں کی محبت اور خلوص سے بھری  مدد کے باعث تعبیر پا سکا۔
اپنے جن افسر سے انہوں نے ہماری مدد کیلئے اجازت طلب کی میں ان کا بھی تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔ میں نے اپنی مرضی سے بابوسر ٹاپ پر پہنچ کر ان دونوں کو کچھ رقم دینے کیبھی پیشکش کی لیکن انہوں نے مجھ سے صرف دعائوں کا مطالبہ کیا۔
میرے پیارے وطن کے پیارے بھائیو۔ میری دعائیں بھی ہمہ وقت تمہارے ساتھ ہیں اور میرا  دل  کی  گہرائیوں سےمحبت بھرا سلام بھی تمہاری نذر۔

تم دونوں کے پر خلوص جذبوں پر ایک مسلمان اورایک پاکستانی ہونے کے ناطے مجھے فخر ہے۔


سفر سے قبل

کراچی سے خنجراب یعنی پاکستان کے جنوب سے انتہائی شمال تک کا لمبا سفر ہو تو مسا فروں کے ساتھ ساتھ گاڑی کا ہر لحاظ سے فٹ ہو نابھی اشد ضروری تھا۔ روانگی سے ایک ہفتہ قبل انجن  کی ٹیوننگ ،ریڈی ایٹر کی صفائی، مہران کے ناتواں اے سی کی گیس  کی چیکنگ،جمپ،ٹائی راڈ ، ٹائرز،بریکیں ۔۔۔ ان سب کا تفصیلی چیک اپ اور مرمت کروائی۔ مانسہرہ کے آگے کے علاقوں  کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظرپٹرول کے ذخیرے کیلئے دس دس لٹر والے آئل کے دو  خالی کین بھی خرید لئے۔ ایک اضافی اسٹپنی بھی ساتھ رکھ لی۔ مسافروں کیلئے ضروری دوائوں  کا بھی انتظام کیا۔ 29 دن کے پروگرام کیلئے کپڑوں کی بھی خاصی تعداد ہونا ضروری تھی چنانچہ   موسم کی مناسبت سے کپڑوں کے انتخاب اور ان کی پیکنگ کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔۔۔ اور 26مئی کی نصف شب تک حتی الامکان دل کی مکمل تسلی اور اطمینان تک جاری رہا۔

پہلا دن
گرم سندھ ۔۔۔۔ کٹھن آغاز
رات کے سیاہ سمندر میں قدرت نے مشرقی افق سے صبح صادق کا دودھیا رنگ انڈیلنا شروع  کر دیا تھا جب ہم صبح ساڑھے چاربجے اپنے سوٹ کیس اور بیگز مہران کی عقبی سیٹ پر رکھ رہے تھے۔ہمارے سابقہ سفر کے ساتھی شاہد اور ان کے اہل خانہ رات ہم سے ملاقات کیلئے  آئے تھے ۔وہ اپنے ہمراہ ہمارے زاد راہ کیلئے نمکو اور دیگر لوازمات کا تحفہ ساتھ لیتے آئے  تھے۔ میری اکلوتی ہم سفر نےصبح روانگی سے پہلے صرف کچھ انڈے ابال لئےتھے اور چائے   بنا کر تھرماس میں رکھ لی تھی۔پانی کی ایک چھ لٹر والی بوتل اور برف کی کیوبز بھی ایک دوسرے تھرماس میں رکھ لی گئیں۔ مہران کی پوری پچھلی سیٹ سامان سے بھری ہوئی ڈگی کا منظر پیش کررہی تھی۔ اتنی جگہ البتہ ضرور تھی کہ مجھے بیک مرر سے اپنے عقب میں آنے والے ٹریفک کو دیکھنے میں دشواری نہ ہو۔ پونے پانچ بجے ہم گھر کو الوداع کہہ کر سفر کی دعا کے ساتھ روانہ ہوئے تو فجر کی اذانوں کا  سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ سپر ہائی وے پر  الحبیب ریسٹورنٹ کی مسجد میں ہم نے نماز فجر ادا کی۔ موسم گرما کی صبح تھی لیکن سورج نکلنے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا اس لئے سپر ہائی وے پر سفر کے دوران ہوا بہت  خوشگوار تھی۔ شاہراہ پر ٹریفک بھی بہت کم تھا۔ ہمارا سفر جاری تھا ۔ چونکہ ہمارا رخ مشرق کی طرف تھا اس لئے آسمان  کی سفیدی ہماری نظروں کے سامنے گلابی شفق کے رنگ میں  ڈھلتی جا رہی تھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد  مشرقی افق سے سورج نے سر ابھارنا شروع کر دیا۔



نوری آباد سے گزرتے ہوئے ہم ساڑھے سات بجے سے قبل سپر ہائی وےکے حیدرآباد ٹول پلازہ پہنچ گئے۔سپر ہائی وے کا اختتام ہوا اور حیدرآباد بائی پاس کا آغازہوا۔بائی پاس کے ٹول پلازہ سے گزر کر ہم کچھ ہی دیرمیں دریائے سندھ کے پل پر سے گزرے۔ ہمارے سردیوں کے سفر کے مقابلے میں اس بار دریا میں پانی کی مقدارخاصی زیادہ تھی۔




حیدرآباد بائی پاس پر ایک ٹرک کے خراب ہو جانے کے باعث ہمیں اچھے خاصے ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔ٹرکوں اور ٹریلروں کی لمبی قطار لگی ہو ئی تھی۔ ہماری گاڑی کی چھوٹی جسامت کی وجہ سے سڑک کے بائیں طرف کے بچے ہوئے تنگ راستے سے ہم اس لمبی قطار کو اوور ٹیک کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ حیدرآباد کےباسیوں کی اکثریت ابھی اپنی گاڑیاں لے کر سڑکوں پر نہیں آئی تھی ورنہ ہمیں اس ٹریفک جام سے نکلنے میں زیادہ مشکل پیش آسکتی تھی۔بائی پاس کے دونوں اطراف بسے ہوئے ہوائوں کے اس شہر کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہم کچھ ہی دیر بعد بائی پاس سے نکل کر این فائیو پر رواں دواں تھے۔ موسم ابھی تک خوشگوار تھا۔صبح کی ٹھنڈی ہوائوں کےجھونکے اب سڑک کے دونوں اطراف پھیلے ہوئے سرسبز کھیتوں سے سرسراتے ہوئے گاڑی کی کھڑکیوں سے گزر کرہمیں تازگی بخش رہے تھے۔آٹھ بجے کے قریب ہم ناشتے کی غرض سے مٹیاری بائی پاس پر واقع ایک بڑے سے پی ایس اوکے پمپ کے پاس رکے۔ پمپ کے وسیع و عریض    پختہ میدان میں ایک درخت کی چھائوں تلے ایک خالی چارپائی کے قریب میں نے گاڑی روک دی۔شاہد کےلائے ہوئے کپ کیکس اور ابلے ہوئے انڈوں کا ناشتہ کرنے کے بعد ہم نے چائے پی اورکچھ دیر آرام کرنے کے بعد ساڑھے آٹھ بجے یہاں سے روانہ ہوئے۔





سورج کے بلند ہونے کے ساتھ ساتھ دھوپ کی تپش آہستہ آہستہ ہوا کی ٹھنڈک پر اثر انداز ہوتی جارہی تھی         اور اب ہوا کے خوشگوار جھونکوں کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی گرم ہوا کا ہلکا سا تھپیڑا بھی ہمارے چہروں کو چھو جاتا تھا۔اسی طرح سندھ کے ان قصبوں سے گزرتی این فائیو پرسڑک کی تعمیر کے ہمیشہ جاری و ساری  رہنے والے کام کے باعث متبادل راستوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔ ادھرگاڑی کی کھڑکیوں سے آنے والی ہوا میں خوشگوار جھونکوں کے بجائے گرم تھپیڑوں کا تناسب بڑی تیزی سے بڑھتا جا رہا تھا جو آنے والی قیامت خیز دوپہر سے ہمیں پیشگی آگاہ کر رہا تھا۔ ساڑھے دس بجے تک تو یہ گرم ہوا ہمارے لئے قابل برداشت تھی لیکن گیارہ بجے تک یہ اتنی تیزی سے لو کے تھپیڑوں میں تبدیل ہو ئی کہ جیسے درجہ حرارت بتانے والا آلہ کراچی میں چلنے والے رکشے یا ٹیکسی کا میٹر بن گیا ہو۔ ہم نے اپنی اپنی سائیڈ کے شیشے بند کر کے سیاہ شیڈلگائے اور اپنی گاڑی کے ناتواں اے سی کو کھول لیا۔اندر کا موسم اب کچھ بہتر ہو گیا لیکن ابھی ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ بارہ بجے کے قریب شاید باہر کا درجہ حرارت 45 ڈگری سنٹی گریڈ کے قریب پہنچنے کی وجہ سے گاڑی کے انجن کی گرمی بتانے والی سوئی سرخ نشان کے قریب تر پہنچ گئی۔ ایک جگہ کسی زیر تعمیر پٹرولپمپ کے شیڈ تلے میں نے گاڑی روکی۔ اے سی بند کر کے شیشے کھولے تو باہر چلتی شدید لو کے تھپیڑوں نے ہمارے چہروں کو جھلسا دیا۔شیڈ کی چھائوں کے باوجود ہوا کی یہ تپش بتا رہی تھی کہ کم از کم 46 ڈگری سنٹی گریڈ گرمی پڑ رہی ہو گی ،حالانکہ ابھی تو دوپہر کا آغاز تھا۔ کچھ دیر یہاں ٹہرنے کے بعد ہم بغیر اے سی چلائے یہاں سے روانہ ہوئے۔ میں نے سندھ کی یہ گرم ترین دوپہر آگے آنے والے کسی ائر کنڈیشنڈ ہوٹل میں گزارنے کا فیصلہ کر لیا تھا کیونکہ گاڑی میں بغیر اے سی کے اتنی شدید گرمی میں سفر جاری رکھنا ممکن نہ تھا، ایک ڈیڑھ گھنٹے کے مزید سفر اوراین فائیو کے متبادل راستوں اور لو کے تھپیڑوں سے نبرد آزما ہونے کے بعد رانی پور ریاست میں ایک بہتر ہوٹل نظرآیا۔ ہوٹل کا ڈائننگ  ایریا پرسکون تھا لیکن یہاں کوئی فیملی ہال نہیں تھا۔ ہوٹل کے کائونٹر پر موجود شخص نے بتایا کہ چند کلومیٹر آگےگمبٹ میں کوئی راحیل ہو ٹل ہے جو ائر کنڈیشنڈ بھی ہے اور وہاں فیملی ہال کی سہولت بھی موجود ہے۔ چنانچہ دس پندرہ منٹ تک اس پرسکون ہوٹل میں اپنے ہوش وحواس  کسی حد تک بحال کر کے ہم راحیل ہوٹل کی تلاش میں سوئے گمبٹ روانہ ہو گئے۔
راحیل ہوٹل کا اصل نام رائل ان ہو ٹل تھا لیکن اس شخص کے سندھی لب ولہجے کےباعث رائل کا لفظ مجھےراحیل  سنائی دیا تھا۔ہمیں اس وقت پیڑ گننے کے بجائے آم کھانے سے مطلب تھا اس لئے ہم نے دل ہی دل میں ہوٹل کا غلط نام بتانے پر اس شخص کو فی الفور دل کی گہرائیوں سے معاف کر دیا اور ہوٹل کے ائر کنڈیشنڈ فیملی ہال میں جا گھسے۔وضو کر کے تازہ دم ہوئے۔ظہر کی نماز ادا کی۔لنچ کیا۔اس دوران بجلی کی بار بار آمدو رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ اچھی بات یہ تھی کہ ہوٹل والوں کا اپنا بڑا ڈیزل جنریٹر موجود تھا۔ اور ایک روم کولر بھی ہماری میز کے قریب ہی رکھا ہوا تھا۔ جب بجلی چلی جاتی تو جنریٹر اورروم کولرچلا دئے جاتے ۔ لائیٹ آنے کے بعد دوبارہ اے سی آن ہو جاتا۔ سہ پہرکےبعد ہم نےچائے پی۔ عصر تک یہیں آرام کیا۔ عصر کی نماز کے بعد پونے چھ بجے میں نے فیملی ہال کے باہر جا کر موسم کا جائزہ لیا۔گرمی کی شدت میں برائے نام کمی ہوئی تھی۔ ہمارے موبائل پر درجہ حرارت بتانے والی موسم کی ایپ  43ڈگری سنٹی گریڈ بتا رہی تھی اور بالکل درست بتا رہی تھی۔ ہوٹل والے نے ہمیں بتایاکہ یہاں آجکل ایسی ہی آگ برستی ہے اور سورج غروب ہونے تک گرمی میں برائے نام ہی کمی آ پاتی ہے۔بہرحال ایک بات تو طے تھی کہ سورج کے آسمان سے اترنے کے ساتھ ساتھ گرمی کی شدت میں کمی ہی ہوسکتی تھی، مزید اضافہ ہونے کا کوئی خدشہ نہ تھا ۔







چھ بجے سے قبل ہی  ہم گمبٹ کے اس ہوٹل سے روانہ ہو گئے۔جوں جوں ہم خیرپور کی طرف بڑھتے جاتے تھےسورج ہمارے بائیں جانب کھجوروں کے باغات کی اوٹ میں نیچے اترتا جاتا تھا۔ لو تھی کہ بدستور چلتی تھی۔اور ہمارےچہروں کو سیکتی تھی۔ ہم ترستے تھے کہ کہیں سے کوئی بھولا بھٹکا خوشگوار ہوا کا جھونکا ہمیں آ کر چھو لے لیکن ہماری یہ حسرت حسرت ہی رہی۔ یہاں تک کہ روہڑی کے قریب سورج غروب ہو گیا۔ روہڑی بائی پاس کا مخصوص سفید چٹیل میدان شاید دن بھر کی تپتی دھوپ کو اپنے اندر جذب کر گیا تھا اور اس علاقے میں موجود پہاڑیوں نے لو کےگرم تھپیڑوں کو قید کر لیا تھا کہ جب ہماری گاڑی اس سفید میدانی اور پہاڑی علاقے سے گزر رہی تھی تو اس علاقے میں قیدگرم ہوائیں سورج غروب ہونے کے باوجود ہمیں جھلسائے دے رہی تھیں۔ روہڑی بائی پاس سے  نکلنے کے بعدسڑک کے دونوں اطراف کھیتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تو گرم ہواکے دم توڑتے تھپیڑوں کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی کچھ خوشگوار جھونکے بھی ہمیں محسوس ہونا شروع ہوئے۔ مغرب کی نماز کیلئے ہم پنو عاقل بائی پاس پر ایک پٹرولپمپ سے متصل مسجد کے پاس رکے۔ یہاں سے روانہ ہوئے تو دن کی روشنی ختم اور رات کی تاریکی کا راج شروع ہوچکا تھا۔ ابھی ہم سندھ کی حدود میں ہی تھے اس لئے متبادل راستوں کے بحران سے نکل نہیں پا رہے تھے۔رات 10 بجےکے قریب ہم سندھ اور پنجاب کی درمیانی حد تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔لیکن سندھ کی حدود میں پائی جانے والی  تباہ حال این فائیو   نےہمیں پنجاب کی حدود میں داخل ہونے سے قبل بھی ہمیں ایک بڑے جھٹکے سے دوچار کیا۔بلکہ ایک ساتھ کئی زبردست جھٹکوں سے ۔تاریکی میں ڈوبی این فائیو پر پنجاب میں داخل ہونے سے قبل بنائے گئے دو یا تین اسپیڈ بریکرز مجھے نظر نہ آسکے کیونکہ ان اسپیڈ بریکرز کی آمد کے بارےمیں پیشگی متنبہ کرنے کا کوئی بورڈ سڑک کے کنارے لگانےکی زحمت گوارا نہیں کی گئی تھی۔ سو ہم نے پچاس یا ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اچھلتے کودتے ان اسپیڈ بریکرز کو عبور کیا اور اس طرح یا اللہ خیر کا ورد کرتے ہوئےسندھ کی حدود کو پار کیا۔ پنجاب شروع ہوتے ہی سڑک کے کنارے باقاعدہ نوٹس بورڈز کا سلسلہ شروع ہوا۔ متبادل راستوں کے عذاب سے بھی جان چھوٹی۔ پونے گیارہ بجے رات ہم صادق آباد بائی پاس کے مین چوک پر پہنچے۔ایک لمبے اورکٹھن دن کا اختتام ہمیں یہیں پڑائو ڈال کر کرنا تھا۔ صادق آباد شہر بائی پاس سے  تقریباً  ایک کلومیٹر کی دوری پردائیں طرف واقع ہے۔ہم اسی چوک کے قریب ہی کسی ہوٹل میں رات گزارنا چاہتے تھے تاکہ صبح فجر کے بعد ہم جلد از جلد این فائیو پر اپنا سفر آگے شروع کر سکیں۔ اس چوک سے شہر جانے والے راستے پر مڑنے کے دو تین سو میٹرز کے بعد ہی ہمیں ایک گیسٹ ہائوس نظر آگیا ۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے جب ہم گیسٹ ہائوس کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے اپنے کمرےمیں داخل ہوئے۔ اچھی بات یہ تھی کمرے میں ائر کنڈیشنڈ موجود تھا اور اس سے بھی زیادہ بڑھ کر یہ کہ بجلی بھی تھی۔ڈنر کیلئے گیسٹ ہائوس میں کوئی انتظام نہ تھا لیکن انہوں نے بائی پاس کے چوک پر واقع ایک ہوٹل سے ہمیں ڈنرمنگوا دیا۔ گو کہ ہمیں اس منگوائے جانے والے ڈنر کیلئے ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا۔







دوسرا دن

سرسبز پنجاب ۔۔۔ معتدل موسم ۔۔۔ سڑکیں لاجواب



صبح کے پانچ بجے ہم نے صادق آباد کے گیسٹ ہائوس سے اپنے سفر کا دوبارہ آغاز کیا۔ صبح کا سہانا وقت،لاجواب سڑک اور اس کے دونوں اطراف لہلہاتے سر سبز کھیت اور آم کے باغات،صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہلکی سفید روشنی میں دور سڑک کے کنارے اینٹوں کے کسی بھٹے کی چمنی سے بل کھاتا اٹھتا سیاہ دھواں۔ یہ سب حسین مناظر اوردلکش موسم ہمارے کل کے گزرے ہوئے دن کی تمام کلفتوں کو بھلا کر ہمیں پھر سے تازہ دم کر چکے تھے اور ہم اپنے آج کے اس صبح کے سفر کا بھرپور لطف اٹھا رہے تھے۔ ساڑھے پانچ کے بعد ہمارے سامنے ہی این فائیو کےداہنی طرف دور افق سے سورج نے سر ابھارنا شروع کر دیا۔ صادق آباد سے اتنا صبح سویرے نکلنے کا مقصد یہی تھا کہ دوپہر کے آغاز سے قبل ہی ہم بہاولپور ڈویژن کے اس گرم ریگستانی علاقے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نسبتا ً زیادہ سرسبز و شاداب وسطی پنجاب تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکیں اور اگر پھر گرمی کی شدت ہمیں گزرے ہوئےکل کی طرح کہیں لمبے آرام کیلئے رکنے پر مجبور کردے تو ہم رکنے سے پہلے ہی اچھا خاصا فاصلہ طے کر چکےہوں۔علی الصبح سفر کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ سڑک پر ٹریفک بھی بہت زیادہ نہیں ہوتا۔ این فائیو کی حالت بھی یہاں بہت بہتر تھی چنانچہ سفر کافی تیزی سے اور خوش اسلوبی سے طے ہو رہا تھا۔ ظاہر پیر،خان بیلہ اوراحمد پور شرقیہ سے ہوتے ہوئے ہم صبح آٹھ بجے کےکچھ ہی دیر بعد بہاولپور بائی پاس پہنچ گئے۔دریائے ستلج کا پل عبور کرنے کے فوراً بعد سڑک کے بائیں جانب واقع بہاولپور فش پوائنٹ کے سامنے ناشتے کی غرض سے میں نے گاڑی روک دی۔ موسم ابھی تک خوشگوار تھا۔ سڑک سے متصل ہی ذرا نشیب میں ہوٹل والے کا بڑا سا سرسبز لان تھاجس میں بچھی میز کرسیوں پر ہم بیٹھ گئے۔ تھا تو یہ فش پوائنٹ لیکن ہم نے بجائے مچھلی کے ،چنے اور پراٹھوں کا ناشتہ کیا، بہترین چائے پی اور اس خوبصورت مقام پر آدھا گھنٹہ آرام بھی کیا۔ پی ٹی سی ایل کے نائٹرو کلائوڈ کی بدولت انٹر نیٹ کی سہولت ہمہ وقت ہمیں میسر تھی۔ موبائل فون میں واٹس ایپ ہمیں اپنی بیٹیوں سے مسلسل رابطے میں رکھےہوئے تھا۔ بے شک سائنس کی ترقی اور ان نت نئی ایجادات نے ہمارے ایک دوسرے سے رابطے بہت سہل بنا دئے ہیں لیکن ان سہولتوں کا بلاوجہ اورضرورت سے زیادہ استعمال ہمارے لئے اپنے اہل خانہ سے دور ی کا باعث بھی بنتا جارہاہے۔ چھوٹےچھوٹے بچوں کو اب اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے زیادہ عزیز وہ ڈیوائسز ہو گئی ہیں کہ جن میں ان کی پسند کے مختلف گیمز موجود ہوں۔ ہمارے ہاتھوں میں سیل فونز اور بچوں کے ہاتھوں میں ڈیوائسز۔ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ہم ایک دوجے سے بہت دور اور رابطے برائے نام اور بسا اوقات تو بالکل ہی منقطع۔ ہر نئی سہولت کی افادیت اپنی جگہ لیکن اس کا درست استعمال اور اس کے فائدوں اور نقصانات کا ادراک بہت ضروری ہے۔ بہتر رابطوں کی یہ سہولتیں ایک ہی گھر میں اور ہمہ وقت قریب رہنے والوں کوایک دوسرے سے دور کر دیں تو یہ لمحہ فکریہ تو ہے ہی۔ بہرحال اس وقت ہم نے اس سہولت کا درست فائدہ اٹھاتے ہوئے اس خوبصورت مقام کی کچھ تصویریں بھی اپنی بیٹیوں کو بھیج دیں۔

زیر نظر  دو تصویریں صادق آباد کے گیسٹ ہائوس کی ہیں جہاں سے ہم صبح سویرے روانہ ہوئے۔



صادق آباد سے بہاولپور کے درمیان کی کچھ تصاویر   ۔۔۔ 







دریائے ستلج اور دریا کے اس پار بہاولپور فش پوائنٹ کے ہوٹل اور سبزہ زار کی کچھ تصاویر کہ جہاں ہم نے ناشتہ کیا۔ 












ہوٹل کے اس سبزہ زار سے ہم 9 بجے روانہ ہوئے۔ ہوا کی ٹھنڈک آہستہ آہستہ گرمی میں بدلنا شروع ہو گئی تھی۔لودھراں بائی پاس،چک مجاہد اور بستی ملوک سے ہوتے ہوئےہم 11بجے کے قریب ملتان شہر کے قریب سےگزرنے والے سدرن بائی پاس پر واقع چورنگی پر پہنچ گئے۔ اس چورنگی پر این فائیو پر جانے کیلئے دائیں طرف  مڑے اور پھر تقریباً پندرہ کلومیٹر تک ہمارا سفر اسی سدرن بائی پاس پر جاری رہا۔ سدرن بائی پاس ختم ہونے کےتقریباً چھ کلومیٹر بعد قادرپور بائی پاس شروع ہو جاتا ہے۔ ان دونوں بائی پاسز سے گزرتےہوئے مجھے اپنے سردیوں کے سفر میں بھی ایک دو جگہ رک کر صحیح سمت میں نہ جانے کا شک دور کرنا پڑا تھا اور اس بار بھی میں نے درست راستے پر جانے کے باوجود اپنے بھٹک جانے کے خوف کو دور کرنے کیلئے ایک دو جگہ رک کر معلومات حاصل کیں۔ کسی غلط راہ پر جانے کا احتمال ہو تو احتیاط کے طور پر ایسا کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ قادرپور بائی پاس سے ہوتے ہوئے ہم کبیروالا روڈ چوک پر پہنچے جہاں این فائیو دائیں طرف خانیوال کیلئے مڑتی چلی گئی اور ہم اسے چھوڑ کر کبیروالا،شورکوٹ اور جھنگ کے راستے فیصل آباد جانے والی راہوں پرچل نکلے کہ ہماری اگلی منزلوں تک رسائی کیلئے یہ نسبتاً مختصر راستہ ہے۔ دوپہر کے 12 بج رہے تھے جب ہم کبیروالا شہر کے بھٹہ چوک پر پہنچے۔ یہاں سےجھنگ کیلئے سڑک الٹے ہاتھ کی طرف مڑتی ہے۔ گزشتہ روزتقریباً اسی وقت سندھ میں انتہائی جھلسا دینے والی گرمی کا آغاز ہو چکا تھا۔ موسم یہاں بھی اب خاصا گرم ہو چلا تھا لیکن یہاں کا درجہ حرارت سندھ کی بہ نسبت کم از کم 10 سنٹی گریڈ کم محسوس ہو رہا تھا۔ لیکن ابھی دوپہر کا آغاز تھا۔ میراارادہ یہاں کسی میکنک سے رجوع کرکے اے سی چلانے کی صورت میں گاڑی کے گرم ہوجانے کا مسئلہ بیان کرنے کا تھا۔ چنانچہ اپنے دائیں ہاتھ پر ایک موٹر ورکشاپ دیکھ کر میں نے گاڑی روک دی۔ میکنک نے میرا مسئلہ سن کرجس انداز سے انجن میں اپنی کارگزاری کاآغاز کیا اس سے میں نے اندازہ لگا لیا کہ وہ ایک سمجھدار اور ذہین شخص ہے۔ہم سفر گاڑی کی اس مرمت کے دوران ورکشاپ کے اندرونی حصے میں بنے ہوئے چھپر کی چھائوں تلے بیٹھی ہوئی تھی جبکہ میں مکینک اور اس کے ایک دو چھوٹوں کے ہمراہ دھوپ  میں ہی گاڑی کا یہ مسئلہ سمجھنے اور اسے حل ہوتا دیکھنے میں مصروف تھا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد میں مکینک کے ہمراہ ایک دوکلو میٹر کے فاصلے تک گاڑی کی ٹرائی کیلئے گیا۔ اس دوران میکنک نے مجھے ایک اہم بات یہ بتائی کہ گاڑی کے اے سی کو فل کے بجائے ایک درجہکم رکھا جائے۔ اس طرح ٹھنڈک بھی بہتر ہو گی اور گاڑی کے گرم ہونے کا خدشہ بھی نہیں ہو گا۔ مکینک کے ہمراہ آدھا گھنٹہ دھوپ میں کھڑے رہ کر مجھے اندازہ ہوا کہ گرمی کبیروالا میں بھی خاصی شدت اختیار کر چکی ہے کیونکہ اس آدھے گھنٹے کے دوران میں خاصی حد تک پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔ گاڑی کے کام اور پھر اس کی ٹرائی میں ہمارا پون گھنٹہ صرف ہو چکا تھا۔ اگر گاڑی کا اے سی آگے کے سفر میں ہمیں پریشان نہ کرے تو یہ پون گھنٹہ یہاں صرف کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ میکنک ذہین اور سمجھدار ہونے کے ساتھ ساتھ مہربان بھی تھا اوراس مہربانی کا مظاہرہ اس نے اس وقت کیا جب ہماری مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ہم سے منہ مانگی اجرت لینے کے بجائے ہمیں اپنا مہمان اور مسافر گردانتے ہوئے صرف دو سو روپے اجرت طلب کی اور وہ بھی ہماری مرضی پر چھوڑا کہ اگر ہم اس کو بخوشی یہ اجرت دینا چاہیں تو دیں ورنہ صرف دعائیں دے کر روانہ ہو جائیں۔ سو ہم نے اس مہربان مکینک کو دعائوں کے ساتھ ساتھ دو سو روپے اجرت بھی بخوشی ادا کی اور کبیر والا کے اس بازار سے پون بجے روانہ ہو گئے۔
اے سی اب چلا لیا گیا تھا۔ مست پور اور چوپڑ ہٹہ سے گزرنے کے بعد ہم پہلے سندھنائے کینال کے پل سے گزرے اوراس کے تھوڑی ہی دیر بعد دریائے راوی کا پل عبور کیا۔ چھوٹے چھوٹے قصبوں سے گزرتے ہوئے ہم راستے بھراسکولوں اور کالجوں سے یونیفارم پہنے نکلتے ہوئے بچوں اور بچیوں کو دیکھتے رہے کہ کس طرح اس شدید گرمی میں دور دراز تک پیدل اپنے بیگز اٹھائے چلے جا رہے تھے۔میں سوچتا تھا کہ دیہات کی یہ پر مشقت زندگی انہیں ان سونے جیسے بچوں کوکس طرح کندن بنا دیتی ہے۔ سڑک کے دونوں اطراف بار بار درختوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا جس کے باعث سڑک پردھوپ اور چھائوں دونوں موجود رہتے تھے۔ اسکولوں کے یہ کم عمر بچے بچیاں بھی دھوپ کی تمازت سے بچنے کیلئے ان درختوں کی چھائوں میں چند لمحوں کیلئے رک کر سستاتے دکھائی دیتے تھے۔ ہمارا  اے سی اب صحیح چل رہا تھا اور گاڑی بھی زیادہ گرم نہیں ہو رہی تھی۔ پنجاب کی سڑکوں کے حوالے سے ہمیں ابھی تک کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا لیکن شاید ہمارے اس پر سکون سفر کو خود ہماری ہی نظر لگ گئی۔
راستے میں آنے والی ایک نہر کے پل کا تعمیراتی کام جاری تھاجس کے باعث ہمیں نہر کے ساتھ ساتھ بنے ہوئے کچے راستے سے ہو کر تقریباًایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک دوسرے پل کے ذریعے پہلے اس نہر کو عبور کرنا تھا اور پھر دوسرے کنارے کے ساتھ ساتھ بنے ہوئے کچے راستے سے ہو کر واپس جھنگ کی طرف جانے والی اس پختہ سڑک تک پہنچنا تھا۔ اس کچے اور انتہائی ناہموار اونچے نیچے راستے پر دیگر گاڑیوں اور بسوں کی آمدو رفت بھی جاری تھی جس کے باعث گردو غبار اور دھول اس قدر اڑ رہی تھی کہ بسا اوقات راستہ ہی نظروں سے اوجھل ہوجاتا تھا ۔ دو ڈھائی کلومیٹر کا یہ فاصلہ طے کرنا انتہائی دشوار ہو گیا تھا۔ میں یہ راستہ طےکرتا تھا اور دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتا تھا کہ کبیروالا میں گاڑی کے اے سی کا کام کروا لینے کی وجہ سے ہم اس وقت اے سی چلا کر شیشے بند کئے بیٹھے تھے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا ہوتا تو ہم اس گرد اور دھول میں اٹ کر اب تک بھوت بن چکے ہوتے۔ اور اگر بغیر اے سی چلائے اتنی شدید گرمی میں شیشے بند کر تے تو پگھل کر بہتے ہوئے اس ساتھ ساتھ بہتی نہر میں شامل ہو چکے ہوتے۔ بے شک غیب کا علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے اور بے شک یہ اس کا اپنے بندوں پر بڑا کرم ہے کہ وہ ان کو بروقت اور درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ گاڑی مسلسل پہلے اور دوسرے گیئر میں چل رہی تھی لیکن اے سی چلانے کے باوجود درجہ حرارت بتانے والی سوئی سرخ نشان کے قریب نہیں جارہی تھی۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دل سے کبیروالا کے اس نیک اور مہربان میکنک کیلئے دعائیں بھی نکل رہی تھیں۔ دو ڈھائی کلومیٹر کا یہ مختصر فاصلہ تقریباً 20  منٹ میں طے ہوا ۔ ہم اب دوبارہ جھنگ جانے والی پختہ سڑک پر تھے۔ کوثر آباد،بستی حیدرآباد،شورکوٹ ،قائم بھروانہ اور حویلی بہادر شاہ کے قصبوں سے گزرتے ہوئے ہمارا سفر جاری رہا۔ اپنے سردیوں کے سفر کے دوران ہم سے ایک غلطی یہ ہوئی تھی کہ فیصل آباد جانے کیلئے ہم نے اس راستے کا انتخاب کیا تھا جو جھنگ شہر کے درمیان سے ہو کر گزرتا ہے جس کی وجہ سےشہر کے رش میں پھنس کر ہمارا خاصا وقت ضائع ہو گیا تھا۔ اس دفعہ میں نے گوگل کے نقشے پر زیادہ دماغ سوزی کر کے جھنگ شہر سے بچ بچا کر نکلتے ہوئے نیو جھنگ بائی پاس کا سراغ لگا لیا تھا کہ جو ہمیں جھنگ سےفیصل آباد جانے والی سڑک کے ایک چوک پر پہنچا سکتا تھا۔ سو جھنگ شہر سے کافی پہلے ہم اس جھنگ بائی پاس پر دائیں طرف مڑ گئے۔دوپہر ڈھائی بجے کے قریب ہم اسی جھنگ بائی پاس پر واقع ایک چھوٹے سے ہوٹل پر نماز ظہر اور لنچ کےلئے رکے۔گاڑی سے اترے تو گرمی کی شدت کا صحیح معنوں میں اندازہ ہوا۔ ہوٹل سے متصل ہی ایک بغیر چھت کی چھوٹی سی مسجد تھی۔ جس کے ساتھ ہی کھلے آسمان تلے چھوٹا سا وضو خانہ بھی تھا۔ میں وضوخانے کے قریب تک گیا لیکن سورج کی تپش اس قدر زیادہ تھی کہ اس تپتی دھوپ میں لوہے کے پائپ میں موجود کھولتے ہوئے پانی سےوضو کرنے کی ہمت نہ ہو سکی چنانچہ ہوٹل کے اندر بنے ہوئے واش بیسن کو ہی وضو کیلئے استعمال کیا۔




سہ پہرسوا تین بجے کےقریب ہم یہاں سے روانہ ہوئے۔ تقریباًدس بارہ کلومیٹر بعد ہم جھنگ سے فیصل آباد جانے والی روڈ کے چوک پر پہنچ گئے۔ جس روڈ سے ہم آرہے تھے وہ سیدھی چنیوٹ کی طرف جا رہی تھی۔ بائیں طرف سڑک جھنگ کیلئے جا رہی تھی ۔ ہم فیصل آباد جانے کیلئے اس چوک سے دائیں طرف مڑ گئے۔یہ وہی روڈ تھی جس پر ہم اپنے سردیوں کے سفر کے دوران جھنگ سے فیصل آباد گئے تھے۔ ایک بجے دوپہر سے چار بجے سہ پہر تک موسم گرما میں حدت اپنی انتہا پر ہوتی ہے۔ ہم اپنے اے سی کے درست ہوجانے کی بنا پر اس شدید گرمی میں بھی سفر کرنےکے قابل تھےورنہ کل کی طرح ہمیں کہیں رک کر ہی یہ انتہائی گرم چند گھنٹے کہیں گزارنے پڑتے۔ سفر کے دوران میری نظریں بار بار گاڑی کا درجہ حرارت بتانے والی سوئی کی طرف اٹھتی تھیں کہ کہیں خاموشی سے سرخ نشان کی طرف نہ بڑھ جائے لیکن الحمد للہ وہ اپنی ایک مخصوص حد سے تجاوز نہیں کر رہی تھی۔ لیکن ہم دودھ کے جلےتھے سو چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتے تھے۔ جب سوئی پر ہمارا اعتبار کچھ بحال ہو گیا تو ہم نے اس کی کڑی نگرانی ترک کر دی بس اطمینان قلب کیلئے کبھی کبھارنظر ڈال لیا کرتے۔ موچی والا اور نواں لاہور کے قصبوں سےہوتے ہوئے ہم فیصل آباد کی طرف بڑھتے رہے۔ ہمیں اس بات کی خوشی تھی کہ سہ پہر اب رفتہ رفتہ شام میں ڈھل رہی تھی اور شدید گرمی کا یہ کٹھن وقت جس کا اب ہم سےکہیں زیادہ ہماری گاڑی کو سامنا کر پڑ رہا تھا،گزرتا جا رہا تھا۔سوا چار بجے کے بعد ہم فیصل آباد بائی پاس کے چوک پر پہنچ گئے۔ یہاں سے الٹے ہاتھ مڑنے والے فیصل آباد بائی پاس سے ہوتے ہوئےہم بائی پاس کے ایک چوک سے دائیں طرف مڑگئے۔ فیصل آباد شہر کی ایک دو سڑکوں سے گزرتے ہوئےہم پونے پانچ بجے کے قریب فیصل آباد ۔پنڈی بھٹیاں موٹروے کے ٹول پلازہ پر پہنچ گئے۔ تقریباً 52کلومیٹر طویل یہ موٹروے پنڈی بھٹیاں کے قریب لاہور سے اسلام آباد جانے والے موٹروے تک پہنچا دیتی ہے۔ موٹروے پر داخل ہوتے ہی فاصلے تیزی سے سمٹنا شروع ہو گئے۔ ہم نے 52کلومیٹر کا فاصلہ تقریباًچالیس منٹ میں طے کر لیا ۔ 90 اور 100کلومیٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے ڈرائیو کرنے اور اے سی آن ہونے کے باجود ہماری گاڑی زیادہ گرم نہیں ہو رہی تھی۔ شام کے ڈھلنے کے ساتھ ساتھ  سورج کے غیض و غضب میں کمی آتی جا تی تھی۔ فیصل آباد -پنڈی بھٹیاں موٹروے کے اختتام پر ہم بائیں طرف مڑ کر اب لاہور - اسلام آباد موٹروے پر داخل ہو چکے تھے۔ اس موٹروے کی خوبصورتی  کی بات ہی کچھ اور تھی۔ ایک تو شام ہو چکی تھی اور دوسرا یہ کہ موٹروے کے دونوں اطراف بلند اور گھنے درختوں کا قطار در قطار سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ شام ڈھل رہی ہو اور موٹروےکے ساتھ ساتھ جنگل کا سا منظر پیش کرتے ہوئے ہرے بھرے درخت۔ یہ دلکش مناظرنہ صرف ہماری دن بھر کی تکان کو تیزی سے ختم کر رہے تھے بلکہ ہمارے احساسات کو خوشگوار بنانے کیلئے قدرت کا انمول ٹانک ثابت ہو رہے تھے۔ پونے چھ بجے کے قریب ہم نے دریائے چناب کا پل عبور کیا اور اس خوبصورت موٹروے کےاطراف بکھرے حسین نظاروں اور پر سکون سفر سے محظوظ ہوتے ہوئے سوا چھ بجے کے بعد بھیرہ ریسٹ ایریا پہنچ گئےجہاں ہمارا ارادہ نماز عصرکی ادائیگی اور کچھ دیرآرام کرنے کا تھا۔
جب ہم کراچی سے روانہ ہوئے تھے تو مجھےاندازہ تھا کہ پہلے دو دنوں کے سفر  کے دوران آنے والی دوپہریں ہمیں ضرور ستائیں گی۔ پہلی نے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی پریشان کیا لیکن دوسری کچھ مہربان رہی لیکن اس کی یہ مہربانی دراصل کبیروالا کے مہربان میکنک کے باعث تھی۔خوبصورت اور وسیع و عریض ریسٹ ایریا میں گاڑی سے اترے تو گرمی کی شدت میں نمایاں کمی ہو چکی تھی البتہ گرمی کی جگہ کچھ حبس نے لی تھی۔ بہرحال موسم بہت بہتر تھا۔ اپنے اگلے سفر کے دوران ہمیں ایسی دوپہروں کاسامنا کرنے کا امکان نہ تھا کیونکہ ہم پہاڑوں کے مہمان بننے جا رہے تھے کہ جو ٹھنڈی ہوائوں سے ہمارا استقبال کرتے ہیں۔
بھیرہ ریسٹ ایریا میں پہلے ہم نے نمازعصر ادا کی۔ شام کےکچھ خوبصورت لمحات ریسٹ ایریا میں گھوم پھر کر گزارے۔ بہترین چائے پی۔ ریسٹورنٹ کے ساتھ بنے سبزہ زار میں چہل قدمی کی۔ گھاس کے چھوٹے سے میدان کے کنارے بنی کیاریوں میں لگےسورج مکھی کے خوبصورت پودے اور پھول بہت دلکش تھے۔ ہمیں اس ریسٹ ایریا کی خوبصورتی نے مغرب تک اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ دن بھر آگ برسانے والا سورج ہماری نظروں کےسامنے اپنی حدت اور تمازت کھوتا جا رہا تھا۔ پہلے سفید سے زرد ہوا۔ نارنجی اور پھر گہرا نارنجی۔آسمان کی بلندیوں سےنیچے اترتا رہا۔اور پھر دور ۔۔۔ ان میدانوں میں اترتا چلا گیا کہ جن کے بیچ دریائے جہلم بہتا تھا۔ ہم نے ریسٹ ایریا کیخوبصورت مسجد میں نمازمغرب ادا کی اور کلر کہار جھیل کنارے پڑائو ڈالنے کیلئے یہاں سے روانہ ہو گئے۔

موٹروے پر بھیرہ ریسٹ ایریا کا مووی کلپ ۔۔۔۔۔


video

موٹروے اور  بھیرہ ریسٹ ایریا کی کچھ تصویریں ۔۔۔











بھیرہ ریسٹ ایریا سے روانہ ہوتے وقت ہم نے اے سی بند کر کے شیشے کھول لئے۔ ہوا زیادہ خوشگوار نہ تھی لیکن اتنی ناگوار بھی نہ تھی۔ کچھ ہی دیر بعد دریائے جہلم کا پل عبور کرکے ہم للہ انٹر چینج پہنچ گئے۔ ہمارے بائیں جانب مغرب کے بعد کی مدھم سرمئی روشنی میں وہ سڑک موٹروے سے گھومتی ہوئی باہر نکلتی تھی جس سے ہم سردیوں کے سفر میں کھیوڑہ کیلئے روانہ ہوئے تھے۔ اس دفعہ ہمیں موٹروے پر ہی سفر جاری رکھ کر کلر کہار پہنچنا تھا۔ دریائے جہلم اور للہ انٹر چینج کو پیچھے چھوڑنے کے بعدصرف آٹھ کلومیٹر بعد ہی اس بالائی پنجاب بلکہ پاکستان کےمیدانی علاقوں کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ موٹروے پر سالٹ رینج کا علاقہ شروع ہوتا ہے جہاں سے پہاڑوں کاراج شروع ہوجاتا ہے اور پاکستان کے انتہائی شمال میں خنجراب تک ، پھر پاکستان کی سرحدوں کے اس پار شمال مشرق میں بھارت میں مقبوضہ کشمیر اور لداخ،اس کے اوپر تبت،شمال میں درہ خنجراب کے بعد چین اورشمال مغرب میں چترال اور کیلاش کی وادی سے متصل افغانستان کا علاقہ واخان۔ غر ض یہ کہ ہر طرف صرف ان پہاڑوں کا ہی راج ہے۔
آسمان پر تاریکی تیزی سے پھیلتی جارہی تھی اور ہماری گاڑی اتنی ہی تیزی سے ان آخری میدانی علاقوں سے گزرتی ہوئی سالٹ رینج کے پہاڑوں کی طرف دوڑ رہی تھی۔ چند ہی منٹ بعد ہمیں اپنے سامنے ان پہاڑوں کے مسکراتے ہوئےہیولے دکھائی دئے کہ جن سے اپنے سردیوں کے سفرسے واپسی کے دوران میں نے دوبارہ آنے کاوعدہ کیا تھا۔مجھے اپنا وعدہ نبھاتا دیکھ کر وہ بہت خوش تھے۔ میں اپنی طرف پھیلی ہوئی ان کی لمبی باہوں کا لمس محسوس کرتا تھا اور مسکراتا تھا۔ محبت بھری نظروں سے ان کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنی رفتار کچھ اور تیز کردی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان پہاڑوں نے خوش آمدید کہتے ہوئے ہمیں اپنی آغوش میں لے لیا اور ہم ان کے گرد لپٹتی،بل کھاتی ،مڑتی موٹروے پراوپر چڑھتے چلے جاتے تھے- بلندیوں کے اس سفر کے دوران ہوا بھی خوشگوار ہوتی جاتی تھی۔ تقریباًسوا 8 بجے ہم ان پہاڑوں سے حال احوال پوچھتے کلر کہار انٹر چینج پہنچ گئے۔ موٹر وے سے نکل کرہم بائیں جانب جھیل کے ساتھ ساتھ گھومتی ہوئی سڑک پر اس سمت روانہ ہوئے جہاں ہم نے اپنے سردیوں کے سفر میں جھیل کنارے بنے ہوئے پارک میں سہ پہر بتائی تھی۔ وہاں پارک کے ساتھ ہی کچھ ہوٹل بھی موجود تھے جہاں ہمیں گرمیوں کے اس سفر کی رات گزارنا تھی۔ میں نے اپنے دائیں طرف سڑک کے ساتھ ساتھ چلنے والی جھیل کے پانی کو دیکھنے کی بہت کو شش کی لیکن اماوس کی اس تاریک رات میں جھیل کا پانی بھی اسی رات کی طرح تاریک تھا۔۔ ہمارے سردیوں کے سفر میں جس پارک میں بھرپور رونق کا سماں تھا آج وہاں سناٹے کا راج تھا۔ ہم اس سفر کے دوران اتوار کی سہ پہر کو پہنچے تھے۔ جھیل کنارےزیادہ رونق کسی چھٹی کےدن ممکن ہوتی ہے یا پھر چاند کی چودھویں شب کو - آج نہ چھٹی کا دن تھا، نہ چاندنی رات،سو کلر کہار جھیل کا کنارہ بالکل ویران تھا۔ ایک ہوٹل میں کمرہ بک کروا کر اپنی گاڑی میں ہم اسی جھیل کے گرد گھومتی سڑک پر مزید کچھ آگے تک گئے لیکن ہر سو تاریکی اور سناٹے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ کافی آگے ایک چوک پر اکا دکاچھوٹی دکانیں اور ہوٹل موجود تھے لیکن وہاں بھی صرف دکاندار اور ہوٹل کے عملے کے علاوہ کوئی چہل پہل نہ تھی۔ 
ہم دوبارہ اپنے ہوٹل اور پارک والے مقام پر واپس آگئے کہ یہاں ہوٹلوں کی تعداد کچھ زیادہ ہونے کے باعث ان کے باہر لگی ہوئی لائٹیں سڑک پر کچھ نہ کچھ روشنی بکھیر رہی تھیں۔ جھیل کو قریب سے دیکھنے کی خواہش اور اپنے سردیوں کے سفر کی یاد تازہ کرنے کی غرض سے ہم اس ویران پارک میں داخل ہوئے اور جھیل کے کنارے اترتی سیڑھیوں تک گئے۔ جیسا سیاہ آسمان تھا ویسی ہی سیاہ جھیل اور دونوں کے بیچ دور جھیل کے اس پار دوسرے کنارے پر موجود آبادی میں جلنے والی لائٹیں باریک نقطوں کی مانند جھلملاتی تھیں جیسے سیاہ آسمان کی بلندیوں میں کچھ ستارے جھلملاتے تھے۔کلر کہار کی جھیل سیاہ آسمان اوڑھے گہری نیند سوتی تھی۔ ہم نے اس کی نیند میں زیادہ دیر مخل ہونا مناسب نہ سمجھا۔ان سیڑھیوں سے مزید نیچے اترکر اس کے سرہانے جانے کے بجائے خاموشی سے پارک سے باہر نکل آئے۔سامنے موجود ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کیا اور اپنے ہوٹل کے کمرے میں واپس آگئے۔ بستر پر سونے کیلئے لیٹے تو اس ویران جگہ پر رات بتانے کا قلق نہ تھا۔ دل اس خوشی سے سرشار تھے کہ اس ویرانے میں ہم اکیلے نہیں سوتے تھے ۔۔۔۔ ہم سے بہت قریب کلر کہار کی پیاری اور ٹھنڈی جھیل بھی ہمارے ساتھ سوتی تھی۔


تیسرا دن

ڈیم ۔۔۔ آبشار ۔۔۔ اور گرج چمک


کلر کہار جھیل ابھی محو خواب تھی ۔۔ آسمان بدستور سیاہ چادر اوڑھے ہوئے تھا کہ جب ہم نماز فجر کے بعد بہت سویرے ساڑھے چار بجے اپنے ہوٹل کی پارکنگ سے نکل رہے تھے۔ صبح کا یہ سکوت رات کی خاموشی سے بھی زیادہ گہرا تھا کیونکہ سب دکانیں اور ہوٹل بند تھے ۔ سڑک پر صرف ان ہوٹلز کے باہر لگی لائٹوں کی روشنی تھی یا ہماری گاڑی کی ہیڈ لائیٹ جو جھیل کنارے سے موٹروے کی طرف جاتی اس تنگ سی سڑک پرپڑتی تھی۔ ٹول پلازہ سےہوتے ہوئے ہم موٹروے پر داخل ہوئے۔ رفتار میں اضافہ ہوا تو اس سفر کے دوران پہلی دفعہ ہوا کی ٹھنڈک نے ہمیں اپنے شیشے بند کرنے پر مجبور کر دیا۔
تربیلا کب تک پہنچ جائیں گے ؟ ہم سفر نے استفسار کیا۔
انشاء اللہ ناشتہ وہیں پہنچ کر کریں گے۔
اتنی صبح موٹروے پر ڈرائیونگ کا لطف ہی اور تھا۔ آسمان پر صبح کی سفیدی پھیلنا شروع ہو گئی تھی۔ کلر کہار کا سناٹا ہمارے  ساتھ ساتھ موٹروے تک آ گیا تھا۔ کبھی کبھی کوئی اکا دکا گاڑی نظر آجاتی تھی۔ دو دنوں تک گرمی سےدو دو ہاتھ کرنے کے بعد ہلکی ہلکی خنکی کا یہ احساس انتہائی فرحت بخش تھا۔ سامنے سیدھی ہموار اورکشادہ موٹروے کی کسی لین پر کبھی تاحد نظر کوئی گاڑی نہ ہوتی اور نہ ہی ہمارے عقب میں ۔ ایسے میں صبح کی ٹھنڈی سفید روشنی میں ہمیں ایسا محسوس ہو تا کہ ہم زمین سے نکل کہیں دو کہکشائوں کے بیچ ستاروں کی کسی ملکی وے پر اڑتے چلے جا تے ہوں۔ ہمارا صبح کا یہ سفر انتہائی ناقابل فراموش اور یادگار تھا۔ ان پہاڑی وادیوں کے بیچ بہتے پہلے بارانی دریا دھراب سے گزرتے ہوئے ہم نے بلکسر انٹر چینج کو کراس کیا جہاں سے تلہ گنگ اور چکوال کیلئے راستے نکلتے ہیں۔ یہاں سے 30 کلومیٹر کا فاصلہ مزید طے کرکے ہم نے دوسرےبارانی دریا پانیاند کو عبور کیا تو سورج طلوع ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔ ہمارے بالکل سامنے موٹروے دور آسمان سے ملاپ کرتی نظر آرہی تھی جہاں آسمان کی سرخی تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی اور پھر بالکل موٹروے کےاوپر سورج ایک سرخ سکے کی طرح چمکتا ہوا باہر آگیا۔ طلوع آفتاب کا یہ منظر بہت ہی دلکش تھا۔ موٹروے کےدونوں اطراف کبھی چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں اور کبھی دور تک پھیلی ہوئی پہاڑی وادیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔کچھ ہی منٹ بعد ہم دریائے سوان کے پل پر سے گزرے۔ گھنٹوں کا سفر موٹر وے پر منٹوں میں طے ہو رہا تھا۔ دریائے سوان کا پل عبور کرنے کے صرف ایک کلومیٹر بعد ہی ہم چکری انٹر چینج سے گزرے اور پھر مزید   10 کلومیٹربعد جب ہم دریائے سل کے پل کے قریب پہنچے تو ابھی صرف صبح کے ساڑھے 5 بجے تھے اور ہم کلر کہار کےہوٹل سے یہاں تک تقریباً 85 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکے تھے۔ یہاں سے مزید 27 کلومیٹر طے کر کے جب ہم اسلام آباد انٹر چینج سے گزرے   تو ابھی چھ بجنے میں دس منٹ باقی تھے۔ اب ہمارا سفر اسلام آباد سے پشاور جانےوالی موٹروے پر شروع ہو گیا تھا۔ اسلام آباد کی دور تک پھیلی ہوئی آبادی موٹروےکے دونوں اطراف کافی دور تک ہمارے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ اسلام آباد سے آگے موٹروے پر جانے کا یہ میرا پہلا اتفاق تھا۔ اس سے قبل راولپنڈی سے آگے شمالی علاقوں کے سب سفر جی ٹی روڈ اور اگر پشاور کے بجائےحسن ابدال سے ایبٹ آباد کی طرف   مڑ جائیں تو شاہراہ قراقرم پر کیے تھے۔ موٹروے  کے دونوں اطراف کے یہ سب مناظر ہمارے لئے نئے تھے۔ نئے راستے اور نئے مناظر ہمیشہ سے میرے لئے بہت باعث کشش رہے ہیں سو میں ان مناظر کی کشش میں کھویا ہوا ڈرائیو کرتا رہا۔ اسلام آباد انٹر چینج سے تقریباً 34 کلومیٹر کے بعد براہما باہتر انٹر چینج پہنچے جہاں سے پشاور کی طرف جاتے ہوئے موٹروے کے دائیں طرف واقع واہ کینٹ کیلئے راستہ نکلتا ہے۔ اس انٹر چینج سے صرف بارہ کلومیٹر آگے جی ٹی روڈ اور حسن ابدال کیلئے موٹروےکو چھوڑنا پڑتا ہے۔ اگر ہمارا ارادہ تربیلا جانے کا نہ ہوتا تو ہم یہیں سے موٹروے چھوڑ کر نیچے سے گزرتی جی ٹی روڈ سے دائیں طرف چندکلو میٹر کے فاصلے پر واقع حسن ابدال پہنچتے اور شاہراہ قراقرم پر رواں دواں ہو جاتے۔ ہم نے اس مقام سے موٹروے پرہی مزید چند کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے غازی بروتھا کینال کا پل عبور کیا اور اس کے آگے مزید 4 کلومیٹر بعد صبح کےچھ بج کر 20منٹ پر چھچھ انٹر چینج سے تربیلا کیلئے نکلنے والے راستے پر جانے کیلئے موٹروے سے باہر نکل آئے ۔ کلر کہار سے یہاں تک 165 کلومیٹر کا فاصلہ ہم نے موٹروے پر صرف پونے دو گھنٹے میں طے کرلیا تھا۔ یہاں سے تربیلا ڈیم تک جانے کیلئے ہم موٹروے کے نیچے سے ہو کر دائیں سمت جانے والی تربیلا روڈ پرروانہ ہوئے۔ ابھی تک ہم پنجاب کی حدود میں تھے لیکن اسی روڈ پر تربیلا کی طرف جاتے ہوئے تقریباً 8کلومیٹر بعدجھاریاں چیک پوسٹ کے مقام پر ہم نے پونے 7 بجے صبح سے قبل ہی پنجاب کو خیر آباد کہہ دیا اور خیبرپختونخوامیں داخل ہو گئے۔ خیبر پختونخوا میں داخل ہوتے ہی ہمیں بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ایسا سی این جی پمپ نظرآیا جہاں گیس دستیاب تھی۔ سی این جی سے ہم سندھ کی حدود تک بھی مستفید ہوئے تھے لیکن پورے پنجاب میں سی این جی پمپس تو بہت ملے لیکن سب وہاں کے شیڈول کے مطابق بند تھے۔ ہم مختلف چھوٹی چھوٹی آبادیوں کے درمیان سفر کرتے ہوئے غازی کے قصبے میں پہنچ گئے جو اس تربیلا روڈ پر ڈیم سے پہلے کا آخری قصبہ ہے۔

کلر کہار سے روانہ ہونے کے بعد موٹروے پر خوبصورت صبح اور طلوع آفتاب کے چند مناظر ۔۔۔ موٹروے پر ہماری تیز رفتار اسپیڈ میٹر سے ظاہر ۔۔




ابھی صبح کے سات بھی نہیں بجے تھے اس لئے ہم نے فی الوقت یہاں ٹہر کرناشتہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔اسی سڑک پر مزید آگے کی طرف سفر کرتے ہوئے ہم غازی بروتھا کینال کے چوک پر پہنچے جہاں سے ایک راستہ اس کینال کو عبور کرکے تربیلا ڈیم کی دائیں سمت جاتا ہے اور اسی طرف سے ہری پور اور ایبٹ آبادجانے کیلئے بھی راستہ نکلتا ہے۔ ہم دائیں طرف مڑنے کے بجائے اس چوک سے سیدھے ہی دریائے سندھ کا پل عبورکرکے ڈیم کے بائیں سمت جانے والی غازی روڈ پر روانہ ہو گئے۔ اسی سڑک پر سفر کرتے ہوئے ٹوپی کے قصبےمیں واقع غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی تک پہنچ گئے۔ اسی انسٹیٹیوٹ کے سامنے سے گزرتی ہوئی یہ غازی تربیلا روڈ تربیلا ڈیم کے بائیں سمت جا نکلتی ہے۔ ہم اسی روڈ پر تربیلا ڈیم جانے کیلئے مزید آگے بڑھےتو ایک بیریئر پر ہمیں روک لیا گیا کیونکہ مزید آگے جانے کیلئے ہمییں ڈیم کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اجازت نامہ درکار تھا۔ اجازت نامے کے حصول کے بارے میں معلوم کرنے پر بتایا گیا کہ ہمیں اس ضمن میں ڈیم کےدائیں طرف جانے والے راستے پر موجود انتظامیہ کے دفاتر سے رجوع کر نا ہوگا۔ چنانچہ ہم وہاں سے واپس پلٹے ۔
پہلے سوچا کہ یہیں ٹوپی کے قصبے میں کہیں ناشتہ کر لیا جائے لیکن ابھی خاطر خواہ بھوک محسوس نہیں ہو رہی
تھی۔ اسی سڑک سے واپس غازی کینال کے چوک پر پہنچے اور بائیں طرف مڑ کر کچھ آگے لگے ہوئے ایک اوربیریئر پر جا اٹکے۔ اس بیریئر پر موجود عملے نے بتایا کہ بے شک انتظامیہ کے دفاتر تو اسی سمت کچھ فاصلے پرموجود ہیں لیکن آپ لوگ کچھ زیادہ ہی جلد وارد ہو گئے ہیں سو اس وقت دفاتر میں متعلقہ افسران غیر موجود ہیں جوکہ 9 بجے کے بعد ہی مل سکیں گے۔ ابھی صبح کے پونے آٹھ بھی نہیں بجے تھے ، ہم اسی سڑک پر مزیدپیچھے کی طرف پلٹتے ہوئے دوبارہ غازی کے قصبے میں چلے آئے۔ غازی بس اسٹینڈ کے قریب ہی ایک چھوٹےسے ہوٹل میں ناشتہ اورکچھ دیرآرام کیا۔


موٹروے سے نکل کر تربیلا ڈیم کو جانے والی  سڑک پر سفر کے دوران ۔۔ تربیلا کے قریب دریائے سندھ کا خوبصورت نظارہ اور غلام اسحٰق خان انسٹیٹیوٹ۔۔۔  








پونے 9 بجے کے بعد ہم دوبارہ اسی بیرئیر پر پہنچ گئے۔
کراچی سے یہاں تک آنے اور ڈیم کی سیر کیلئے ہماری اتنی بے تابی دیکھتے ہوئے وہاں موجود عملے نے انتظامیہ
کے ایک افسر سے موبائل فون پر میری بات کروادی۔ محترم افسر کا دل غالباً اتنی دور سے ڈیم دیکھنے کیلئے ہماری آمداو ر اشتیاق کو دیکھ کر پسیج گیا تھا ۔ انہوں نے اسی بیریئر پر ہمیں انتظار کرنے کا کہا کہ وہ حکام بالا سے خصوصی اجازت طلب کر کے اپنے ہمراہ ہمیں ڈیم کی سیر کر وادینگے۔ ہم نے اس بیریئر کے ساتھ ہی چوک پر موجود گھنےدرختوں کی چھائوں تلے بیٹھ کر ان کا انتظار کیا ۔اسی چوک سے ایک سڑک سیدھے ہاتھ کی طرف ہری پور ،حویلیاں اور ایبٹ آباد کی طرف جاتی تھی جس پر ٹوپی اور غازی سے اکا دکا مسافر ویںوں اور گاڑیوں کی آمدو رفت بھی جاری تھی ۔ تقریباً آدھے گھنتے بعد وہ مہربان افسر اپنی پوٹھوہار جیپ میں اپنے ڈرائیور کے ہمراہ تشریف لائے ۔انہوں نے دس منٹ کے بجائے آدھا گھنٹہ انتظار کی زحمت اٹھانے پر  ہم سےمعذرت کا اظہار بھی کیا کہ جیپ کےاسٹارٹ ہونے میں کچھ مسئلہ درپیش آگیا تھا۔ ان کی جیپ آگے آگے اور ہم ان کے پیچھے مٹی کی بھرائی سے تعمیرکئے گئے دنیا کے اس سب سے بڑے ڈیم کی سیر کو دائیں طرف کی پہاڑیوں کے بیچ بل کھاتی اور اوپر چڑھتی سڑک پر روانہ ہوئے۔ یہ عظیم الشان ڈیم واقعی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہماری رہنمائی کرنے والے مہربان افسرنے ایک دو جگہ رک کر ہمیں ڈیم کی سیر کرانے کے ساتھ ساتھ اس عظیم ڈیم کی تعمیر ، لمبائی چوڑائی ، بلندی،اس میں پانی جمع کرنے کی گنجائش ، اس سے نکلنے والی سرنگوں ،پیدا کی جانے والی بجلی ،زراعت اور آبپاشی کیلئے ڈیم سے پانی کے اخراج کے شیڈول اور مقدار اور مستقبل میں اس کی استعداد بڑھانے کے منصوبوں کےحوالے سے انتہائی سیر حاصل معلومات سے بھی آگاہ کیا۔ سیر کے آخر میں وہ ہمیں اس ڈیم کے سب سے بلندمقام پر واقع گیسٹ ہائوس میں لے گئے کہ اتنی بلندی اور چڑھائی پر ان کی جیپ تو شاید دوسرے گیئر میں لیکن ہماری گاڑی پہلے گیئر میں بھی بمشکل چڑھ پائی۔ یہاں سے پورے ڈیم اور اس کے ارد گرد کے تمام مناظر ہماری نظروں کےسامنے تھے۔ نیچے ڈیم کے ساتھ ساتھ جاتی سڑکوں پر چلتی گاڑیاں چھوٹے چھوٹے کھلونوں کی طرح دکھائی دیتی تھیں ۔ڈیم کے پیچھے پانی کا بڑا ذخیرہ کہ تبت کی ایک بلند وبالا جھیل سے نکل کر ہمارے شمالی علاقوں کے مختلف دریائو ں اور ندی نالوں کو اپنے جلو میں لے کر سیکڑوں میل کا فاصلہ طے کرکے یہاں پہنچنے والے عظیم دریائےسندھ کو یہ ڈیم اپنے عقب میں بنے ہوئے قدرتی پہاڑی سلسلوں کی دیواروں کے ساتھ مل کر اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ڈیم کے عقب میں موجود پہاڑی سلسلوں کا یہ حصار اور اس میں مقید عظیم دریائے سندھ اور تاحد نگاہ پانی کا ذخیرہ ہماری نگاہوں کے سامنے تھا۔ ہم یہ مناظر دیکھتے تھے اور کل عالم کے خالق کی شان بیان کرتے تھےکہ اس نے انسان کو اس قابل بنایا کہ وہ اتنے عظیم دریائوں اور پہاڑوں کو مسخر کرسکتا ہے۔ اسی گیسٹ ہائوس میں تربیلا ڈیم کا ایک بہترین ماڈل بھی بنا ہوا تھا۔ کچھ وقت اس بلند و بالا مقام پر گزار کر ہم واپسی کیلئےروانہ ہوئے۔ اسی بیریئر پر ہم نے اپنے محترم اور مہربان تربیلا ڈیم کے میزبان افسر کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس یادگار اور کبھی نہ فراموش کرسکنے والے تربیلا ڈیم کی سیر کے بعد دس بجے کے قریب ہری پورو حویلیاں جانے والی سڑک پر روانہ ہو گئے۔

تربیلا ڈیم اور اس کے حسین گردونواح کی کچھ تصاویر ۔۔۔








تربیلا ڈیم کے اس چوک سے روانہ ہونے کے بعد ہماری اگلی منزل حویلیاں تھی کہ جہاں سے سجی کوٹ کی آبشارکی طرف راستہ جاتا ہے۔ سردیوں کے سفر میں جس طرح کھیوڑہ سے براستہ کٹاس کلر کہار جانے والی سڑک اچانک پہاڑی دروں میں بلندیوں کی طرف جانا شروع ہو گئی تھی ہمیں پھر اسی طرح فوراً  شروع ہونے والی چڑھائیوں کا سامنا تھا۔ پہاڑی دروں کی مخصوص پیچ در پیچ گھومتی اوپر کی طرف جاتی سڑک پر 17 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے پونے گیارہ بجے کے قریب ہم ان پہاڑوں کی چوٹیوں پر واقع سری کوٹ کے قصبے کے چھوٹے سےبازار میں پہنچ گئے۔ سڑک کی بہتر حالت کی وجہ سے ہمیں اس قصبے تک بلندیوں کا یہ سفر طے کرنے میں زیادہ دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ گرمیوں کی تیسری دوپہر کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔ پہاڑ کی ان بلند چوٹیوں پر واقع اس قصبےسے آسمان پر چمکتے سورج کا فاصلہ کچھ کم ہو گیا تھا شاید اس بنا پر اس کی تمازت اور تپش کچھ زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ سری کوٹ کے بازار سے ہم نے کولڈ ڈرنک لی اور اس بڑھتی ہوئی حدت کا کچھ توڑ کیا۔ اب ان بلندیوں سے ہری پور تک ہمارا سفر نشیب کی طرف شروع ہو گیا تھا۔ بل کھاتی سڑک پر اترتے ہوئے ہم 12 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ہری پور کے قریب ہزارہ ڈویژن کی وادی میں واقع پندوری کے چھوٹے سے قصبے کے چوک پر پہنچ گئے۔ یہاں سے دائیں طرف مڑنے والی 4 کلومیٹر طویل سیدھی سڑک کے ذریعے ہمیں شاہراہ قراقرم پر واقع پانیان چوک پر پہنچنا تھا۔ اس پوری سڑک کی مرمت بلکہ ازسر نو تعمیر کا کام جاری تھا جس کے باعث یہ 4 کلومیٹر کامختصر فاصلہ طے کرنے میں ہمیں آدھا گھنٹہ لگ گیا۔ اس پتھریلے ، کچے اور تنگ راستے نے ہمیں خاصا تنگ کیا۔
پانیان چوک کے قریب پہنچے تو دور ہی سے شاہراہ قراقرم پر تیزی سے گزرتی گاڑیاں ہمیں نظر آتی تھیں اور ہم تھے کہ نوکیلے پتھر بچھی ہوئی اس سڑک پر رینگتے ہوئے اس چوک کی طرف بڑھتے تھے۔ شاہراہ قراقرم کہتی تھی کہ انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو  آئو ۔۔۔۔ مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے۔ خدا خدا کرکے ہم پانیان چوک تک پہنچے اور یہاں سے بائیں طرف مڑ کر شاہراہ قراقرم پر ہری پور شہر کی سمت اپنا سفرجاری رکھا۔ سڑک پر آنے جانے والے ٹریفک کا اچھا خاصا رش تھا۔ شاہراہ کے دونوں جانب آبادی کا سلسلہ مسلسل جاری تھا اس لئے ہم سست روی سے سفر کرنے پر مجبور تھے۔ 8 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ہم ہری پور شہرکے درمیان سے گزرے - پھر سرائے صالح کے قصبے سے گزرتے ہوئےہم دوپہر ساڑھے بارہ کے قریب حویلیاںشہرکی حدود میں داخل ہوئے۔ حویلیاں کی حدود کے اختتام پر شاہراہ قراقرم ایک ندی کا طویل پل عبور کر کےایبٹ آباد کی طرف بڑھ جاتی ہے۔ ہم اس پل کے بالکل آغاز پر دائیں جانب ندی کی سمت نشیب کی طرف جاتی تنگ سی سڑک پر اتر گئے۔ اسی سڑک پر کچھ ہی آگے ایک چوک سے داہنی طرف مڑ کر بلندی کی طرف جانے والی ایک اور سڑک سے ہم دوبارہ حویلیاں شہر کی حدود میں داخل ہو گئے۔ یہاں سے حویلیاں کے تنگ بازار کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ اسی بازار میں واقع ایک چوک سے بائیں طرف مڑ کر ہم سجی کوٹ جانے والی سڑک پر روانہ ہوئے۔
یہ سڑک بھی  ابتدا میں ایک تنگ بازار کی طرح تھی ۔ دکانوں کا سلسلہ ختم ہوا تو شہر سے متصل مضافاتی بستیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اسکولوں اور کالجوں کی چھٹی کا وقت تھا۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر موجود ان درسگاہوں کے قریب سڑک پر جا بجا اسپیڈ بریکرز بنے ہوئے تھے۔ طلبا و طالبات کی بڑی تعداد اور پھر ان کولانے لے جانے والی وینز اور ہڈ والی پک اپس کا رش۔ کئی مقامات پر سڑک کی حالت بھی خراب اور کہیں کہیں مرمت کا کام بھی جاری۔ حویلیاں کی اس مضافاتی آبادی سے گزرنے والی راہ نے ہمارا خاصا وقت لے لیا۔
ان بستیوں سے نکلے تو سڑک کے دونوں اطراف کھیتوں کا آغاز ہو گیا۔ گندم کی فصل کی تازہ تازہ کٹائی ہوئی تھی، کھیتوں میں اس کٹی ہوئی گندم کی فصل کے بندھے  گٹھے نظر آ رہے تھے۔ دور سر سبز پہاڑوں کاسلسلہ دکھائی دیتا تھا اور ہم ان پہاڑوں کی طرف ہی گامزن تھے۔ آسمان پر ہلکے ہلکے بادلوں کی وجہ سے سڑک پر دھوپ چھائوں کا کھیل جاری تھا۔ ہم  سرسبز پہاڑوں کے قریب تر ہوتے جاتے تھے اور گرمی کی شدت بتدریج کم سے کم تر ہوتی جاتی تھی۔ کچھ ہی دیر میں سڑک پر پھر پہاڑی دروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بلندیوں کی جانب سفر کا پھر سے آغاز لیکن اس بار مناظر قدرے مختلف، ہر طرف سبزہ ہی سبزہ،  انتہائی خوبصورت بل کھاتے راستے۔ اس سفر نے ہماری اسلام آباد سے مری کے سفر کی یادوں کو تازہ کر دیا۔ سڑک کے دونوں اطراف چیڑ کے خوبصورت درختوں کا سلسلہ اور ان کے درمیان بل کھاتی بلندیوں کی طرف جاتی سڑک۔ ہمارےگرمیوں کے سفر کی اس تیسری دوپہر کی حدت کو ان سرسبز پہاڑوں نے زیر کر لیا تھا اور ہم ان خوبصورت راہوں کے مسافر بننے پر بہت خوش تھے۔ سڑک کبھی پہاڑوں سے اتر کر دونوں اطراف جنگل کی طرح پھیلےدرختوں اور کسی چھوٹی سی آبادی کے درمیان سے گزرتی اور پھر دوبارہ سر سبز پہاڑوں کی بلندیوں کا رخ کرتی۔حویلیاں سے تقریباً 20 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ہم سجی کوٹ کے چھوٹے سے قصبے سے گزرتے ہوئے کچھ ہی دوری پر واقع آبشار کی طرف جاتی اسی سڑک پر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھے۔    

تربیلا سے حویلیاں تک کےسفر کے دوران کچھ تصویریں ۔۔۔۔









                                                     
حویلیاں سے سجی کوٹ آبشار کے سفر کے دوران ۔۔۔۔







ہم سفر کو اچانک کہیں بلندی سے گرتے ہوئے کسی جھرنے کی آواز نے متوجہ کیا لیکن کچھ نظر نہ آنے کی بنا پر ہم نے اپنا سفر جاری رکھا کہ شاید یہ آواز تیز تر ہوتی جائے اور ہمیں آبشار نظر آجائے۔ لیکن جوں جوں ہم آگے بڑھتے گئے آواز معدوم ہوتی گئی۔ میں نے سڑک کے کنارے جاتے ہوئے اسکول کے ایک دو بچوں سے آبشارکی بابت دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ آبشار کو ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ گاڑی واپس موڑی تو جس جگہ پانی کے گرنے کی آواز سنائی دی وہاں سڑک کے کنارے ایک دو گاڑیاں اور ایک کوسٹر کھڑی ہوئی تھی۔ ہم نے بھی اپنی گاڑی ان کے ساتھ ہی کھڑی کی۔ سڑک کے ایک طرف پہاڑی تھی ،دوسری طرف کافی نشیب میں ہمیں ایک سرسبز پہاڑ کی بلندی سے گرتی ہوئی خوبصورت آبشار نظر آئی۔ سفید دودھیا پانی سورج کی روشنی میں پگھلی ہوئی چاندی کی طرح نیچے گرتا تھا۔ اور اتنی بلندی سے گرتے ہوئے جھرنے کی مدھر آواز ہمیں مسحور کرتی تھی۔ دور بہت نشیب میں آبشار کا پانی ایک چھوٹی سی جھیل میں گر رہا تھا جس میں یہاں کھڑی ہوئی گاڑیوں اور کوسٹر کے مسافرنہاتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ اس جھیل تک پہنچنے کیلئے ہمیں کم از کم 100 سے 150فٹ نشیب کی طرف جانا تھا۔ نیچے اترنے کیلئے کوئی باقاعدہ راستہ نہ تھا ۔ ایک پتلی سی کچی پگڈنڈی تھی جو پہاڑ کے ساتھ بل کھاتی ہوئی یکدم نشیب میں اترتی تھی۔ ہم سفر نے اس پتلی سی پگڈنڈی کے ذریعے آبشار تک جانے سے انکار کر دیا۔ میں بھی تذبذب کا شکار تھا کیونکہ جھیل کافی نشیب میں تھی، آبشار تک کا فاصلہ بھی  خاصا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ راستہ انتہائی ناہموار اور خطرناک معلوم ہو رہا تھا کہ جس پر قدم جما کر اترنا بھی اتنا آسان نظر نہیں آتا تھا۔لیکن دل تھا کہ مانتا نہ تھا کہ آبشار کیلئے کراچی سے یہاں تک کا سفر کیا اور بس اب سڑک کنارے کھڑے ہوئے دورسے اس کو تکتے رہیں اور ہوا کے دوش پر کبھی تیز اور کبھی ہلکی ہوتی  قدرتی جھرنے کی موسیقی کو سنتے رہیں۔ سحر انگیز آبشار کی زبردست کشش ہمیں اپنی طرف کھینچتی تھی، بالآخرہم اس کے سحر میں گرفتار ہو ہی گئے۔ 
سڑک کے کنارے  موجود ایک دو مقامی بچے نیچے اترنے کیلئے ہماری بے تابی کی کیفیت کو بھانپ گئے۔ انہوں نے ہمیں نیچے تک اپنی معیت میں لے جانے کی پر خلوص پیشکش کی۔ ہماری ہمت بھی بڑھ گئی اور اس ناہموار پتلی سی پگڈنڈی پر انتہائی احتیاط سے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے، ایک دوجے کو تھامتے، پھسلتے ،سنبھلتے نیچے اترنا شروع ہوئے۔غنیمت تھا کہ پھسلتے تھے تو سنبھلتے تھے لڑھکتے نہ تھے ۔ دس پندرہ منٹ کی تگ ودو کے بعد ہم بخیرو عافیت بلندی سے گرتی آبشار کے دامن میں موجود جھیل کنارے پہنچنے میں کا میا ب ہو گئے۔ آبشار سے  قریب تر ہوئے تو اس کا حسن مزید بے نقاب اور خوبصورت خدو خال زیادہ نمایاں ہوئے۔ سر سبز پہاڑ کی اچھی خاصی بلندی سے گرنےوالے جھرنے کی جلترنگ بھی واضح سنائی دینے لگی۔ اوپر سے انتہائی مختصر نظر آنے والی جھیل اتنی چھوٹی بھی نہ تھی۔ ایک مسحور کن منظر تھا کہ جس میں جھیل کے ٹھنڈے اور شفاف پانی سے لطف اٹھاتے نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کی اٹھکیلیاں مزید دلکش رنگ بھرتی تھیں۔ ہم بھی جھیل کنارے اتھلے پانی میں کچھ اندر تک گئے۔ پانی کی یہ خوشگوار ٹھنڈک اور ہماری روح تک سرایت کر جانے والا فرحت بخش احساس تربیلا ڈیم سے یہاں پہنچنے تک کی تمام تکان کو لے اڑا بلکہ ہمارے حواس پر چھائی گزشتہ 2 دوپہروں کی حدت کو بھی اس صاف اور یخ پانی نے دھوڈالا۔ تقریباً آدھا گھنٹہ یہاں بتانے کے بعد ہم پہاڑ سے لپٹی اوپر جاتی پتلی سی پگڈنڈی پر دوبارہ سڑک تک پہنچنے کیلئےچڑھنا شروع ہوئے۔ اترنے کی بہ نسبت  پگڈنڈی پر چڑھنا زیادہ آسان ثابت ہوا کہ قدم خود بخود جمتے تھے ،پھسلتے نہ تھے۔ البتہ ہمارے ساتھ کبھی کبھی ہماری سانس بھی چڑھ جاتی تھی سو کسی پتھر پر بیٹھ کر اس کو اتارنا پڑتا تھا۔جب سانس سنبھلتی تو ہم پھر چڑھنا شروع ہو جاتے۔ آبشار سے ایک ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع سجی کوٹ کے قصبے کے چھوٹے سے بازار کے ایک ہوٹل میں رک کر ہم نے نماز ظہر ادا کی اور لنچ میں ہزارہ ڈویژن کےمشہوراور لذیذ  کباب کھائے۔


سجی کوٹ آبشار کا مووی کلپ ۔۔۔۔
video
آبشار اور سجی کوٹ کی کچھ تصویریں ۔۔۔








سہ پہر کےساڑھے تین بج چکے تھے جب ہم سجی کوٹ سے واپس حویلیاں کیلئے روانہ ہوئے۔ آسمان پر بادل کچھ بڑھتے جارہے تھے لیکن فوری طور پر بارش کا کوئی امکان نہ تھا۔ سورج بھی ڈھلتا جا رہا تھا۔ پہاڑی علاقوں میں اگرمغرب کی طرف کوئی بلند وبالا پہاڑ موجود ہو تو بسا اوقات عصر سے قبل ہی سورج آپ کو الوداع کہہ کر رخصت ہو جاتا ہے۔ سورج کے تیزی کے ساتھ ڈھلنے اور آسمان پر چھاتے بادلوں کے باعث موسم بھی خوشگوار ہو چلا تھا۔ابھی واپسی کا کچھ ہی سفر طے کیا تھا کہ ہم ان خوبصورت راہوں میں بھٹک گئے اور اتنی خوبصورتی سے بھٹکےکہ ابتدا میں ہمیں اپنی اس گمراہی کا بالکل پتہ ہی نہ چل سکا۔ ایک پہاڑ کی سرسبز چوٹی کے پاس گھاس کا چھوٹا سامیدان اور ارد گرد چیڑ کے حسین درختوں کا جھنڈ کہ ہم نے بے اختیار گاڑی روک لی اور دس پندرہ منٹ خوشگوارموسم میں اس پیاری جگہ پر گزارے۔ تقریباً چار بجے یہاں سے آگے اور اپنے تئیں حویلیاں کیلئے روانہ ہوئے۔ سڑک بہت اچھی اور پختہ تھی لیکن کچھ ہی آگے جا کر یکدم کچی اور پتھریلی ہو گئی اور مسلسل نشیب کی طرف اترتی چلی گئی۔ آتے وقت بھی راستے میں اسی نوعیت کے نشیب و فراز بہت آئے تھے اور کہیں کہیں سڑک پر اسی طرح کے پتھریلے حصوں کا بھی سامنا کر نا پڑا تھا لیکن اس قدر طویل پتھریلا راستہ اور مسلسل تیزی سے اتار کی طرف جاتی سڑک۔ ذہن پر بہت زور دیا کہ راستے میں کوئی ایسا چوک آیا ہو کہ جہاں سے ہم اس غلط راہ پر بھٹکے ہوں ۔ایک سیدھی سڑک سے سجی کوٹ پہنچے اور اسی سے واپس ہوئے۔ ذہن میں ایسا کچھ نہ تھا کہ غلطی ہوئی ہو لیکن سڑک کی کیفیت مسلسل باور کرا رہی تھی کہ ہم راہ راست پر نہیں ہیں۔
کیا سجی کوٹ آتے وقت کوئی ایسا پتھریلا راستہ آیا تھا ؟ 
 دل کی تسلی کیلئے میں نے ہم سفر سے پوچھا۔
ٹھیک سے یاد نہیں ۔۔ شاید آیا تو تھا۔ 
کچھ خاص اطمینان بخش جواب نہ مل سکا۔
 جس پہاڑ کے ساتھ یہ پتھریلی سڑک اترتی تھی اور کچھ زیادہ ہی اترتی تھی،سورج اب اس پہاڑ کے دوسری طرف  ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا تھا حالانکہ ابھی سوا چار بھی نہیں بجے تھے۔عصر میں بھی ابھی ایک گھنٹے سے زیادہ وقت باقی تھا۔ سورج کے پہاڑ کے پیچھے منہ چھپالینے اور آسمان پر بادلوںمیں بھی اضافہ ہو جانے کے سبب روشنی تیزی سے کم ہوتی محسوس ہو رہی تھی جو ہمیں نفسیاتی طور پر کچھ زیادہ گھبراہٹ میں مبتلا کر رہی تھی۔ میں اس تذبذب میں تھا کہ اسی سڑک پر چلتا رہوں یا گاڑی واپس موڑوں۔ بیک مرر پرنگاہ پڑی تو عقب میں ایک موٹرسائیکل سوار آتا  دکھائی دیا۔ گاڑی سڑک کنارے کھڑی کر کے میں باہر نکل کر کھڑاہو گیا۔ وہ  قریب پہنچ کر رکا تو میں نے راستے کے بارے میں دریافت کیا۔
حویلیاں جانے والا راستہ تو    آپ کافی پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ ادھر بھی لوگ بہت گھومنے آتے ہیں ،کچھ ہی دور نیچےسمندر ہے۔
راستہ بھٹک گئے تھے یہ تو ہمیں اندازہ ہو ہی گیا تھا سو یہ ہمارے لئے اتنی بڑی خبر نہیں تھی لیکن ان پہاڑوں کے بیچ سمندر کا پایا جانا ہمارے لئے بہت ہی بڑی بلکہ دھماکہ خیز خبر تھی۔ میں دل ہی دل میں سوچتا تھا یہ دریافت تو دنیا میں تہلکہ مچا دے گی۔ اور واقعی اگر ایسا ہی ہے تو ہمارے پاس کولمبس ثانی بننے کا بہت سنہری موقع تھا۔
کہاں ہے سمندر اور کتنی دور ہے ؟
میں نے اپنی راہ بھٹکنے کی سب پریشانی کو یکسر بھولتے ہوئے بڑے اشتیاق سے  پوچھا۔ 
بس جی تھوڑی سی راہ ہے۔ میرے پیچھے آتے جائیں۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ  گیا۔ 
میں نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ہمسفر سے کہا۔
کبھی کبھی راہ سے بھٹک جانا بھی بڑا سود مند ہو جاتا ہے۔یہ سڑک سمندر کی  طرف جاتی ہے۔
سمندر! آپ بھی ہر کسی کی باتوں میں آجاتے ہیں ،بھلا سمندر یہاں کہاں؟   ہمسفرغلط نہ تھی۔ میرے ذہن میں بھی درحقیقت صرف یہی خیال تھا کہ ہو  سکتا ہے کہ کوئی شرمیلی جھیل دنیا کی نظروں سے بچ کر یہاں چھپی بیٹھی ہو  کہ کہیں ناہنجار خلقت میرا حشر بھی سیف الملوک جیسا نہ کر دے۔ جابجا گندگی  اور کچرے کے ڈھیروں سے بچنے کیلئے اس جھیل نے خود کو پوشیدہ اور گمنام رکھا ہوا ہو۔ میں نے موٹرسائیکل کے پیچھے اسی نشیب میں جاتے پتھریلےراستے پرگاڑی بڑھا دی۔
بہت دیر ہو جائے گی، راستہ بھی بہت خراب ہے، گاڑی پنکچر ہو گئی تو ؟
ہمسفر کے چہرے سے الجھن عیاں تھی۔
زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ بس تھوڑی ہی دور ہے۔ یہاں تک آہی گئے ہیں تو اب سمندر بھی دیکھتے ہی چلیںتقریباً آدھا کلومیٹر ہم مزید بل کھاتی اور نیچے اترتی سڑک پر چلتے رہے۔ اتار مزید بڑھتا جاتا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ میری تشویش بھی بڑھتی جاتی تھی کہ واپسی میں اس پتھریلے راستے پر ہماری گاڑی اتنی عمودی چڑھائی چڑھ بھی پائے گی یا نہیں۔ میں نے رفتار کچھ تیز کر کے موٹرسائیکل سوار کو آواز دےکر پوچھا۔
 بھائی ابھی کتنی دور ہےسمندر ؟
اب پہنچنے ہی والے ہیں ۔ بس یہ جو موڑ سامنے ہے اس سے آگے تھوڑی ہی راہ ہے۔
یہ تھوڑی سی راہ کسی طور تھوڑی نہیں ہو پا رہی تھی۔ بہرحال میں نے پھر کچھ ہمت کی اور اس موڑ تک مزید اس کے پیچھے چلتا رہا۔ موڑ کے قریب پہنچ کر میں نے گاڑی روک دی اور ارادہ کیا کہ اس سے سمندر نہ دیکھنےپرمعذرت  کروں اور کم از کم اتنی بڑی خبر سے ہمیں آگاہ کرنے  پر اس کا شکریہ بھی ادا کروں۔ میرے کچھ کہنے سےپہلے ہی وہ ہمیں مزید حوصلہ دینے اور ہماری بجھتی اور دم توڑتی آتش شوق کو بھڑکانے کیلئے گویا ہوا۔ 
آپ بالکل نہ گھبرائیں ، ان علاقوں کے لوگ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے ۔ خود
کو بالکل محفوظ سمجھیں۔بہت خوبصورت سمندر ہے،لوگ یہاں نہاتے بھی ہیں۔یہ کہتے ہوئے اس نے ہماری گاڑی پر جمی لمبے سفر کی مٹی کی دبیز تہوں پر بھی بھرپور نظر ڈالی کہ شاید ہمارا صفائی پسندی کا سویا ہوا جذبہ ہی بیدارہو جائے۔دراصل ہمیں شام تک ایبٹ اباد پہنچنا ہے، دیر بہت ہو گئی ہے۔
میں نے معذرت خواہانہ لہجے میں جواب دیا۔
ادھر سے بھی ایک راستہ ایبٹ آباد جاتا ہے ،نتھیا گلی کی طرف سے۔ آپ اس راستے سے چلے جانا۔
وہ بدستور ہمیں سمندر تک اپنے ساتھ لے جانے پر مصر تھا۔
میں نے کہا۔ نہیں، ہم اس راستے سے ناواقف ہیں اور یہ بہت خراب بھی ہے۔ ہم اب واپس جائیں گے۔
آپ بالکل نزدیک پہنچ گئے ہیں بلکہ وہ سامنے اوپر سے تو سمندر نظر بھی آتا  ہے۔
 اس نے اس موڑ سے کچھ ہی قدم دور ایک مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  آخری کوشش کی۔
 در حقیقت یہ اس علاقے کے لوگوں کا خلوص اور پیار تھا کہ اپنے ضائع ہوتے وقت کی پروا کئے بغیر اس کا دل کسی صورت یہ نہیں مان رہا تھا کہ اتنی دور سے آنے والے یہ مسافر ان کے علاقے کی کوئی خوبصورت جگہ دیکھے بغیر چلے جائیں۔ میں بھی اس کی بات نہ مان کر بہت دکھی تھا،لیکن تیزی سے ڈھلتی شام اور اس پتھریلی سڑک پر واپسی کے دشوار سفر کا خیال مجھے مزید آگے جانے سے روکتاتھا۔ اپنی تمام تر کوششیں رائیگاں ہوتے دیکھ کر میں نے اس کے مسکراتے چہرے پر دکھ کی لرزتی پرچھائیاں دیکھیں۔ 
قریب تھا کہ اس کو اتنا دکھی کرنے پر میری  آنکھیں بھر آتیں ۔ میں نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹاتے ہوئے ہم سفرکے ہمراہ اس مقام کی طرف قدم بڑھا دئے جہاں سے اس کے بقول سمندر نظر آتا تھا۔ ہم دور پہاڑ کے نشیب میں کسی ٹھاٹھیں مارتے سمندر کو تو نہیں البتہ کسی  ممکنہ جھیل کو تلاش کرتے تھے لیکن وہاں بہت نیچے گہرائی میں ایک نالا بہتا تھا ۔ہو سکتا ہے یہ نالہ اس تنگ پہاڑی درے سے نکل کر مزید آگے جا کر کسی جھیل یا پھر چوڑے پاٹ کی صورت اختیا رکرتا ہو تو سمندر معلوم ہوتا ہو۔ ہم اس مقام سے پلٹے۔ موٹر سائیکل سوار ابھی بھی امید بھری نظروں سے اس اجنبی راستے پر کھڑے دو مسافروں کو دیکھتا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ سمندر وہاں کہیں نشیب میں کسی پہاڑی درے میں نہ تھا بلکہ اس موٹر سائیکل سوار کے دل میں تھا۔ ہمارے لئے پرخلوص محبت اور بے لوث چاہت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر۔
میں نے اس سے نظریں ملائے بغیر اسے اللہ حافظ کہا اور واپسی کی راہ لی۔ تقریباً تین کلومیٹر تک کے فاصلے کی یہ کٹھن اور مسلسل چڑھائی ہماری گاڑی دوسرے اور پہلے گیئر میں بمشکل چڑھ پائی۔ آگے جا کر پھر وہی پختہ سڑک اور وہی خوبصورت جگہ کہ جہاں ہم کچھ دیر ٹہرے تھے۔ اس سے مزید کچھ آگے بڑھے تو ایک سہہ راہا آیا کہ ایک سڑک سیدھی سجی کوٹ جا تی تھی ،ہمیں سجی کوٹ سے واپسی پر اس سہہ راہے سے سیدھا جانے کے بجائے بائیں طرف مڑنا تھا لیکن ہم شاید سجی کوٹ سے واپسی کے دوران اپنے سیدھے ہاتھ پر موجود چیڑ کے درختوں کےخوبصورت منظر کو دیکھنے میں اتنا محو ہوگئے کہ اس سہہ راہے اور یہاں سے حویلیاں کیلئے بائیں طرف مڑتی روڈسے غافل ہوکر گمراہ ہوئے اور دائیں طرف کے حسین منظر اور خوبصورت راہ نے ہمیں بھٹکا دیا۔ 
دنیا کی خوبصورتی اور اس میں کھو کراور الجھ کر ہماری غفلت ہی درحقیقت ہمیں گمراہ کر دیتی ہے۔ اللہ کا شکرادا کیا کہ اس نے ہمیں دوبارہ راہ راست پر آنے کی توفیق عطا فرمائی۔ شام کے پونے پانچ بجنے والے تھے۔ راہ بھٹکنےکے باعث ہمارا تقریباً پون گھنٹہ ضائع ہو گیا تھا۔ تقریباً پونے چھ بجے ہم حویلیاں شہر کے مضافات میں واقع ایک پٹرولپمپ پر پہنچے۔ ارادہ یہ تھا کہ نماز پڑھنے کی کوئی جگہ یہاں ہو تو نماز عصر ادا کی جائے اور اس دوران اگر پمپ والوں کا سروس اسٹیشن ہو تو گاڑی کو نہلوا بھی لیا جائے۔ پمپ میں نہ تو مسجد تھی نہ سروس اسٹیشن۔اتفاق سے پمپ کے مالک اسی وقت کسی کام سے اپنے آفس سے باہر نکلے ۔ انہوں نے بڑی محبت سے اپنا آفس ہمارے حوالے کرتے ہوئے گویا ہوئے۔
آرام سے وضو بھی کریں اور نماز بھی پڑھیں۔ گاڑی کی چابی مجھے دیں ،قریب ہی سروس اسٹیشن ہے ،میرا ملازم گاڑی کی سروس کر و ا لائے گا۔
میں نے اس مہربانی پر ان کا  شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف نماز ادا کر لیتے ہیں۔ گاڑی کی سروس بعد میں کروالیں گے کیونکہ اندر سامان بہت زیادہ بھرا ہوا ہے۔ ہم نماز پڑھنے کے ارادے سے آفس میں چلے گئے۔ کچھ ہی دیر میں ان کے ملازم نے دروازے پر دستک دی کہ چابی دے دیں صاحب کہہ رہے ہیں ہم گاڑی یہیں دھو دیتے ہیں۔ میں نےچابی اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ صرف باہر سے ہی دھونی ہے کیونکہ اندر سامان بہت زیادہ ہے۔ نمازپڑھ کرمیں باہر نکلا تو پمپ کے وہ مہربان مالک کرسی پر بیٹھے اپنی نگرانی میں 
ہماری گاڑی دھلوا رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا۔
آپ نے کیوں اتنی زحمت کی۔
انہوں نے بڑی محبت سے جواب دیا " کوئی بات نہیں ۔ آپ ہمارے مہمان ہیں۔
ملازم ابھی گاڑی دھونے میں مصروف تھا۔میں ان کا بہت بہت شکریہ ادا کر کے اپنی ہم سفر کے پاس آگیا کہ کچھ دیراس پر سکون آفس میں آرام ہی کر لوں۔ دس پندرہ منٹ بعد دوبارہ باہر گیا تو گاڑی کو نہلا دھلا کر خشک کیا جا رہا تھا۔پمپ مالک کسی کام سے کہیں جا چکے تھے۔ میں نے ملازم کو اجرت کے طور پر کچھ پیسے دینے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کسی صورت مانتا نہ تھا۔ میرے بے حد اصرار پر اس نے بمشکل ایک معمولی سی رقم لی۔ ہم ان مہربان پمپ مالک اور ان کے ملازم کو دل ہی دل میں بہت سی دعائیں دے کر ساڑھے چھ بجے کے قریب یہاں سے روانہ ہوئے۔

اس خوبصورت مقام کی کچھ تصاویر کہ جہاں ہم راہ بھٹکنے کی شروعات میں کچھ دیر کے لئے ٹہرے تھے۔۔۔۔
یہ پہلی تصویر ہی دراصل وہ  سہہ راہے والا مقام ہے کہ ہم اس خوبصورت چھت والے مکان کی تصویر بناتےبناتے بجائے بائیں ہاتھ مڑنے والی سڑک کےسامنے نظر آنے والی سڑک پر ہی چلتے چلے گئے ۔









حویلیاں سے ایبٹ آباد تک تقریباً 12 کلومیٹر کا فاصلہ ہم نے مغرب سے قبل ہی طے کر لیا۔   مانسہرہ بھی زیادہ دور نہ تھا چنانچہ ہم نے ایبٹ آباد میں رکنے کے بجائے اپنا سفر مانسہرہ تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔اندازہ تھا کہ یہ فاصلہ آدھے گھنٹے میں طے کر کے ہم مغرب کی نماز مانسہرہ پہنچ کر ہی پڑھیں گے۔ ایک طویل عرصے بعد ہمارا ایبٹ آباد آنا ہوا تھا اور اپنی گاڑی میں آنے کا تو یہ پہلا ہی اتفاق تھا۔ اس سے پہلے جب بھی کسی لمبے سفر کے دوران ہم ایبٹ آباد سے گزرے ہمیں اس شہر کی خوبصورتی ،صفائی ستھرائی اور کشادہ سڑکوں نے   متاثر کیا تھا ۔
آج شہر کے درمیان سے گزرتی ہوئی کشادہ شاہراہ قراقرم پر خود ڈرائیونگکرتے ہوئے مجھےبہت خوشی محسوس ہو رہی تھی- اس بار ایبٹ آباد شہر کےدرمیان سے گزرتے ہوئے اندازہ ہوا کہ یہ بہت پھل پھول اور پھیل گیا ہے۔پھلنے سے مراد یہ کہ سڑک کے دونوں اطراف جدید مارکیٹوں اور بڑے بڑے سپر اسٹورز کی تعدادمیں ماشااللہ اچھا خاصا اضافہ ہو چکا تھا۔ پھولنا ان معنوں میں کہ پہلے اس شہر کے درمیان سے گزرتے ہوئےکبھی اس قدر ٹریفک کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ اس بار جگہ جگہ ٹریفک جام کی سی صورتحال درپیش تھی اور شہرکا پھیلنا یوں ظاہر ہو رہا تھا کہ پہلے ان دکانوں اور بازار کا یہ سلسلہ بہت جلد ختم ہو جاتا تھا اور ہم جلد ہی اس شہرکی حدود سے نکل جاتے تھے لیکن آج ہم شاہراہ قراقرم پر واقع ایبٹ آباد کے جس بازار سے گزرتے تھے وہ کسی بڑے شہر کے کسی طویل بازار کی طرح مسلسل چلے ہی جاتا تھا ۔ ایک اور ناقابل فراموش بات کہ یہاں کی گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات ایک ہاتھ اسٹیرنگ پر اور دوسرا ہارن پر رکھتے تھے۔ باقاعدہ ٹریفک جام کی صورت میں بھی کہ ہم کسی صورت سے اپنی لائن نہ  بھی بدل سکتےہوں، پیچھے سے مسلسل ہارن بجا کر ہم سے راستہ مانگا جاتا تھا۔ اور ہم گھبراہٹ میں گاڑی کو ٹریفک کے رش میں ہی کونے کھدرے میں کرنے کی ہر ممکن کوشش کرکے بلا تعطل بجنے والے پچھلی گا ڑی کے ہارن سے  اپنی حس سماعت کو محفوظ رکھنے کی خاطر اسےراستہ دینے پر مجبور کر دئیے جا تے۔ جب ہم اس سڑک کے ٹریفک قوانین سے اچھی طرح آگاہ ہو گئے تو ہم نے اپنی سماعتوں  میں زبردستی ٹھونسے جانےوالے اس طرح کے ہارنوں کو نوٹس میں لانا چھوڑ دیا۔روئی دستیاب نہ تھی ورنہ کانوں میں اسے ٹھونس لیتے۔ اسی طرح اگر ہمیں کبھی اپنی گاڑی کے آگے جانے والی کسی سست رفتار گاڑی کو اوور ٹیک کرنا ہوتا تو بغیر ہمارے ہارن بجائے وہ ہمیں راستہ دینے پر تیار نہ ہوتا شایدوہ بیک مرر پر نظر ہی نہیں ڈالتےتھے جو ہمارے انڈیکیٹر کو دیکھ پاتے- ہمارے اچھے خاصے ہارن سننے کےبعد ہی بمشکل اور بادل نا خواستہ اگلی سست رفتار گاڑی سیدھی طرف کی تیز چلنے والوں کی لین چھوڑ کر بائیں طرف کی لین اختیار کرتی۔ شہر کے اس طویل بازار اور بے انتہا رش کے باعث ہمیں ایبٹ آباد اور اس کے مضافات سے نکلتے نکلتے ہی مغرب ہو گئی۔ ایبٹ آباد سے نکلے تو ذہن میں تھا کہ اب باقی سفر تیز رفتاری سے طے کرکے مغرب کی نماز کا وقت قضا ہونے سے پہلے پہلے مانسہرہ پہنچ جائیں گے لیکن ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے درمیان بھی شاہراہ قراقرم پر ٹریفک بہت زیادہ تھا - آسمان پر چھائی غروب آفتاب کی سرخی تیزی سے سیاہی میں تبدیل ہوتے دیکھ کر ہمیں راستے میں ہی ایک ہوٹل میں رک کر نماز ادا کرنی پڑی۔ اس علاقے کے رواج کے مطابق ہوٹلوں میں فیمیلیز کے ساتھ آنے والوں کیلئے ایک بڑے فیملی ہال کے بجائے چھوٹے چھوٹے الگ الگ کمرے بنےہوئے ہوتے ہیں تاکہ پردے کی پابند خواتین کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو۔ میری ہم سفر نے ایسے ہی ایک کمرے میں اور میں نے ہوٹل کی حدود  میں ہی موجود ایک چھوٹی سی مسجد میں نماز ادا کی۔ آج صبح تربیلا ڈیم کی سیر سےقبل غازی میں ہم نے ناشتہ بھی ہوٹل کے ایسے ہی ایک کمرے میں کیا تھا۔
گھڑی آٹھ کو کراس کر چکی تھی جب ہم مانسہرہ کی حدود میں داخل ہوئے اور شاہراہ قراقرم سے متصل ہی ایک گلی میں واقع گیسٹ ہائوس میں رات قیام کی غرض سے وارد ہوئے۔ ارادہ تھا کہ کچھ دیر آرام کے بعد ڈنر کیلئے شہر کے کسی ہوٹل کا رخ کریں گےلیکن تیسری منزل پر کمرہ ملنے کی وجہ سے سیڑھیاں چڑھنے کی مشقت ، پھرایک طویل دن کی لمبی مسافت کی جسمانی تکان اور ایبٹ آباد شہر کی حدود میں داخل ہونے سے لے کر مانسہرہ تک کے سفر کے دوران ملنے والےٹریفک کے رش سے ہونے والی ذہنی تکان نے ہمیں اسی گیسٹ ہائوس کے کمرے میں ہی چائے پینے اور ڈنر کرنےپر مجبور کر دیا۔ ایک چھوٹی سی پریشانی کا سامنا فوراً ہی یوں کرنا پڑا کہ کمرے کے پنکھے کا ریگولیٹر کچھخراب تھا کہ ٹھیک ٹھاک رفتار میں چلتے چلتے اچانک پنکھا انتہائی آہستہ ہو جاتا۔ بجائے اس کے کہ ریگولیٹرتبدیل کیا جاتا ہمیں کمرہ تبدیل کروا دیا گیا۔ اس پریشانی سےنجات ملی اور ہم تھکے ہارے سونے کیلئے جلد لیٹ گئےکہ صبح سویرے پھر سفرشروع کرنا تھا ۔۔ لیکن ابھی ایک اور مشکل ہماری منتظر تھی۔
ہماری نیند ابھی کچھ گہری ہوئی ہی تھی کہ نصف شب کے قریب ہمارے چہروں پر فلیش لائیٹ کے جھماکے پڑنا شروع ہوئے۔ بہت دور کہیں آسمان پر بجلی کڑکتی تھی کہ جس کی چمک ہمارے کمرے کی کھڑکی کے راستے ہمارے چہروں پر پڑتی تھی۔ دور سےنظر آنے والی یہ چمک تیزی سے بڑھتی گئی ۔ بجلی کی کڑک کے ساتھ ساتھ بادلوں کی گرج بھی شروع ہو گئی۔دیکھتے ہی دیکھتے ایسا محسوس ہوا کہ یہ بجلی ہماری کھڑکی کے عین باہر کڑکتی ہو اور اس کی چمک کھڑکی سےہو کر ہمارے کمرے میں کودتی ہو ۔ آسمانی بجلی کے زوردار کڑاکے اور پھر جتنی زوردار  کڑک ،اتنی ہی خوفناک گرج کہ گڑگڑاہٹ سے ہمارا کمرہ لرزتا تھا۔ میں نے اٹھ کر کمرے کے پردے برابر کر دئیے کہ بجلی کی تیز چمک ہماری آنکھوں پر نہ پڑے۔ اس طوفانی گرج چمک کے ساتھ اچانک ہی تیزہوائوں کے جھکڑ بھی شامل ہو گئے ۔ کھڑکی کی جالی سے در آنے والے یہ تیز جھکڑ دبیز پردوں کو بری  طرح لہراتے تھے۔ اچھی بات صرف یہ تھی کہ خوشگوار ٹھبڈک بھی اپنے ساتھ اندر لاتے تھے اور کبھی کبھار پانی کےننھے منے، ٹھنڈے ٹھنڈےباریک قطرے بھی ہمارے چہروں تک پہنچا دیتے تھے۔ ہم سفراس گرج چمک سےبچنے کیلئے اپنا اسکارف اچھی طرح کانوں اور آنکھوں پر لپیٹ کر سونے کی بھر پور کوشش میں مصروف تھی۔میں بار بار اٹھ کر کھڑکی کی طرف جاتا تھا اور جاگتا تھا کہ جس قدر زور کی گرج چمک اور ہوا کے جھکڑ ہیں ، اگر ایسی ہی طوفانی اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی تو کھڑکی کے شیشے بھی فوری طور پر بند کرنا ہوں گے ورنہ ہوا کے ان طوفانی جھکڑوں کے ساتھ ساتھ پانی کی تیز بوچھاڑ بھی ہمارے بستر تک آ سکتی تھی۔
یہ فکر الگ لاحق تھی کہ صبح سویرے ہمیں شاہراہ قراقرم پر اپنی اگلی منزلوں کیلئے روانہ ہونا تھا۔ گرج چمک کایہ طوفان تھا کہ کسی طور تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ میری نیند اڑ چکی تھی اور میں انہی سوچوں میں غرق بستر پرلیٹا کھڑکی کی طرف تکتا تھا۔ تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد یہ طوفان جتنی سرعت سے آیا تھا اتنی ہی تیزی سے تھمناشروع ہو گیا۔ میں دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتا تھا کہ یہ مانسہرہ میں ٹہر ا نہیں اور سب سے بڑھ کریہ کہ بادل صرف گرج کر نکل گئے برسے بالکل بھی نہیں۔ مانسہرہ میں یہ محاورہ حرف بحرف درست ثابت ہوا کہ جوگرجتے ہیں وہ برستے نہیں ورنہ عام طور پر تو ہم نے جب بھی انہیں شدت سے گرجتے دیکھا تو زور سے برستے بھی دیکھا۔شاید ہوا کے وہ تیز جھکڑ انہیں برسنے سے پہلے ہی اڑا کر کہیں دور لے گئے۔ جھکڑ جتنے تیز تھے اتنے ہی مہربان بھی تھے۔ یہ بھی ان جھکڑوں کی مہربانی تھی کہ ہمارے کمرے میں خوشگوار ٹھنڈک بھر گئے تھے۔رات شاید اپنے آخری پہر میں داخل ہو تی تھی جب میری آنکھیں گزرے ہوئے دن کی طویل تھکن سے بوجھل ہوتی تھیں اور میں چپکے چپکے نیند کی آغوش میں اترتا تھا۔